کیا آپ کا بچہ کام چور ہے؟
اس کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہوپائی ہیں مگر عموما ذہنی امراض کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ جینیاتی اور ماحولیاتی گڑبڑ کا ملا جلا نتیجہ ہوتی ہے۔ کچھ بار کسی دماغی چوٹ کے باعث بھی بچوں میں یہ علامات ظاہر ہوتی دیکھی گئی ہیں۔ عموماتین سے پانچ سال کی عمر کے دوران اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ عموما بہت سی علامات کم ہوجاتی ہیں۔ یہ ہرگز نا سمجھیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بندے کے مسئلے ختم ہوگیا۔ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی نا کسی طرح اپنے مسئلے فکس کرنے کا کوئی نا کوئی طریقہ سیکھ جاتا ہے۔ یا اپنی مسئلے کا کوئی مستقل بہانا ڈھونڈ لیتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ عموما ایسے افراد کو خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کبھی کسی قسم کا نفسیاتی علاج میسر ہی نہیں ہوپاتا۔ مسلسل منفی رویئے سہتے سہتے ان کی شخصیت میں بہت سی ایسی منفی عادتیں آجاتی ہیں جو اس ڈس اورڈر کی علامت نہیں مگر ایک جیسا رویہ سہنے کی وجہ سے اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہیں۔
اس کی تشخیص کے لئے ضروری ہے کہ مندجہر بالا علامات میں سے کم از کم چار سے پانچ بنیادی علامات چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک کسی بچے یا بالغ میں موجود ہوں۔ مرض کی تشخیص کے بعد سب سے پہلے ماہر نفسیات سے رجوع کریں تاکہ اس کا معیاری علاج ممکن ہوسکے۔ ADHDکا علاج عموما بیک وقت دوا اور کاونسلنگ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ دوا اس کی توجہ کی کمی اور بے چین طبیعت پہ قابو پانے میں مدد کرتی ہے جبکہ کاونسلنگ کے ذریعے اسے اپنے کام کرنے کے دلچسپ طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ بالغ افراد جنہیں اوپر موجود مسائل میں سے عموما کا سامنا ہو اس کے لئے فائدہ مند ہوگا کہ نفسیاتی علاج کے ساتھ ساتھ وہ پہلے سے اپنے کام کی پلاننگ کر کے رکھیں اور جو جو کام کرنے ہیں انہیں لسٹ کی صورت میں لکھ لیں۔ ہمیشہ وہی شعبہ کیرئیر کے طور پہ چنیں جس میں دلچسپی ہو اور جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بہتر طور پہ اظہار کر سکیں۔ ڈرائینگ کرنا بھی آپ کو پرسکون رہنے اور یاداشت بہتر کرنے میں مدد گار ہوگا
ایسے افراد کے ساتھ رہنے والے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس شخص کا مسئلہ سمجھ کر اسے اس کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کریں وقت دیں اور کچھ جگہ کمپرومائز کریں۔ نرمی سے برتاؤ کریں اور سیکھنے کے یا سکھانے کے دلچسپ طریقے استعمال کریں۔ کام کو پلان کرنا سکھائیں۔ کام کے دوران باتوں میں نا لگائیں ایک وقت میں بہت ساری ہدایات نا دیں۔
آج کل آپ کو کچھ معلوماتی ویب سائٹس پہ ایسی معلومات بھی ملے گی کہ اٹینشن ڈفیسٹ ہائپر ایکٹوٹی ڈس اورڈر اصل میں کوئی مرض نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پہلے تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے بچوں کو بلا وجہ لیبل کرنا اور ذہنی مریض سمجھنا غلط ہے۔ مگر اصلیت تھوڑا سا ذہن استعمال کر کے واضح ہوجاتی ہے۔ ذہنی امراض کی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بہتر انداز میں درجہ بندی کی جارہی ہے تاکہ انہیں بہتر طور پہ سمجھا جاسکے اور ان کا علاج مزید بہتر ہوسکے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ بیماری جسمانی ہو یا ذہنی یقین ہمیشہ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص پہ کیجیے۔ لہذا اگر آپ کے گھر میں کوئی ایسی علامات کا شکار ہو تو فورا ماہر نفسیات کے پاس لے جائیے۔ اس کی تشخیص سے ہر بات واضح ہوجائے گی۔
ایک بات یاد رکھیے لیبل کرنے کا مطلب علاج کے لیے تشخیص کرنا نہیں ہوتا بلکہ کسی کو کسی ذہنی مریض کا شکار سمجھ کر اسے پاگل یا کم تر سمجھنا ہوتا ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے افراد کے لیے ہر نفسیاتی مسئلہ قابل تضحیک ہوتا ہے۔ اس قسم کے افراد جسمانی مسائل کے شکار افراد کے ساتھ بھی ایسے ہی نامناسب رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اس کا حل تشخیص نہ کرنا ہرگز نہیں بلکہ اس کاحل صرف یہ ہے کہ آپ اپنے پیارے کی بہتری کو مدنظر رکھیں۔ خاص کر اگر وہ آپ کی اولاد ہے تو آپ کا فرض ہے کہ اس کو بہترین معالج کے پاس لے کر جائیں تاکہ اس کی باقی زندگی تکلیف میں نہ گزرے۔ آپ کی معاشرے کے اعتراضات سے ڈر کے دکھائی گئی ذرا سی کمزوری آپ کی اولاد کی شخصیت ہمیشہ کے لیے مسخ کر سکتی ہے۔

