عمران خان کی اگلی حقیقی آزمائش کیا ہو گی؟ سہیل وڑائچ تجزیہ کرتے ہیں


وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے درست انتخاب، عمران خان کی حقیقی آزمائش

وزارت اعلیٰ پنجاب کیلئے درست شخصیت کا انتخاب عمران خان کے سیاسی تدبر کی حقیقی آزمائش ہے جو ملک کا سب بڑا اور سیاسی طور پر حساس صوبہ ہے۔ ان کے انتخاب سے اندازہ ہو گا کہ پنجاب کے بارے میں تحریک انصاف کی مستقبل میں کیا منصوبہ بندی ہے۔ اندرون پارٹی مختلف پریشر گروپس کی وجہ سے امیدوار پر کوئی سمجھوتہ کر لیا گیا تو مستقبل میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
تحریک انصاف کے بنچوں کی ہم پلہ مضبوط اپوزیشن کے ساتھ مجوزہ وزیراعلیٰ کے لئے حکومت چلانا آسان نہ ہو گا۔ معمولی اکثریت کے ساتھ نظام میں ذہین، چالاک، دانشمند اور اچھی ساکھ کا حامل ہی کامیاب ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کو کوئی مستند چہرہ سامنے لانے کی ضرورت ہے جو علامتی کامیابی کا پیغام کارکنوں کو دے سکے۔ زیر غور ناموں میں عبدالعلیم خان، میجر (ر) طاہر صادق، چوہدری فواد حسین، رائے مرتضیٰ اقبال اور اسلم اقبال کے نام شامل ہیں۔ ان میں سرفہرست تحریک انصاف وسطی پنجاب عبدالعلیم خان کا نام ہے۔ وہ گزشتہ چار سال سے پنجاب میں تحریک انصاف کی مہم چلانے میں نمایاں رہے۔ جس کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کاروبار میں انہیں بھاری نقصانات بھی برداشت کرنے پڑے۔ انہوں نے پارٹی کی خاطر کروڑوں روپے خرچ کئے۔ لاہور میں ان کی رہائش گاہ اور دفتر گزشتہ کئی برسوں سے پارٹی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہے۔ انہیں عمران خان کا اعتماد اور جہانگیر ترین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ تاہم نیب میں ان کے مقدمات ہیں جن سے وہ بری نہیں ہوئے۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب پرویز مشرف کابینہ کے نصف ارکان نیب مقدمات میں ملوث ہیں تو پھر عبدالعلیم خان کو موقع کیوں نہیں دیا جاتا۔ وہ چٹان کی مانند عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پنجاب کے قلب میں شریفوں کو شکست دینے کی ان ہی میں صلاحیت ہے۔ ان کے خیال میں کسی اور کے انتخاب سے برسوں کی محنت اکارت جائے گی۔ تب مسلم لیگ (ن) کو تحریک انصاف کے ہاتھوں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ عبدالعلیم خان تحریک انصاف کے واحد امیدوار ہیں جو چوہدری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ میں پنجاب کے وزیر رہے۔ وہ کاکازئی پٹھان ہیں۔ لیکن ان کی شادی جٹ خاندان میں ہوئی اس طرح ان کا تعلق دونوں برادریوں سے ہے، جہاں تک عبدالعلیم خان پر الزامات کا تعلق ہے تو صفائی کے لئے پہلے نوٹس دیا جاتا ہے اور پھر تحقیقات شروع ہوتی ہیں۔ محض نوٹس دینے یا تحقیقات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فرد جرم کا مرتکب بھی ہوا ہے۔
جب تک تحقیقات انجام کو نہ پہنچ جائے یا اس دوران کوئی بڑی بات سامنے نہ آجائے، قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پارٹی میں اندر کے بھیدی کی حیثیت سے ’’گیم چنجر‘‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر انہوں نے خود کو کاروباری مفادات سے علیحدہ رکھا۔ نیب کی جانب سے انہیں دیئے جانے والے حالیہ نوٹس کا وقت حیران کن ہے لگتا ہے طاقت ور حلقوں کی جانب سے یہ ریڈ سگنل ہو۔ ابتداء میں چند قوتوں نے ان کی حمایت کی تھی لیکن اب ان کی قسمت بے یقینی کا شکار ہے۔
وزارت اعلیٰ کے اُمیدواروں میں ایک اور بڑا نام چوہدری فواد حسین کا ہے۔ جو ایک وینس جٹ ہیں۔ نسبتاً نوجوان اور توانا چوہدری فواد حسین پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ لیکن انہوں نے نو عمری ہی میں گورنر ہائوس پنجاب میں رہتے ہوئے سیاست کا مزہ چکھا۔ ان کے چچا چوہدری الطاف حسین طاقت ور گورنر پنجاب تھے۔ دوسرے چچا چوہدری افتخار حسین ایک مضبوط چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ رہے۔ انہیں میڈیا کی بڑی سمجھ بوجھ ہے۔ پہلے پیپلز پارٹی کا میڈیا سیل سنبھالا اور بعدازاں مہارت سے تحریک انصاف کا میڈیا چلا رہے ہیں۔ ترجمان کی حیثیت سے وہ پارٹی کا چہرہ ہیں۔ ان کی کم عمری وزارت اعلیٰ کی بھار ی ذمہ داری سے استثنیٰ کی وجہ بن سکتی ہے لیکن ان کے پاس نت نئے تخیل ہیں اور وہ پنجاب میں تبدیلی کا محرک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر پنجاب کے مختلف خطوں میں کارکردگی کی بنیاد پر موقع بنتا ہے تو شمالی پنجاب نوازے جانے کا حقدار ہے۔ تحریک انصاف نے پوٹھوہار سے قومی اسمبلی کی 13میں سے 11نشستیں اور پنجاب اسمبلی کی 27میں سے 22نشستیں جیتیں۔
اگر تحریک انصاف علاقائی سیاست کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے تو میجر (ر) طاہر صادق واضح انتخاب ہوں گے۔ ان کا تعلق اٹک کے کھتر خاندان سے ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کھتر کی ایک اور شاخ نے تقسیم سے قبل پنجاب پر حکمرانی کی۔ سر سکندر حیات نے 1947ء سے قبل پنجاب پر حکمرانی کی وہ بھی کھتر تھے۔ طاہر صادق کی شادی چوہدری پرویز الٰہی کی بہن سے ہوئی جو جٹ وڑائچ ہیں لیکن تحریک انصاف میں بغیر مشورے کے ان کی شمولیت سے چوہدری خاندان خوش نہیں ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں طاہرصادق نے قومی اسمبلی کی دو اورپنجاب اسمبلی کی ایک نشست جیتیں۔ تقریباً تمام پرانے سیاست دانوں کی طرح طاہر صادق پر بھی محکمہ جنگلات کے مقدمات ہیں لیکن مقامی سیاست میں مقدمات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ تحریک انصاف میں وہ نووارد ہیں یہ ان کی کمزوری بن سکتی ہے۔ وہ پرجوش اورمحنتی ہیں۔ ان کا انتخاب طاقت ور چوہدریوں کو بے اثر کر سکتا ہے۔ لیکن اس سے شریف برادران مزید محدود ہو جائیں گے۔
بشکریہ؛ روزنامہ جنگ
Facebook Comments HS