پاکستان ترقی کے لئے چینی ماڈل دیکھے یا کوئی دوسرا؟


عمران خان نے اپنے خطبہ فتح میں اپنی ٹیمیں چین بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے کہ ادھر سے غربت اور کرپشن کے خاتمے کے لئے نسخہ لے کر آئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے لئے چین ایک ماڈل کے طور پر کام کر سکتا ہے؟ اس کا نظامِ حکومت پاکستان سے بہت مختلف ہے۔ معاشرہ مختلف تر ہے۔ کیا ہمارے پاس اس سے بہتر رول ماڈل موجود ہے؟ ترقی یافتہ دنیا سے مثالیں تلاش کرنا تو مناسب نہیں ہو گا کیونکہ ان کا معاشرہ صدیوں کا سفر طے کر کے اس مقام تک پہنچا ہے۔ ہمارے لئے پاکستان جیسا ہی ایک ملک بہتر رہے گا۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1960 میں پاکستان کی ”جی ڈی پی پر کیپیٹا“ 82 ڈالر تھی، چین کی 89 ڈالر اور ترکی کی 509 ڈالر۔ 1971 میں پاکستان کی 177، چین کی 118 اور ترکی کی 455۔ سنہ 1988 میں افغان جنگ سے ڈالر سمیٹنے کے بعد ہماری جی ڈی پی فی کیپیٹا 379، چین کی 283 اور ترکی کی 1745 ہو گئی۔ ترکی میں 1989 میں ترگت اوزال صدر بنے۔ انہوں نے ترکی میں وہ ریفارمز شروع کیں جو ترک معیشت کے لئے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے 1980 کی دہائی میں چین کی معاشی پالیسی تبدیل کرنی شروع کی۔ اس دوران ہم افغان جنگ کے ذریعے ڈالر کے ذخائر میں اضافہ کرنے میں مصروف تھے۔

نتیجہ یہ کہ سنہ 2000 میں پاکستان کی فی کس جی ڈی پی 533 تھی، چین کی 959 اور ترکی کی 4300۔ اس زمانے میں جنگ زدہ اور سیاسی عدم استحکام والے ممالک کی اوسط جی ڈی پی 633 ڈالر تھی۔

سنہ 2002 میں ترکی میں رجب طیب ایردوان اور عبداللہ گل کی آک پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔ 2001 میں ترکی کی جی ڈی پی فی نفس گر کر 3119 رہ گئی تھی۔ وہ 2002 میں بڑھ کر 3660، سنہ 2005 میں بڑھ کر 7384 اور 2008 میں 10850 ڈالر فی نفس ہو چکی تھی۔ اس عرصے میں پاکستان کی فی نفس جی ڈی پی 2002 میں 499، سنہ 2005 میں 711 اور 2008 میں 1039 ہو چکی تھی۔ چین کی 2002 میں 1148، سنہ 2005 میں 1753 اور 2008 میں 3472 تھی۔

چین کا گراف اسی طرح 2017 تک چڑھتا رہا جب اس کی جی ڈی پی فی نفس 8826 ہو گئی۔ لیکن ترکی کو 2009 میں ایک جھٹکا پڑا جب اس کی جی ڈی پی فی نفس 10850 سے گر کر 9036 ہو گئی۔ اس زمانے میں بین الاقوامی مالیاتی بحران وقوع پذیر ہو چکا تھا لیکن ترکی کی معیشت اس سے پہلے ہی خراب ہونا شروع ہو چکی تھی۔ اس کی وجہ آک پارٹی کی حکومت کی برطرفی کا خطرہ تھا۔ ترک فوج اور انتظامیہ میں موجود سیکولر قوتوں نے آئینی سپریم کورٹ کے ذریعے حجاب اور دیگر اسلامی اصلاحات کے ایشو پر آک پارٹی پر پابندی لگانے کی کوشش کی جس سے معیشت کو بڑا نقصان پہنچا۔

اس کے پس منظر میں رجب طیب ایردوان کا فوج اور سیکولر طبقات کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن تھا جسے ارگینیکون کا نام دیا گیا تھا۔ بغاوت کی سازش کے جرم میں ایک بڑی تعداد میں فوجیوں اور سیکولر افسران اور سیاست دانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ تقریباً سوا پانچ سو افراد کو 2009 تک سزا سنائی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں فتح اللہ گولن کے حامی پولیس افسران اور جج پیش پیش تھے۔ سنہ 2016 میں سپریم کورٹ آف اپیلز نے ان کو بری کر دیا کیونکہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا کہ ایسی کوئی بھی سازش وجود رکھتی تھی۔

اس جھٹکے سے سنبھل کر رجب طیب ایردوان کا ترکی اپنی معیشت کو سنہ 2013 میں 12542 فی کس جی ڈی پی تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس سال چین کی فی کس جی ڈی پی 7077 تھی اور پاکستان کی 1272 جبکہ جنگ زدہ اور عدم استحکام کے حامل ممالک کی اوسط جی ڈی پی 1813 تھی۔ پھر 2014 آ گیا۔

سنہ 2014 میں رجب طیب ایردوان نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنی شروع کی۔ گیزی پارک اور دوسرے بڑے مظاہروں کو سامنا کیا۔ عبداللہ گل کو سیاست سے آؤٹ کیا۔ کردوں سے مفاہمت کی جو پالیسی چل رہی تھی اسے ریورس کر کے ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔ شامی جنگ میں بڑے پیمانے پر ترکی کو دھکیلا تاکہ کردوں سے نمٹنے کے لئے مناسب سٹریٹیجک ڈیپتھ مل سکے۔ سیاسی اور صحافتی مخالفین کو ریاستی طاقت سے ٹھکانے لگانا شروع کیا۔

پاپولر پالیٹکس کے نتیجے میں ان کی مقبولیت تو دن بدن زیادہ ہوتی گئی لیکن سیاسی ماحول اور جنگ نے معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ 2014 میں جی ڈی پی فی نفس گر کر 12127 ہوئی، 2015 میں 10984، سنہ 2016 میں 10862 اور سنہ 2017 میں 10540۔ جولائی 2016 میں ترکی میں فوجی بغاوت ہوئی تھی اور اس کے بعد فتح اللہ گولن کی حزمت تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کے کاروباری اثاثے ضبط کیے گئے تھے اور حزمت سے تعلق رکھنے کے الزام میں ہزاروں فوجیوں، ججوں، استادوں، صحافیوں اور تاجروں کو جیل میں ڈالا گیا تھا۔ سنہ 2007 میں ارگینیکون کا جھوٹا مقدمہ بنانے کی ساری ذمہ داری بھی گولن تحریک پر ڈال دی گئی۔ اس بغاوت میں درجنوں اعلی فوجی افسران کو سزا ہوئی۔ یہ سزا اسی ترکی میں ہوئی جو چار مارشل لا سہہ چکا تھا اور اس کے ایک منتخب وزیراعظم کو تختہ دار نصیب ہوا تھا۔

جہاں عمران خان کے لئے رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکی کی خوشحالی کا سفر ایک سبق ہے تو وہیں سیاسی اور علاقائی عدم استحکام کے نتیجے میں معیشت کی گراوٹ بھی اہم ہے۔ ترک سیاست میں فوج کا عمل دخل بہت زیادہ تھا۔ ادھر 1960، سنہ 1971، سنہ 1980 میں براہ راست مارشل لا لگا اور 1997 میں ایک سافٹ مارشل لا کے ذریعے نجم الدین اربکان کی حکومت گرائی گئی۔

آک پارٹی کی حکومت نے 2002 سے 2007 تک فوج سے تصادم سے گریز کیا۔ اس کی بجائے اس نے شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے پر توجہ دی۔ 2001 میں 3119 والی فی کس جی ڈی پی 2008 میں 10850 ہو چکی تھی۔ معیار زندگی میں تین گنا اضافہ کرنے والی حکومت کے پیچھے قوم کھڑی ہوئی اور اسی طاقت نے رجب طیب ایردوان کے نہایت طاقتور مخالفوں کا خاتمہ کیا۔ 2002 میں آک پارٹی کو 34 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2007 کے انتخابات میں اس نے 45 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ 2011 میں 49 فیصد۔ 2015 کے ابتدائی الیکشن میں اسے 40 فیصد اور تین ماہ بعد ہونے والے حتمی الیکشن میں اسے 49 فیصد ووٹ ملے۔ جون 2018 کے انتخابات میں آک پارٹی کے ووٹ گر کر 42 فیصد ہو گئے اور اسے ایک اتحادی پارٹی کی ضرورت پڑ گئی۔

عمران خان کو چین کی بجائے ترکی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اس کے سیاسی اور معاشی حالات ہمارے جیسے ہی رہے ہیں۔ ترکی سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ عوام کی طاقت اگر ساتھ ہو تو لیڈر کے تمام مخالف ہار جاتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ لیکن جب وہی لیڈر قوم کو منقسم کرنے اور عدم استحکام کی راہ پر چلانے لگے تو اس کا تخت ہلنے لگتا ہے۔ عوام کی طاقت پانے کا طریقہ یہی ہے کہ عوام کی زندگی آسان کی جائے اور ان کے معاشی حالت میں نمایاں بہتری لائی جائے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سیاسی استحکام حاصل کریں اور عوام کی زندگی بہتر کرنے کے لئے اپنے پانچ سال صرف کریں۔ ایسا ہوا تو جس طرح آک پارٹی ہی کی طرح وہ بھی اپنے دوسرے الیکشن میں ووٹروں کی پہلے سے بہت زیادہ تعداد کو اپنی طرف کھینچ لیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1074 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar