نانو، یہ ہجرت کیا ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں شاید سو گئی تھی جب ابا جی نے مجھے ہلایا اور رو رو کر پکارنے لگے صفیہ اٹھ صفیہ اٹھ۔ میں اٹھی تو ابو نے مجھے گلے لگایا نیند سے بیدار ہوئی تو منظر بدل چکا تھا ہر جانب خون سے لتھڑی لاشیں تھیں۔ گہرے گھاؤ سے رستا خون اور کسی کی لاش پر کوئی رونے والا بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔

لاشوں سے دور ایک بوڑھی اماں سسک سسک کر رو رہی تھیں۔ ان کے پوتا، بیٹے اور بہو کو بلوائیوں نے کاٹ ڈالا تھا۔ ایک بوڑھا رو رہا تھا اس کی دو بیٹیاں بلوائی اٹھالے گئے تھے۔ دو لڑکے جو جوان تھے وہ بھی رو رہے تھے، ان کا خاندان بھی ختم ہوچکا تھا۔ کل ملا کر ہم پچیس تیس بچے تھے جو لاشوں تلے دبے سانس تھامے لیٹے رہے تو بلوائی ہمیں مردہ سمجھ کر آگے نکل گئے۔

اماں نے رو کر کہا بچوں کے کپڑے بدل دوں؟ ابا جی نے کہا نہیں یہی رہنے دو، آگے جاکر بدل دینا۔ پیاس سے حلق میں کانٹے پڑے تھے۔ ابا جی کی تسلیاں کہ آگے پانی پیتے ہیں۔ بچتے بچاتے ہم چند لوگوں کا قافلہ چلتا گیا۔ آگے اندھیرے میں مجھے ایک کنواں دکھائی دیا میں نے اور رضیہ نے چیخ ماری ”ابا جی، پانی!“

جب کنوئیں کے پاس گئے تو اس میں پانی نہیں تھا بلکہ کئی گھروں کی حرمت اور عفت نظر آئیں۔ پھر میں نے اور رضیہ نے ابا جی سے پانی کی ضد نہ کی۔ نہ ہمیں بھوک لگی نہ پیاس نہ تھکان بس چلتے گئے۔ رات کے کسی پہر ہمیں ایک جگہ ملی جہاں چھوٹے قافلے کے چند مردوں نے کچھ گٹھ جوڑ کیا، اور پھر ہم ٹرک پر سوار ہوگئے۔ وہ بوڑھا آدمی جس کی دو بیٹیاں آزادی کے نام پر قربان ہوئیں اس نے مجھے اور رضیہ کو اپنے ساتھ بٹھایا، دوسرے ٹرک پر ابا جی، اماں جی اور منا تھے یہ سفر بھی چھپ کر کرنا تھا۔

اچانک سے دوست کی آواز کانوں میں گونجی صفیہ سن تو کب واپس آئے گی؟ تو کہاں جا رہی ہے؟ پھر گوٹے کناری والا آتشی دوپٹہ یاد آیا، پھر سویوں کی چاشنی حلق سے اترتے محسوس ہوئی، تھوڑی دیر بعد چاند تائی کے ہاتھ کا بنا ہوا بلدار پراٹھا نظر آنے لگا۔ اب پتہ چل رہا تھا کہ ابا جی نے کیوں کہا تھا اب تو بڑی ہوگئی ہے باہر نہ نکلا کر، یہ بات کان میں گونجی تو وہ لاشوں بھرا کنواں نظر آیا اور میں نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور گیلی پلکوں اور خشک حلق کے ساتھ سوگئی۔

آنکھ تب کھلی جب رضیہ نے جھنجھوڑ کر اٹھایا ”اٹھو اٹھو پاکستان آگیا، لاہور آگیا، “ میں نے آنکھیں مل کر دیکھا تو افراتفری مچی تھی۔ ابا جی اماں جی نظر نہیں آرہے تھے، بس ہمارا ہاتھ بوڑھے بابا کے ہاتھ میں تھا اور ہم دونوں بہنوں کے گلے میں ڈلے دوپٹے کو انہوں نے ساتھ باندھ ڈالا تھا کہ کہیں ہم بچھڑ نہ جائیں، رضیہ روئے جائے اور ابا اماں کی تلاش کرے کچھ گھنٹوں بعد ہم سب مل گئے۔ ابا جی نے اماں جی نے ہمیں گلے لگایا اور پھر ابا جی شکر ادا کرنے زمین پر سجدہ دینے لگے۔

اٹھے تو بولے اللہ رکھی ہم اپنے گھر آگئے ہم پاکستان آگئے۔ میں نے اردگرد دیکھا تو کوئی کھیت نہ تھا، کوئی صحن نہ تھا کوئی سہیلی نہ تھی کوئی کنواں پگڈنڈی نہ تھی۔ ایک پیپل کا گھنا درخت تھا جس کے نیچے بھی وہی بیٹھے تھے جو اپنا سب کچھ لٹا کر چھوڑ کر نئے گھر آئے تھے۔

میں نے کئی بار نانی کو کرکٹ یا ہاکی میچ شروع ہونے سے قبل قومی ترانے پر کھڑے ہوکر سینے پر ہاتھ رکھے دیکھا ہے۔ ٹی وی پر جب بم دھماکوں کی خبر چلے تو روتے اور تسبیح پڑھتے دیکھا ہے۔ آج بھی جب کسی تقریب میں پاکستانی پرچم کشائی کا منظر ٹی وی پر نظر آئے تو ان کے چہرے پر خوشی کو رقص کرتے اور آنکھوں کو نم دیکھا ہے۔ جب بھی نشان حیدر پانے والوں کی تصاویر اسکرین پر نمودار ہوں تو ان کو شہداء کی بلائیں لیتے دیکھا ہے۔

نانی کو کبھی کبھی کہتی ہوں نانی انڈیا کا ویزا لگوائیں آپ کے گاؤں چلتے ہیں، تب وہ ہاتھ اٹھا کربڑے جوش سے کہتی ہیں، نا بیٹا، ہمارا گھر یہ ہے پاکستان۔ ہاں جانے کو دل کرتا ہے پر صرف اجمیر شریف، چلو کوئی نہیں لاہور داتا صاحب بھی ہیں دعائیں تو کہیں بھی کی جاسکتی ہیں اور میں یہ سن کر مسکرا دیتی۔

اب ان کی عمر بہت ہوچکی، اپنی کہی ہوئی بات بھی بھول جاتی ہیں۔ اپنے کئی پیاروں کو بھی کھو چکی ہیں لیکن جب تذکرہ چھڑ جائے ہجرت کا تو انہیں وہ ستاروں سے بھری کالی چادر اوڑھے رات یاد آتی ہے۔ اپنے وطن میں جب کسی جوان لڑکی کی آبروریزی کی خبر چلے تو عفت کو سمیٹے وہ لاشوں سے بھرے کنوئیں یاد آتے ہیں۔

شہر میں خون کی ہولی جب جب کھیلی جائے انہیں گرداس پور کا وہ بے کفن لاشو ں کا انبار لیے قافلہ یاد آتا ہے۔ جب اپنے اپنوں سے بے اعتنائی برتیں تو تاؤ اور چاچو کے وہ کڑیل جوان یاد آتے ہیں جو جان پر کھیل کر کھانا لایا کرتے تھے۔

کبھی کبھی میں بد دل ہوکر کہتی ہوں کہ اس ملک کا بیڑا غرق ہوچکا ہے تو جواب زوردار آتا ہے: اللہ نہ کرے پتر، ہم نہیں رہیں گے مگر یہ ملک رہے گا بھلے کچھ بھی ہوجائے، یہ کلمے کے نام پر بنا ہے اس پر لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں اور اپنی عزتیں واری ہیں، اس کی زمین میں آج بھی شہیدوں کا خون شامل ہے یہ قائم رہے گا اور تا قیامت سلامت رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 76 posts and counting.See all posts by sidra-dar