نانو، یہ ہجرت کیا ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں چارپائی پر بیٹھی اور پوچھا ابا جی وہاں میری دوستیں بھی ہوں گی ناں؟ اور ایسا صحن بھی؟ ابا جی نے ہنستے ہوئے کہا ہاں سب ہوگا۔ ایسی ہی رات ہوگی، ایسا ہی گاؤں ہوگا، کھیت بھی ہوں گے، بکریاں بھی اور پانی کا کنواں بھی۔ ”اور سہیلیاں؟ “ میں نے پھر پوچھا“ ابا جی نے مڑ کر مجھے دیکھا اور کہا اب بڑی ہوگئی ہو، اب سہیلیوں کے ساتھ باہر نہ پھرا کرو۔

عید کی نماز پڑھ کر ابا جی گھر آئے تو اماں جی نے انہیں بھی سویاں دیں۔ میں رضیہ اور بھائی بھی سویاں کھا رہے تھے ساتھ میں سہیلیوں کی پلٹن بھی۔ ابا جی نے سب کو عیدی دی اور اس عید پر زیادہ دی، ہر بچی کو خوب پیار کیا اور پھر کہا کہ اب گھر جاؤ صفیہ کل ملے گی آج ہم نے عید ملنے دوسرے گاؤں جانا ہے۔

میں نے خوشی سے اچھلنا شروع کر دیا۔ اتنے میں ابا جی نے اماں کو مخاطب کر کے کہا ان بچوں کو کوئی پرانا جوڑا پہنا دو اور یہ کسی بکسے میں ڈال دو۔ جو کپڑے آسانی سے لے سکتی ہو لے لو زیور بھی لے لو۔ اماں جی نے تیزی سے گٹھریاں بنانا شروع کیں ابا جی باہر چلے گئے۔

کچھ دیر بعد آئے تو ایک ساتھ بارہ گٹھریاں دیکھیں تو پریشان ہوگئے۔ پھر تین چھوڑ کر باقی سب ہٹا دیں۔ میں نے اور رضیہ نے رونا شروع کردیا کہ عید کا جوڑا لے کر چلیں، اگلے گھر عید ملنے جانا ہے کیا پرانا جوڑا پہنیں گے؟ تو گٹھری میں نئے جوڑے بھی ڈال دیے گئے۔

اماں جی نے خالی آنکھوں سے بھرے پرے گھر کو دیکھا اور سوال کیا کہ کیا ہم واپس آئیں گے؟ اباجی نے اطمینان سے جواب دیا ہاں آئیں گے لیکن بلوائی اگر آگئے تو جا نہیں سکیں گے۔ ابا جی نے بھینسیں تاؤ جی کے حوالے کیں، ساری بکریاں گوپی چاچو کو اور باقی کی پانچ گائے ساتھ لے جانے لگے۔

سب عورتیں اماں کو گلے لگاتیں، ماتھا چومتیں اور روتی جاتیں۔ عجیب عید تھی کوئی روئے جائے کوئی ماتھا پیٹے اور ہم بچے ہنستے جائیں۔ جب ہم چل پڑے تو پیچھے سے ایک سہیلی نے آواز لگائی صفیہ تو کس پنڈ جا رہی ہے عید ملنے؟ میں نے خوشی سے چیخ کر کہا، ”پاکستان، اس پنڈ دے نال ای اے گرداس پور توں ذرا پرے۔ “

یہ سننا تھا کہ تائی جی نے سینے پر ہاتھ مارا اور زمین پر بیٹھ گئیں۔ ہمارے ساتھ گوپی چاچو کا بیٹا، تاؤ کے دو کڑیل جوان اور چھوٹے تاؤ تھے۔ ذرا آگے گئے تو ابا جی نے ایک کام کا بہانہ کیا اور ساتھ میں گائے لے کر چلے گئے۔ گھنٹے بعد واپس آئے تو گائیں نہیں تھیں۔ پوچھا تو کہا کہ کسی کو دے آیا ہوں، بیمار ہوجاتیں اتنا لمبا سفر کر کے۔

جب چلتے چلتے تھک گئے تو چھوٹے تاؤ نے ابا جی کو صلاح دی کہ اب جو گاؤں آئے گا، وہاں فسادات پھوٹ پڑے ہیں، لہٰذا اگر کوئی بلوائی آجاتا ہے تو آپ کو قسم ہے آپ نے خود کومسلمان نہیں کہنا۔ اپنے ہاتھ سے ایک کڑا اتارا اور ابا جی کو پہننے کو دیا، جسے ابا نے مسترد کر دیا۔

نہیں معلوم کیا جگہ تھی کب سے چلے جارہے تھے۔ رات بیت گئی تو معلوم ہوا کہ پاکستان جانے والے سب یہاں جمع ہوں گے۔ وہ کوئی مہاجرین کا کیمپ تھا جہاں ہمارے پڑوسیوں نے ہمیں بحفاظت پہنچایا تھا۔ چاروں طرف چند سپاہی تھے اور سرکنڈوں پر تاریں لگا کر باڑ بنادی گئی تھی۔

ہم اس میں چلے گئے تو وہاں اور بھی لوگ تھے۔ کھانا ساتھ تھا تو کھا کر میں اور بہن بھائی سو گئے۔ اگلا دن چڑھا تو بھوک ستائی برداشت کرتے کرتے دوپہر ہوگئی اتنے میں دور سے گوپی چاچو کا لڑکا اور تاؤ کے بیٹے آتے دکھائی دیے، انہوں نے ہمیں کھانا دیا۔ اماں نے جب رومال کھولا تو اس میں تائی کے ہاتھ کے بنے اصلی گھی کی خوشبو سے مہکے بلدار موٹے موٹے پراٹھے تھے اور ایک چھوٹا سا مرتبان اچار کا تھا جو گوپی چاچو کے گھر سے آیا تھا۔

پراٹھے اتنے تھے کہ اماں جی اور لوگوں کو بھی دیے تب تک ابا جی کو بتایا گیا کہ رات بلوائیوں کا حملہ ہوگیا ہے لیکن انھیں کچھ مل نہ سکا لیکن گرداس پور سے نکل کر آگے امرتسر اور بھی خطرناک ہوگا۔

ابا جی نے بس اتنا پوچھا گھر سنبھال لیا ہے؟ تو تاؤ کے لڑکوں نے روتے ہوئے کہا ”جی سنبھال تے لیا ہے، پر اے کار تواڈی امانت اے تسی واپس لینا ضرور اے۔ ابا جی نے کہا اب تمہارا ہے بلکہ تم سب کا۔ میرا گھر اب پاکستان ہے۔ وہی میری منزل ہے وہی میرا سب کچھ ہے۔ “

اس کیمپ سے ہمیں جلد اگلی منزل کی طرف جانا تھا پر خونی فسادات کی وجہ سے یہاں رکے رہنا ہماری مجبوری تھی۔ اس جگہ قیام کے چوتھے روز جب ہمارے پڑوسی کئی میل دور چل کر ہمارے لیے کھانا لا رہے تھے تو انہیں راستے میں تشدد سہنا پڑا۔

اس روز دوپہر کے بجائے کھانا شام ڈھلے آیا تو تاؤ جی کے بیٹے اور گوپی چاچو کے بیٹے کے کرتے پر جگہ جگہ خون تھا، لیکن پراٹھوں کی مہک اور اچار کا چٹخارہ ویسا ہی تھا۔

خون آلود اور جگہ جگہ سے پھٹے کرتے دیکھ کر ابا جی نے اپنے بھتیجوں جو نہ ہم مذہب تھے نہ ہم زبان، نہ ان سے خون کا رشتہ، لیکن ان سے کہیں بڑھ کر تھے، کو سمجھایا کہ اب نہیں آنا اب کل ہماری سواری ہے، دعا کرنا کہ خیریت سے آگے جائیں۔ آگے کا قافلہ بڑا ہے جو گرداس پور سے گزر کر پاکستان جائے گا۔

اس روز ابا جی کو بھی روتے دیکھا تو میں نے پوچھا ابا یہ کیسا گاؤں ہے جہاں جانے کے لیے اتنا لمبا سفر اور سب اس کا نام آتے ہی رونے لگتے ہیں وہاں کون ہے ہمارا جس سے ملنے اتنے لوگ جارہے ہیں؟ ابا نے میرا سر گود میں رکھا اور کہا وہاں سب ہیں اور وہاں قائد اعظم محمد علی جناح ہیں جو ہمارا انتظار کر رہے ہیں، جب ہم وہاں پہنچیں گے تو دیکھنا ہمیں وہ سب ملے گا کہ تم یہ تکلیف سفر کی تھکان تک بھول جاؤ گی۔

اگلے دن قافلہ بڑا ہوتا گیا اور ہدایت ملی کے سب ساتھ ساتھ رہیں۔ دوسرے گاؤں سے بھی کئی لوگ آج کے قافلے میں شامل تھے نکلتے وقت ابا جی نے ہم سب بہن بھائی اور اماں جی کو ایک ہدایت کی اگر کوئی بلوائی حملہ کردے اور میں کہوں کے لیٹ جاؤ تو لیٹ جانا اور جب تک اٹھنے کو نہ کہوں، لیٹی رہنا اور آواز نہ نکالنا۔

گرداس پور کا قافلہ اتنا بڑا تھا کہ مجھے تعداد یاد نہیں۔ نانی دادی کی عمر کی عورتیں بچے، بوڑھے، مرد سب ہی تھے۔ ہم چلتے جا رہے تھے، تھک چکے تھے، بھوک اور پیاس سے برا حال تھا کہ ایک دم ایسا لگا کہ کچھ ہوا ہے، ابا جی چیخے، ”اللہ رکھی، رضیہ، لیٹ جاؤ“، ہم لیٹ گئے۔ کچھ یاد نہیں کہ کب تک ایسا رہا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 76 posts and counting.See all posts by sidra-dar