صدر ممنون نواز شریف سے ملاقات کیوں نہ کر سکے؟


سیاسی منظر نامہ، صدر ممنون کو نواز شریف سے ملاقات نہ ہونیکا ملال

صدر ممنون حسین کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی ایک خبر سیاسی منظر نامے میں تہلکہ آمیز ثابت ہوئی جس میں بتایا گیا کہ صدر مملکت کوشش کےباوجود پمز میں میاں نوازشریف کی عیادت کےلئے نہ جاسکے۔ میاں نوازشریف کو عارضہ قلب کی وجہ سے تین روز کے لئے جیل سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں منتقل کیاگیا تھا، سخت سکیورٹی اور ناکہ بندی کے باعث ان تین دنوں میں عام مریضوں اور ان کے لواحقین پر کیا گزری یہ الگ داستان ہے ، تاہم صدر ممنون حسین کوملال ہے کہ ان کی میاں نوازشریف سے ملاقات نہ ہوسکی۔ میاں نوازشریف سے اڈیالہ جیل میں تین گورنرز رفیق رجوانہ، محمد زبیر اور اقبال ظفر جھگڑا کی ملاقات کے بعد صدر ممنون حسین نے میاں صاحب سے ملاقات کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے لئے تمام تیاریاں بھی مکمل ہوگئی تھیں لیکن عین آخری لمحے پر بریکنگ نیوز نے ملاقات کی کہانی ختم کردی جس میں بتایا گیا کہ میاں نوازشریف ہسپتال سے جیل واپس جانے پر مصر ہیں۔

 

یہ میاں صاحب کا اصرار تھا یا صدر کی ملاقات کا پروگرام ختم کرنے کا وسیلہ، ابھی یہ طے نہیں کہ صدر ممنون حسین میاں صاحب سے ملنے جیل بھی جاسکتے ہیں؟ حکومتی ذرائع تصدیق کررہے ہیں کہ صدر کے ایک سزا یافتہ شخص سے ملنے سے کئی مسائل پیدا ہوسکتے تھے۔ صدرمملکت کو آئین نے کسی بھی قیدی کی کوئی بھی سزا معاف کرنے کا اختیار دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 45 میں کہاگیا کہ صدر مملکت کسی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی کی دی ہوئی سزا معاف کرنے،ملتوی کرنے اورکچھ عرصے کےلئےروکنے اور اس میں تخفیف کرنے، اسے معطل یا تبدیل کرسکتا ہے۔ صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل 48(1) کے ذریعے اپنے فرائض کی ادائیگی میں حکومت کی ایڈوائس پرعمل کرنے کا پابند کیاگیا ہے، ماضی میں احتساب عدالت کی سزائیں معاف کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔

https://jang.com.pk/news/529136
Facebook Comments HS