سراج الحق وکٹ کے بالکل سامنے سے کھیل رہے ہیں


جب سے مولانا فضل رحمن صاحب نے ریاستی اداروں کی طاقت سے یک طرفہ انتخابات کو (بظاہر) متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے، لیکن حقیقت میں (ذاتی طور) مسترد کردیا اور تحریک چلانے کا اعلان کیا، مگر باوجود متحدہ مجلس عمل کے صدر کے فیصلے کے سراج الحق صاحب نے اسمبلیوں میں جانے کا اعلان کیا تو ہم جیسے ظاہری چیزوں کو دیکھنے والے ششدر رہ گئے کہ یہ سراج صاحب تو عمران خان کے اس الزام کو سچ ثابت کررہے ہیں کہ وہ ہمیشہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں۔

لیکن منہ میں شکر ہو سراج صاحب کے کہ انہوں نے ہم جیسے عام آدمی کو بہتر طور پر سمجھانے والے پلیٹ فارم ”سوشل میڈیا“ کے ذریعے اس ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں وکٹ کے دونوں طرف کے کھیل والے اس ”فارمولے“ کے بنیادی تصور سے آگاہ کیا۔

وہ مانتے ہیں بھی اور جانتے بھی ہیں کہ کس طرح بھرپور لابنگ کرکے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس قوم پر مسلط کیا گیا۔ وہ جانتے ہیں کہ انتخابات کے دن چھ بجے کے بعد کیا ہوا، جس پر ساری سیاسی پارٹیاں سر پیٹ رہی ہیں۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کو الیکشن میں کمزور کرانے کے لئے کس کس کو کھڑا کیا گیا۔

لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ایسی صورت حال میں ”وکٹ کے ایک طرف کھیلیں گے“ تو اکہتر والا وہ ”ادھر ہم ادھر تم“ والا معاملہ ہوجائے گا۔ اس لئے وہ مولانا فضل رحمن کے اس موقف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں کہ ریاستی اداروں نے ان پر ایک سیاسی پارٹی کو مسلط کیا، مگر وہ اس کی تحریک چلانے اور انتخابات کو کالعدم قرار دینے والے فیصلے سے اس لئے متفق نہیں کہ وہ ملک کے ایک بڑے حصے کو کھونے کے اس دکھ کو محسوس کررہے ہیں اور مزید ٹکڑے کرکے کسی کی جھولی میں دینا نہیں چاہتے۔

انتخابات کالعدم قرار دے کر تحریک شروع کرنے کا اعلان جو متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل رحمان صاحب نے متحدہ مجلس عمل کا موقف ظاہر کرکے کیا، لیکن حقیقت میں وہ ان کا ذاتی موقف تھا جو انہوں نے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا، جس کا فیصلہ ایم ایم اے کے سترہ گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں ہوا ہی نہیں تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ سراج الحق صاحب جماعت اسلامی کو ایک نظریے کی جنگ سمجھتے ہیں اور اسے ایک ناقابل شکست جمہوری تحریک سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ ملک کے عظیم تر مفاد میں وکٹ کے دونوں طرف اپنی طاقت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا مشن تو عمران خان خود پورا کرنے جارہا ہے، چاہے وہ ملکی اداروں کی طاقت سے ہو یا عوام کے ووٹوں کی طاقت سے، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ ”آم کھانے سے غرض ہونا چاہیے، نہ کہ پیڑ گننے سے“ آسان الفاظ میں ملکی ترقی سے غرض ہونا چاہیے، نہ کہ ووٹ گننے سے۔

سراج الحق صاحب چاہتے ہیں کہ ملک میں ”مدینہ جیسی ریاست“ قائم ہو، جو پی ٹی آئی بھی منشور ہے۔ وہ اس ملک کے بے روزگاروں کے لئے ایک کروڑ نوکریاں چاہتے ہیں، جوکہ وہ بھی پی ٹی آئی کا منشور ہے۔ وہ اس ملک کے فٹ پاتھوں پر سونے والے پچاس لاکھ گھرانوں کے لئے گھر چاہتے ہیں، وہ بھی پی ٹی آئی کا منشور ہے۔ وہ وطن عزیز کو آئی ایم ایف اور دوسرے اداروں کے قرضوں کے چنگل سے آزاد کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی تو پی ٹی آئی کا منشور ہے۔

اس لئے وہ اسمبلی میں جائیں گے، حلف اٹھائیں گے اور اس وقت تک ان کو ادھر ادھر کی ہانکنے نہیں دیں گے، جب تک مندرجہ بالا منشور کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا۔ وہ وکٹ کے بالکل سامنے سے کھیلیں گے اور بتائیں گے کہ وہ اپنے پسندیدہ اور متفقہ منشور پر کس طرح عمل کرواتے ہیں، اگر نہیں تو کس طرح کلین بولڈ کریں گے۔

اس لئے بندہ ناچیز کی بشمول مولانا فضل رحمان اور تمام سیاسی جماعتوں سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ اس کھیل کو اب متنازعہ بناکر گراؤنڈ کو ویران نہ کریں، بلکہ جم کر کھیلیں، بشرطیکہ آپ عمران خان کے منشور سے اتفاق کرتے ہیں تو!

Facebook Comments HS