گلگت میں مسافر کی درگت
اپنی فریاد اور واویلے سے پُر داستان کو پُر اثر بنانے کے لئے انہوں نے اپنے خالی پرس کو کئی مرتبہ ہوا میں لہرایا اور مدد طلب نظروں سے ہماری جانب دیکھنے لگے۔ قصہ مختصر مہمان نوازی کی ابتدا ہوئی۔ مہمانوں سے پیٹرول کی رقم بٹوری گئی۔ آتشِ شکم کو بجھانے کے بعد ہماری سواری ایک مرتبہ پھر اپنی منزل کی جانب گامزن ہوئی۔
کچھ دیر چلنے کے بعد گاڑی ڈگمگانے لگی۔ ہم نے بآوازِ بلند اکبر صاحب سے گاڑی کی اس بے اعتنائی اور بے رُخی کی وجہ دریافت کی۔ وہ پریشان کن لہجے میں کہنے لگے کہ ’شاید گاڑی میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے اور کاریگر کا انتطام ناگزیر ہوگیا ہے‘۔
اتنا کہہ کر انہوں نے ہم تمام لوگوں کو گاڑی سے اُترنے کا حکم دیا اور جلد ہی گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
رات کے تقریباً دس بج رہے تھے۔ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے ہاتھوں میں نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوچکی تھی۔ کان بھی کپکپی کی زد میں آچکے تھے۔ ہم چاروں بے یار و مددگار کنارِ سڑک پر ان کا انتظار کرنے لگے۔ انتظار کی گھڑیاں لمبی ہوچلیں مگر ان کا کہیں اتا پتا نہیں تھا۔ اکبر صاحب تقریباً ایک ہزار روپے کا چونا لگا کر رفو چکر ہوچکے تھے۔ جب ان کی غیر حاضری طویل ہوئی تو احمد صاحب کو سخت غصہ آیا۔ انہوں نے فوراً اکبر صاحب کا نمبر ملایا اور دوسرے لمحے بے نقط گالیوں کی تلاوت کا سلسلہ شروع ہوا۔
احمد صاحب کا غصیلہ انداز کام آیا۔ ہمارے محترم میزبان ایک بار پھر حاضرِ خدمت تھے۔ وہ ہمیں اس بے سروسامانی کے عالم میں چھوڑ کر کہاں اور کیوں گئے تھے، یہ معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا ہے۔ ہم نے موقعِ واردات پر تفتیش کی تھوڑی سی کوشش کی۔ لیکن وہ بار بار بے اعتنائی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ان کے رویّے کو بھانپ کر ہم نے خاموشی میں ہی اپنی عافیت جانی۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ عام شہریوں کی آمدورفت کا سلسلہ تقریباً رُک چکا تھا۔ شہر میں سپاہیوں کے گشت میں اضافہ ہوچکا تھا۔ ہماری سواری مسلسل آگے بڑھ رہی تھی۔ ہم ایک بار پھر غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ جلد ہی اکبر صاحپ کا آشیانہ آئے کا اور ہم چند گھنٹوں تک گھوڑے بھیچ کر سوجائیں گے۔ مگر دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے۔
گاڑی ہمیں مسلسل نامعلوم سڑکوں اور گلیوں میں گھوما رہی تھی۔ ہمارے میزبان نے ایک ویران سی جگہ پر گاڑی روک دی۔ ہم نے اس کارِ خیر کی وجہ دریافت کی۔ باقی حضرات بھی ہمارے ہم نوا بن گئے۔ مہمانوں کے بے شمار سوالات پر اکبر صاحب کچھ گبھرا گئے اور ہمیں گاڑی کے اندر سونے کے فوائد بتانے لگے۔ ساتھ ہی ہمیں اس موقع سے بھرپور استفادہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ باتوں باتوں میں یہ خوش خبری بھی سُنائی کہ یہ علاقہ ہمارے مسلک کے لوگوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ اس دفعہ غصہ دکھانے کی باری بڑے بھائی صاحب کی تھی۔
یہ کیا اکبر بھائی۔ آپ ہمیں اس گاڑی میں سونے کا مشورہ دے رہے ہیں؟ وہ بھی اس بیابان میں؟ آپ کو کچھ احساس ہے کہ آدھی رات کوآپ ہمیں بے مقصد اِدھر اُدھر گھوما رہے ہیں؟ اگر آپ ہمیں اپنے گھر لے جانے سے اس قدر خوف زدہ ہیں، تو ہمیں ہوٹل سے اُٹھایا ہی کیوں تھا؟ ہم کہیں اور چلے جاتے۔
بھائی صاحب کا آگ بگولہ ہونا تھا کہ ایک مرتبہ پھر گاڑی کے ٹائروں میں جُنبش پیدا ہوئی۔ لیکن ہمارے میزبان نے گاڑی میں سونے کے فوائد پر اپنا وعظ جاری رکھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس پیشکش سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔
قصہ مختصر گاڑی ایک مرتبہ پھر آگے بڑھی۔ سردی کی وجہ سے اب سبھی لوگوں کے دانتوں میں ارتعاش پیدا ہوچکا تھا۔ گاڑی کے شیشوں پر ہلکی ہلکی شبنم برف کی لپیٹ میں آرہی تھی۔ جلد ہی ہم ایک ریسٹورنٹ کے سامنے رُکے۔ شاید یہ ریسٹورنٹ رات دیر تک کھلا رہتا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ اکا دوکا گاہک گرم گرم چائے اور سوپ سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اکبر صاحب نے ریستوران کے مالک سے التجا کی ایک رات ہمیں ٹھہرنے کی جگہ فراہم کریں۔ یقیناً ان کے ہاں بھی کوئی خالی جگہ نہیں تھی۔ یوں ہم بے مقصد تقریباً ایک گھنٹے تک اس ریستوران میں رہے اور جب وہ بند ہونے لگا تو مجبوراً وہاں سے بھی نکل پڑے۔
ہمارے مصائب و آلام میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ وہ رات ہماری زندگی کی سب سے اذیت ناک رات تھی۔ شبِ الم کے چند گھنٹے ہم یوں ہی صبر سے کاٹ لیتے۔ اصل مسئلہ کل ہونے والے امتحان کا تھا۔ اب ہمارارویّہ تلخ ہوا۔ اکبر بھائی آپ ہمیں ایسے کیوں گھما رہے ہیں؟ اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ ہمارا خیال تھا ان سوالات کے وہ مفصّل جوابات دیں گے۔ مگر وہ مسلسل گنگنائے جارہے تھے۔ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے ۔
دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی پھر رکی۔ ایک مرتبہ پھر سے بے گھر افراد کے دلوں میں عارضی ٹھکانے کی امید پیدا ہوئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس گھر میں ذیشان (جو اکبر صاحب کے ساتھ آئے تھے) کے کچھ دوست رہتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کے پڑوس میں ایک سبسر نامی گاؤں ہے۔ مذکورہ افراد کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔ اور وہ حصول ِ تعلیم کی غرض سے یہاں مقیم تھے۔
اکبر صاحب نے فرض ِ میزبان ادا کرتے ہوئے دروازے پر دستک دی۔ رات کے اس پہر دروازے پر دستک کی آواز سن کر ایک مریل سا لڑکا بُرا بھلا کہتا ہوا بر آمد ہوا۔ اکبر صاحب نے ہماری حالت کو مزید ناگفتہ بہ بنا کر پیش کی۔ اگلے لمحے اس لڑکے کی نظر میں ہم ایسے مسکین و غریب افراد تھے جو کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ اکبر صاحب کی حسِ تقریر پھر سے جاگ اٹھی۔ انھوں نے ہماری حالت اور وقت کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے مریل لڑکے کے منہ پر ایک جذباتی تقریر جھاڑ دی۔ یقیناً ان کے اس ناگہانی خطاب کا موضوع اس بار بھی مہمان نوازی تھا۔
مریض صفت لڑکے نے معذرت کی کہ ان کے ہاں اس جلوس کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ البتہ انہوں نے ایک رشتہ دار کے گھر ہماری سفارش لے کر جانے کی حامی بھر لی۔ موبائل فون سے ایک نمبر ملایا گیا۔ دوسری طرفہ گفتگو کے بعد ہمارا ہمدرد مختلف تنگ و تاریک گلیوں میں ہماری راہنمائی کرنے لگا۔ چند ساعتوں کے بعد اس عجیب و غریب قافلے کا عجیب و غریب راہنما ایک گھر کے سامنے رکا۔ گھر کافی بڑا تھا اور یقیناً ہمیں اس میں جگہ بھی مل سکتی تھی۔ اکبر صاحب بہت خوش تھے کہ انہوں نے اپنی لیاقت و اہلیت سے ہمارے لئے ایک اعلی ٹھکانے کا بندوبست کیا تھا۔ وہ ہمارے اوپر لاکھ احسانات جتاتے ہوئے روانہ ہوئے اور ہم چاروں گنوار دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔
دروازہ کھلا۔ ہمارا پیشوا آگے چل رہا تھا اور ہم شکست خوردہ افراد ان کے راہنمائی میں آگے بڑھ رہے تھے کہ ایک زنانہ آواز نے ہمارے قدم روک دیے۔ ہم نے کسی خاتون کو کہتے سنا‘ رات کے اس پہر شریفوں کے گھر میں گھس آنا کونسی شرافت ہے۔ نہیں معلوم یہ لوگ کیا کیا کارنامے انجام دے کر اس وقت آرام کا ارادہ فرمارہے ہیں، ‘۔
یقیناً وہ ہماری نئی میزبان تھی۔ ان کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ رہا کہ اس وقت گھر میں ان کے میاں موجود نہ تھے۔ وہ کہیں اور سے ہمارے راہنما کے ساتھ رابطے میں تھے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

