نظام تعلیم اور عمران خان
نہ میں کوئی ماہر تعلیم ہوں، اور نہ ہی سوشیالوجسٹ؛ اس کے باوجود تعلیمی نظام اور معاشرے کے بنیادی پہلوؤں پر بات کرنا بطور تعلیم یافتہ انسان میری اولین ذمہ داری ہے۔ آج پاکستانی نظام تعلیم کے حوالےسے کچھ تلخ حقائق بتانے کی کوشش کروں گا۔ پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام سچائی، انسانیت، محبت، انفرادیت اور بغاوت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہ تعلیمی نظام نہیں ہے۔ اس نام نہاد تعلیمی نظام کا ڈھانچا، اصول اور نظریات انسانیت اور محبت کے دشمن ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ موجودہ نام نہاد تعلیمی نظام کی غیر صحت مندانہ رویوں کی وجہ سے پامال ہے؛ اس لئے ہم اس دنیا کے اچھے شہری اور انسان نہیں بن سکے۔
پاکستانی معاشرے اور استاد کے درمیان جو تعلق بنا دیا گیا ہے، وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ہمارے معاشرے میں استاد کی اہمیت ایک غلام کی سی ہے اور معاشرہ اس استاد کا آقا اور مالک ہے۔ معاشرہ جو چاہ رہا ہے وہی کچھ استاد کر رہا ہے۔ معاشرے نے کہا کہ استاد شاگردوں میں پرانی زہر آلود روایات اور قدیمی تعصبات کو بڑھاوا دے اور استاد وہی کچھ کررہا ہے۔ استاد شاگردوں میں دشمنی کے فلسفے کو انڈیل رہا ہے۔ انہیں مکار، عیار، جھوٹا اور متعصب بنا رہا ہے اور یہی اس ملک کا تعلیمی نظام ہے۔
استاد پرانی نسل کی بیماریاں نئی نسل میں منتقل کرتا جا رہا ہے اور یہی اس کی اور معاشرے کی ضرورت ہے۔اس تعلیمی نظام میں اندھے نظریات کوٹ کوٹ کر بھر دیئے گئے ہیں۔ معاشرہ، ریاست اور اسٹیبلش منٹ ان روائیتی نظریات کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، کیوں کہ یہ مر گئے تو اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ، ریاست اور اسٹیبلش منٹ کی بھی موت واقع ہو جائے گی۔
ایک وہابی باپ اپنے بیٹے کو وہابی دیکھنا چاہتا ہے؛ ایک بریلوی باپ اپنے بیٹے کو بریلوی دیکھنا چاہتا ہے؛ ایک سیکولر، لبرل یا کمیونسٹ باپ اپنے بیٹے کو بھی لبرل، سیکولر یا کمیونسٹ دیکھنے کا خواہش مند ہے اور یہی اس تعلیمی نظام کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔ والدین یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ویسے ہی پرورش پائیں، جیسے وہ چاہتے ہیں؛ جیسے معاشرہ چاہتا ہے اور جیسے ان کے مذہبی رہنما چاہتے ہیں۔ پرانی نسل کی متعصبانہ روایات نئی نسل میں منتقل کرنے کا نام پاکستان کا نظام تعلیم ہے۔
دماغی اور روحانی حوالے سے ہم ذہنی مریض ہیں۔ جب تک بچے کے نازک اور حساس دماغ پر روائتی نظریات و خیالات کا بوجھ رہے گا، اس کا دماغ روحانی اور دماغی نشوونما سے محروم رہے گا۔ یہ کیسا تعلیمی نظام ہے جہاں معصوم سے انسانی دماغ پر سیکڑوں سالہ قدیمی تہذیب و کلچر کا بوجھ ہے؟ بچے کو اس تعلیمی نظام نے انسان سے کچھ اور بنا دیا ہے۔ بچے کے انفرادی شعور اور بصیرت کو کچلنے والے اس تعلیمی نظام میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔
اس تعلیمی نظام میں بچوں پر یہ شرائط لاگو کر دی گئی ہیں، کہ وہ اس طرح بنیں اور اس طرح نہ بنیں۔ پاکستان میں دماغی غربت کے پیچھے اس تعلیمی نظام کا ہاتھ ہے۔ ایسے تعلیمی نظام کے بارے میں کیا کہنا چاہیے، جہاں سلمان تاثیر قتل ہوجائے تو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اسٹوڈنٹس مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔جہاں انتہا پسند عناصر ہیرو ہوں اور جہاں اقلیتی انسانوں کے قتل عام پر فخر کیا جاتا ہو۔ پاکستان میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور تشدد کا اصل ذمہ دار یہی تعلیمی نظام ہے۔
ہمارا تعلیمی نظام حال و مستقبل کی بنیادوں پر تعمیر نہیں کیا گیا۔ تخلیقی سرگرمیاں وہاں جنم لیتی ہیں جہاں تعلیم نظام کی بنیاد حال و مستقبل پر رکھی گئی ہو؛ ماضی مرگیا دفن ہو گیا لیکن ہم اس ماضی کی لاش کو بچوں کے دماغوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ان بچوں کو آئیڈیل کہا جاتا ہے، جو متعصبانہ خیالات کے غلام اور پیرو کار بنے ہوئے ہیں اور وہ جو سوال کرتے ہیں اور اپنا سچ اور حقیقت خود تلاش کرتے ہیں، ان کو سرکش اور گناہ گار باغی کہا جاتا ہے۔ قندیل بلوچ، سبین محمود، خرم زکی جیسے انسانوں کے قتل کا ذمہ دار پاکستان کا تعلیمی نظام ہے۔
استاد کا مطلب ہے وہ اپنے شاگردوں میں سوالات اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرے؛ ان میں محبت اور انسانیت کا پرچار کرے لیکن اس تعلیمی نظام کی تعمیر اس طرح کی گئی ہے کہ محبت اور انسانیت کے خلاف پروپگنڈہ کیا جائے؛ نفرت کو ہوا دی جائے؛ جنگ و جدل کو انسانی زندگی کا مقصد بنایا جائے۔ ایسے میں محبت اور انسانیت کیسے ممکن ہے؟
بدقسمتی سے یہ جہالت کی فیکٹریاں بڑھتی جارہی ہیں اور اسی وجہ سے انتہا پسندی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ہمارے تعلیمی نظام کی بنیاد لالچ اور خوف ہے۔ اگر ہمیں انسانیت کے ساتھ محبت ہے اور ہم ایک نئی دنیا پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پھر نئے کلچر اور نئے انسان کو پیدا کرنا ہو گا اور وہ نیا انسان تبھی پیدا ہو گا جب نظام تعلیم کی بنیاد جدید انسانی شعورپر رکھی جائے گی۔
پاکستان کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے، جہاں بچے سوالات کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں۔ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ اپنا اپنا سچ خود تلاش کریں۔ ایسا تعلیم نظام ہو کہ جب بچوں کو کہا جائے کہ وہ بھارت کے انسانوں سے نفرت کریں اور ان سے جنگ کریں تو بچے کہیں کیوں وہ ایسا کیوں کریں؟
عمران خان صاحب بطور وزیر اعظم نیا پاکستان بنانے جارہے ہیں۔ اگر واقعی انہوں نے نیا پاکستان بنانا ہے اور اس معاشرے میں تبدیلی پیدا کرنی ہے تو انہیں جدید نظام تعلیم کا نفاذ کرنا ہو گا۔ ایسا تعلیمی نظام جس سے پاکستان میں نفرت، تعصب، دشمنی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہو اور اس کی جگہ پاکستان میں انسانیت اور محبت پروان چڑھے۔ امید ہے نئے پاکستان میں نیا جدید تعلیمی نظام دیکھنے کو ملے گا۔


