کہنی تک کا مصافحہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افریقی کہاوت ہے ” جب مصافحہ کُہنی تک پہنچ جائے تو جان لینا چاہیے، و ہ مصافحہ نہیں رہا ۔ ” اللہ نے انسان کو کمال کا تخلیق کیا ہے، دوسرے کا ذرا سا خلاف معمول اقدام اُسے چوکنّا کر دیتا ہے، اندر کہیں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں، دماغ کے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں۔ اِس کو چَھٹی حِس کہیں یا کوئی بھی نام دےلیں، اِک انڈی کیشن ہونے لگتی ہے کہ کہیں کچھ مختلف ہونے جا رہا ہے۔ درجنوں امیدوار، جو کچھ عرصہ پہلے تک نون لیگ کے ٹکٹ کے لیے مَرے جا رہے تھے، جب ٹکٹ پھینک کر اچانک کہیں اور پرواز کر گئےتو حیرانی تو بنتی تھی، بعد میں وضاحتیں بھی آئیں لیکن شک ، مچھلی کے کانٹے کی طرح ہوتا ہے، جو ایک بار حلق میں پھنس جائے، تو پھر اُس کا نکلنا یا نگلنا آسان نہیں ہوتا۔

ہماری عدالتوں میں لاکھوں سائلین سال ہا سال سے قطار میںکھڑے انصاف کے منتظر ہیں مگر جواز پیش کیا جاتاہے،مقدمات کاہمالیہ بروقت انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہے، لیکن اگر مُنصفوں کے ہاتھ کوئی سیاسی نوعیت کا مقدمہ لگ جائےیا اس بابرکت کام میں، وہ بہ صد شوق خود ہاتھ ڈال لیں تو پھر سماعتوں اور پیشیوں کی رفتار دیکھنے والی ہوتی ہے۔ عدالتی نظام کے مُردہ گھوڑے میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے، ایسے کھلونے کی طرح جس میں اچانک چابی بھر دی گئی ہو۔ ایسے میں کون ہوگا، جو خود کو حیرت کے سمندر میں غوطےکھانے سے بچا پائے گا، اندر کہیں گھنٹیاں تو بجیں گی ؟

ایک ایسی پٹیشن، جِسے بے کار اور ناقابل سماعت قرار دے کر ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہو، مگر کچھ عرصے بعد وہی پٹیشن اِس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے تو عوام کےذہنوں میں سوالات کے جھکّڑ تو چلیں گے، لوگ سوچنے پر مجبور تو ہوں گےکہ آخر ہمارے مُنصفوں میں شیروں کا سا جذبہ ہمیشہ شیروانیوں کے خلاف ہی کیوں بیدار ہوتا ہے؟ یہاں ایسے کمانڈو بھی گزرےہیں، جن کی آج تک عدالتیں راہ تک رہی ہیں۔ جب ایک جیسے مقدمے میں ایک شخص نااہل، خائن اور دھوکا باز، جب کہ دوسرا صادق اور امین قرار پائے تو ترازو کےغیر متوازن ہونے کے الزامات تو لگیں گے۔ خود پٹیشنر فیصلوں کو کمزور قرار دے گا تو لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کے ناگ ڈنک تو ماریں گے۔

ریاستی اداروں کا احترام واجب لیکن جب صاف نظر آرہا ہو کہ ایک پارٹی کو فرشتہ صفتوں کا گروہ اور دوسری کو بدعنوانوں اور بھوتوں کا ٹولہ سمجھا جا رہا ہے، تو غیر جانب داری کی وضاحتوں اور قسموں پر کون یقین کرے گا؟آ پ کسی کو بھی دھونس، دھمکی کی چابک سے زیادہ دیر تک نہیں ہانک سکتے ، گردن پر گھٹنا رکھ کرکسی سے ایک آدھ بات تو منوائی جاسکتی ہے لیکن اُسے مستقل مطیع اور غلام نہیں بنایا جاسکتا۔ توہینِ عدالت کے اختیارات کو دنیا بھر کی عدالتیں استعمال کرنے سے پہلے دس بار سوچتی ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ اختیار فیشن کی طرح عام ہے ،ایسے میں قانون کے کند آلے کا زخم خوردہ شخص تکلیف سے چیخنے لگے کہ دال میں کچھ کالا نہیں، پوری دال ہی کالی ہے تو آپ اور مَیں اُس کی زبان نہیں پکڑ سکتے، نہ اُسےمحض ہذیان یا اداروں کو کمزور قرار دینے کی سازش قرار دے کر مسترد کیا جاسکتا ہے۔

ایک لیڈر کے بقول بارہ جولائی کو وہ “گدھوں کے گڑھ” میں بےخوف گھومتا ہے،لیکن مجال ہے کسی گدھے نےاسے دولتّی رسید کی ہو بلکہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پی رہے تھے، مگر اگلے ہی دن شہر کی فضا بالکل بدل گئی ، یوں محسوس ہونے لگا گویا سن 65 کی طرح ناپاک بھارتی فوجیوں نے ایک بار پھر لاہور میں ناشتاکرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ ہمارا وہ میڈیا، جو کسی نیم پاگل شخص کے کھمبے پر چڑھنے کی براہ راست کوریج کرنا نہیں بھولتا، اُسےاچانک نظر آنا بند ہو گیا۔ ان حالات میں لوگوں کو کچھ نہ کچھ گڑبڑ کا احساس تو ہوگا۔ سوال تو اُٹھیں گےکہ یہ سب کیوں اور کس نے کیا ؟ بلکہ ایسے ماحول میں بیدار مغزوں کو تو چھوڑیں،خوابیدہ حِسوں والے بھی جاگ اٹھتے ہیں ۔دماغ کے خشک سوتوں میں بھی سوچوں کے نئے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں ۔

کوئی مفرور گرفتاری سے بچنے کے لیے بھاگ رہا ہوتا تو جگہ جگہ ناکے سمجھ میں آتے لیکن ایک شخص خود گرفتاری دینے آرہا تھا ،اُس کی آمد پر مورچہ بندی کی منطق کس کےبھیجے میں آئے گی؟ پھر اس ساری مشق کا فائدہ کیا ہوا…؟ یہی ناں کہ عوام پر راز کُھل گیا کہ ہمارے یہاں سیاسی، صحافتی اور عدالتی آزادیاں اتنی بھی نہیں، جتنی دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے نگرانوں اور پاسبانوں کے غیر جانب داری کے اونچے سُر کسی نوآموز، لے نواز کی طرح ابھی کچّےہیں ۔

دوسری جانب ایک جماعت ایسی ہے، ڈیڑھ دو سال سے جس کی ناز برداری نئی نویلی دلہنوں کو بھی مات دے رہی ہے، جس طرح ایک جماعت کو ہاتھ پائوں باندھ کر انتخابی اکھاڑے میں پھینکا گیا چیونٹی سی بینائی رکھنے والا بھی یہ سب دیکھ رہا تھا ، اب ایسے میں الیکشن کمیشن کے غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کرانے کے دعوےکسی بھی حکیمی چورن سے کیسے ہضم ہوں گے؟اللہ کرے جو ہوگیا اب آئندہ نہ ہو، اگر یہی سب چلتا رہا تو کون تسلیم کرے گا کہ ریاست نام کی ماں اپنی تمام اولاد کو ایک ہی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ؟

وسطی پنجاب سے تعلق کے سبب، فوج سے محبت اور احترام ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑتاہے۔ وطن کے سجیلے جوانوں سے پیار کی خوشبو اس زرخیز مٹی میں رَچی بَسی ہے، لیکن ہمیں یہ ادراک بھی ہونا چاہیے کہ سیاسی وابستگی اور عصبیت بڑی بے رحم چیزیں ہے، جس کےسامنے بڑے سے بڑا جذبہ ماند پڑ نے لگتاہے ، یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر دنیا کے ہر جمہوری ملک کی فوج اور عدلیہ اپنا دامن سیاسی گرد وغبار سے پاک رکھتی ہے ،ہمیں یاد رکھنا چاہیے ، مقدس کہلانے والے اداروں کے بارے میں عوام کے شیشۂ دل میں بال آنے کا مطلب ملک میں ایک نئے وبال کو دعوت دینا ہوگا، بلوچستان میں ہم پہلے ہی ہم اس کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے، بل کھاتی نہروںاور لہلہاتی فصلوں کی یہ سرزمین محافظوں اور منصفوں کے احترام میںکمی نہیں کرے گی، لیکن درخواست صرف اتنی سی ہے، سیاسی جنگ، سیاست دانوں ہی کو لڑنے دی جائے، مصافحہ ہاتھ تک رہے گا، تو ہی مصافحہ کہلائے گا ۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •