سوشل میڈیا پر بعض پاکستانی یوم آزادی پر کیوں ناخوش ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پاکستان اپنا 72واں یوم آزادی منا رہا ہے اور ہر طرف سے آزادی مبارک کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین اس بات کی نشاندہی کرتے نظر آئے کہ ملک کے بہترویں یوم آزادی میں بھی ’ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی‘۔ سوشل میڈیا پر آج کے دن مسلسل ’’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘‘ کی صدا بھی بلند ہوتی رہی۔

معروف صحافی اعزاز سید نے کہا ہےکہ ’’آزادی اظہار قید، سچ پابند ہدایت، جمہوریت کسی کے کنڑول میں، سیاست راولپنڈی کی رقاصہ، انصاف وٹس ایپ کالوں کے تابع، ایسے میں کونسی آزادی اور کہاں کی مبارک؟ سب کو غلامی کا طوق مبارک‘‘۔

سابق ایم این اے سید علی رضا عابدی لکھتے ہیں کہ ’’اس آزادی کے دن ہمیں اپنی شہری آزادیوں کو ماپنا چاہئے جن کے لئے ہمارے بڑوں نے تہتر برس پہلے جدوجہد کی تھی۔ جیسے کہ اظہار، تقریر، انجمن سازی تنقید، نقل و حرکت کی آزادی اور مساوت کا حق وغیرہ، ان آزادیوں پر آج بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ پابندیاں ہیں‘‘۔

صحافی اور اینکر مطیع اللہ جان نے لکھا ہے کہ’ ’ایس پی راوٴ انوار کو یومِ آزادی مبارک‘!‘

ایسے ہی رفیع اللہ کاکڑ لکھتے ہیں کہ ’’جن کو آزادی مل گئی ہے ان کو جشن آزادی مبارک ہو۔ راؤ انور کو آزادی مبارک ہو۔ احسان اللہ احسان کو آزادی مبارک ہو۔ جنرل مشرف کو آزادی مبارک ہو۔ ان اداروں کو آزادی مبارک ہو جو ہر قانون سے آزاد اور احتساب سے مبرّا ہیں۔ باقیوں کو جدوجہد آزادی مبارک ہو‘‘۔

حمزہ اسلام نے بارڈر کے دونوں اطراف کی غریب بچوں کی تصاویر پوسٹ کر کے لکھا ’دا سنگا آزادی دہ؟‘ یہ کیسی آزادی ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ وطن عزیز کو مبارکباد دیتے ہوئے دعا کرتی ہیں کہ ’’کاش وطن کی مائیں سمجھدار اولادیں جنم دیں جو مسلسل اندھے پن کا شکار نہ ہوں، جو فیصلے لیں اور ان کے لئے کھڑے بھی ہوں، متعصب نہ ہوں اور غریبوں کے مصائب کو سمجھنے والے ہوں‘‘۔

انسانی آزادیوں پر جبر کا ہی تذکرہ کرتے ہوئے سکالر سعدیہ طور لکھتی ہیں کہ ’’اس 14 اگست پر بھی ہزاروں لوگ جبری طور پر گمشدہ ہیں، الیکشن انجنئیر کئے گئے ہیں، پریس کو سنسر شپ کا سامنا ہے، اقلیتیں مسلسل خوف و ہراس میں زندگی گزار رہی ہیں ایسے میں فریڈریک ڈگلس کا قول یاد آتا ہے کہ ایک غلام کے لئے چار جولائی کیا حیثیت رکھتی ہے؟‘‘

فیس بک پر ثنااللہ گوندل لکھتے ہیں کہ ’’آزادی احساسِ ذمہ داری کے بغیر ناپائیدار ہے اور معاشرے کی اقلیتوں اور کمزور طبقات تک اگر آزادی کے ثمرات نہ پہنچیں تو یہ نامکمل ہے۔‘‘

آج کے دن ایسے لوگ بھی تھے جو تقسیم کے دکھ کو یاد کر رہے تھے۔ ایسی ہی ایک اسی برس کی خاتون سے شہریار رضوان ملے جنہوں نے ان سے کہا کہ ’’وہ مجھے آزادی کا دن منانے کا کہتے ہیں، میں کیسے ہزاروں کا ذبح کیا جانا اور لاکھوں کا بے گھر ہونا مناؤں؟ جب کہ زندگیاں برباد ہوگئیں۔ میں تو کچھ نہیں منا سکتی، ہاں یہ دعا ہے کہ لوگ خوش رہیں۔‘‘

<

آخر میں سارا حسن کی یہ ٹویٹ کہ ’’سب کو آزادی مبارک سوائے ان کے جو دوسروں کی آزادی کے مخالف ہیں۔‘‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں