جناح، رتی اور پاکستان


قیام پاکستان کی جدوجہد اور آزادی کی کہانی، کئی قربانیوں سے عبارت ہے۔ ایسی ہی ایک انمول قربانی کی کہانی، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہے۔ جناح، رتی اور پاکستان کی یہ کہانی، جنون عشق اور آزادی کی کہانی ہے، انمول جذبات اور انسانی رشتوں میں گندھی، عظیم محبت کی کہانی۔

ممبئی کے آرام باغ قبرستان میں، جامن کے پیڑ کے سائے تلے، رتن بائی عرف رتی نہیں، محبت کی پوری داستان دفن ہے۔ پاکستان کے قیام اور آزادی کی کہانی کا ایک باب، جناح کے جنون اور رتی کے عشق سے بھی جڑا ہے۔ یہ کہانی ہے محبت کی تکون کی۔ محبت کی تکون جس کے ایک کنارے پر جناح تھے تو دوسرے پر پاکستان، تکون کے تیسرے کنارے پر رتی تھی۔ رتی جس نے ایک ایسے شخص سے محبت کی جو لاکھوں انسانوں کے دلوں میں رہتا تھا اور جس کے ہاتھ میں کروڑوں لوگوں کا مستقبل تھا۔

مغربی بنگال کاپرفضاء شہر دارجیلنگ، جناح 1916 میں یہاں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آئے تھے، یہیں ان کی آنکھیں، پریوں جیسا حسن رکھنے والی نرم ونازک لڑکی رتن بائی عرف رتی سے چار ہوئیں، رتی کو ان کی دلکشی کے باعث بمبئی کا پھول کہا جاتا تھا جبکہ جناح ریاست کے سب سے معروف وکیل، ذہین ترین انسان اور انتہائی نفیس ملبوسات پہننے والے جاذب نظر شخص کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔

رتی، ہندوستان کے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بانی پٹیٹ خاندان کے سر ڈنشا کی بیٹی تھیں، سر ڈنشا جناح کے کلائنٹ اور دوست تھے اور اور جناح اپنی چھٹیاں گزارنے کے لئے انہی کے گھر رہائش پذیر تھے۔ یہاں شہرکے معروف لوگ سیاسی وسماجی معاملات پر مباحثے بھی کیا کرتے جن میں اکثر رتی بھی شریک ہوتیں، دیومالائی شخصیت کے حامل جناح کی پرمغز گفتگو نے رتی کو اتنا متاثر کیا کہ وہ ان پر مرمٹیں۔

رتی سے محبت ہوئی تو جناح نےسرڈنشا سےان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا، مگر نہ صرف انکار ہوگیا بلکہ جناح اور رتی کی ملاقاتیں بھی ممکن نہ رہیں۔ 20 فروری 1918 کو، اپنی اٹھارویں سالگرہ کے روز، رتی خاموشی سے اپنا گھر چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ 19 اپریل 1918 کے اخبارات میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ، جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی اور یوں رتی، مریم جناح بن گئیں۔ جناح اور مریم اپنے وقت کا پرکشش ترین جوڑا قرار پایا۔

جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں ہندوستان کے سرکردہ سیاسی رہنما بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سماجی اور سیاسی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ بے حد نازک مزاج اور حساس طبیعت رتی کے دل میں جناح کی طرف سے وقت نہ ملنے کا دکھ پلنے لگا اور ایک روز وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ لندن روانہ ہوگئیں۔ یہاں بھی جناح کی یادوں نے رتی کوایک پل چین نہ لینے دیا اور انہوں نے ایک خط میں اپنے دل کا حال بیان کر دیا۔

لندن سے واپسی پر رتی کی محبت نے جناح کی قربتوں کو آواز دی۔ یہ وہ وقت تھا جب جناح مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ رہے تھے۔ انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی بچانے کی پوری کوشش کی اور رتی کے گلے شکوے دور کرنے کے لئے تفریحی دورے پر یورپ چلے گئے۔ رتی اور جناح کا یہ دوسرا ہنی مون، بچھڑ کر ملنے کی بجائے، مل کر بچھڑنے کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

1927 میں محمد علی جناح، مسلم لیگ کے تنظیمی سلسلے میں بمبئی سے دلی شفٹ ہوگئے۔ اس دوران جناح کانگرس کے رہنماؤں سے چو مکھی جنگ لڑ رہے تھے۔ ایک بار پھر رتی کو وقت نہ دے سکے اور وہ بمبئی کے تاج محل ہوٹل میں ایک کمرہ لے کر رہنے لگیں۔ تنہائی اور محبت میں ناکامی، ان کے دل کا روگ بن گئی۔ اسی دوران انہوں نے جناح کے نام اپنا آخری خط لکھا جس کا ہر لفظ سسکتی، دم توڑتی محبت کی کہانی بیان کررہا تھا۔

محبوب کی دوری اور تنہائی کا شکار رتی پہلے آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی کے مرض کا شکار ہوگئیں، وہ ہر لمحہ موت سے قریب ترہوتی چلی جارہی تھی اور اس صورت حال نے جناح کو دوراہے پر لاکھڑا کیا تھا۔ ایک طرف رتی کی انمول محبت تھی اور دوسری طرف کروڑوں مسلمانوں کا مسقبل، جو جناح کے ہاتھ میں تھا۔

جناح نے رتی کو ٹوٹ کرچاہا تھا لیکن وہ اپنی محبت کےلیے کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر نہیں لگا سکتے تھے، انہوں نے اپنی محبت قربان کردی اور بمبئی کا پھول کہلانے والی رتی، ایک دن فائیو اسٹار ہوٹل کے شاندار کمرے میں بیماری اور تنہائی سے لڑتے ہو ئے دم توڑ گئیں۔

رتی کی موت نے جناح کو اندرسے توڑ کے رکھ دیا۔ اگرچہ انہوں نے اس روگ کو اپنے عظیم مقصد پرحاوی نہ ہونے دیا لیکن سچی محبت ہمیشہ کے لئے ساتھ چھوڑ جائے توضبط کے بندھن ٹوٹنے لگتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مضبوط ترین اعصاب رکھنے والے شخص جناح کو دنیا نے صرف دو بار روتے دیکھا، پہلی بار جناح کی آنکھوں سے اس وقت آنسو جاری ہو ئے جب رتی کو دفنایا جارہا تھا اور دوسری مرتبہ اگست 1947 میں اس وقت ان کی پلکیں بھیگ گئیں جب انہیں آخری بارممبئی میں رتی جناح کی قبر پر حاضری کے بعد ہمیشہ کے لئے پاکستان آنا تھا۔

پاکستان کی کہانی جنون، عشق اور آزادی کی کہانی ہے، قیام پاکستان کے پیچھے محمد علی جناح کا جنون اور اور عشق دونوں ہی شامل تھے۔ جناح کی رتی سے محبت، ، پاکستان کے عشق میں گم ہوگئی، یوں کل نے جزو کو جذب کرلیا، جناح نے پاکستان کی صورت اپنی محبت پالی مگر رتی کو اس کی محبت نہ مل سکی۔ کہتے ہیں محبت اور محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ پاکستان، جناح کی محبت اور محنت کا نتیجہ ہے مگر اس میں شاید رتی کے عشق کا جنون بھی شامل ہے۔

Facebook Comments HS