سماجی میڈیا پر بہتے محبت کے دریا


ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب سافٹ ویئر(Software)کو ایپ (App) نہیں کہا جاتا تھا، وہ دور بھی دیکھا ہے جب آرکٹ، فیس بک اور ’ہائی فاﺅ‘ وغیرہ نئے نئے وارد ہوئے تھے اور انہیں سوشل میڈیا نہیں کہا جاتا تھا اور وہ دور بھی دیکھا ہے جب لوگ موڈیم سے فون کے ذریعہ انٹرنیٹ لگایا کرتے تھے۔ مگر پھر دور بدل گیا۔ انٹرنیٹ سوشل میڈیا کے ہم معنی ہو گیا اور سوشل میڈیا زندگی کے۔ لوگوں کے فیس بک پروفائل ان کی زندگی کی کہانی بن گئے۔

2009ءکی بات ہے، ہماری ایک ہم جماعت لڑکی کی شادی قریب آ رہی تھی۔ ہر روز ہی وہ یا ان کے ہونے والے شوہر اس نوع کے اسٹیٹس لگاتے کہ اب اتنے دن باقی ہیں، اب اتنے دن باقی ہیں اور نیچے بڑے عجیب سے کمنٹس آتے۔ محترمہ کے شوہر بیرون ملک سے درآمد کئے گئے تھے اور گلابی سی اردو بولتے۔ ان کی شادی کے ہی زمانے میں ایک پروگرام ”راکھی ساونت کا سوئمبر“ کے عنوان سے آتا تھا۔ اس میں بھی ایک متوقع دلہا گلابی اردو بولتے تھے اور بیرون ملک سے آئے تھے۔ نہ جانے کیوں یہ شادی اور یہ پروگرام ہمارے ذہن میں گڈ مڈ ہو گئے ہیں مگر غور کرنے پر محسوس ہوا کہ وجہ بڑی سادہ سی ہے۔ یہ پروگرام اس لئے برا محسوس ہوتا تھا کہ شادی جیسے ذاتی معاملے یا جیون ساتھی کے چناﺅ جیسے نجی فیصلے کی یوں تشہیر قبیح معلوم ہوتی تھی جب کہ ہماری ہم جماعت محترمہ کے نت نئے اسٹیٹس بھی بہت ذاتی چیزوں کی تشہیر معلوم ہوتے تھے ۔ مگر چلئے ہم کون ہیں اعتراض کرنے والے؟ یہ تو ذاتی آزادیوں کے معاملات ہیں مگر ہمارے پاس اور بھی کچھ قصے ہیں سنانے کو۔

ہمارے خاندان میں ایک بچی کی سالگرہ ہوئی تو اس بچی کی والدہ نے اگلے دن اپنی نند، ساس اور سسر کے اس سالگرہ میں تعاون پر فیس بک پر اسٹیٹس لگا کر شکریہ ادا کیا۔ جواب میں نند نے بھی اس پر ایک پیراگراف کا جواب لکھا۔ مزاحیہ بات یہ ہے کہ نند، بھاوج، ساس اور سسر سب ایک ہی مکان میں رہتے ہیں مگر سارا پیار آن لائن ہو رہا ہے۔ ویسے اتنی بات لکھ دینے کے بعد ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ روہت شٹی کے ہم فین تو ہر گز نہیں مگر اس کی ایک فلم کا ایک مکالمہ ہمیں کمال کا لگتا ہے اور وہ مکالمہ کچھ یوں ہے کہ ”شیشے کے گھر میں رہنے والے اپنے کپڑے بیسمنٹ میں بدلتے ہیں“۔ واقعی راقم الحروف خود بھی سوشل میڈیا پر تعریفی اسٹیٹس لگا کر اپنے افسران بالا اور سپر وائزرز کو خوش کرنے کی سعی کرتا رہا ہے مگر ظاہر ہے کہ وہاں پر بھی معاملہ قبیح ہونے کے باوجود اوپر مذکورہ معاملات سے مختلف ہے۔ ہمارے سماج میں چاپلوسی اور چمچہ گیری محض ترقی کے زینے نہیں ہیں بلکہ اگر آپ میں یہ صلاحیتیں بالکل نہ ہوں تو آپ انارکلی کی طرح دیواروں میں چنوا دیے جائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ دفتری چاپلوسی ایک بڑا شعوری معاملہ ہے جب کہ اوپر مذکورہ معاملات کسی نوع کے نفسیاتی الجھاﺅ کی پیداوار معلوم ہوتے ہیں۔ آئیے اسے سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

فرائڈ کہتا ہے کہ محبت کی زیادتی پوشیدہ نفرت کو ظاہر کرتی ہے۔ بہت زیادہ میٹھے لوگ اندر سے زہر کی طرح کڑوے ہوتے ہیں۔ (اس بات پر شک ہو تو جامعہ کراچی کے پروفیسر شکیل فاروقی سے مل لیجئے)۔ بابائے نفسیات کے بعد ہمارے پاس اپنی بات کی مضبوط ترین دلیل فلم ”سرفروش“ کا ایک معروف گانا ہے۔ جی ہاں وہی گانا جس میں سونالی بیندرے (اللہ محترمہ کو صحت عطا فرمائے، آمین) عامر خان صاحب سے اظہار محبت فرما رہی ہیں۔

          ”اس دیوانے لڑکے کوکوئی سمجھائے

         پیار محبت سے نہ جانے کیوں یہ گھبرائے“

اس گانے کے آخر میں عامر خان صاحب ایک بہت کام کی بات کرتے ہیں جو فرائڈ کی بات کی طرح ہی بہت وزنی ہے۔ وہ فرماتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ پیار محبت کے معاملات تو آنکھوں سے بیاں ہوتے ہیں، ان میں الفاظ کا کیا دخل۔ یعنی محبت تو محسوس کرنے کی چیز ہے نہ کہ کہنے اور پرچار کرنے کی۔ مگر چلیے ہم، عامر خان، سونالی بیندرے اور فرائڈ سب ”اولڈ اسکول“ کے لوگ ہیں۔ آج کل تو وقار ذکا فرماتے ہیں ”نیکی کر فیس بک پر ڈال“۔ پھر لوگ ہیں جو دوسروں کے غموں پر شدید غم بھرے ”کمنٹ“ فرماتے ہیں۔ کوئی زیادہ بڑا سانحہ پیش آ جائے تو سیاہ ڈسپلے پکچر لگاتے ہیں اور بڑی غمگین باتیں سوچ سوچ کر ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ کرتے ہیں۔ اب دلہنوں نے روایتی لاج کو پرے دھکیل کر خود DSLR کیمرے تھام لئے ہیں۔ وہ خود ببل چباتے ہوئے آئینے میں اپنی دلہن بنی تصویر کھینچ کر شادی والے دن ہی فیس بک پر ڈالتی ہیں۔ ہر ذاتی، نجی، نازک، جذباتی بات اب سماجی میڈیا کی سرخی ہے اور سماجی میڈیا کے دیگر حاضرین کو بھی بالکل گریک تھیٹر کے اداکاروں کی طرح معلوم ہے کہ خوشی کے پرچار پر کیسے جذبات میں مغلوب خوشی اور ”بدھائی“ کے ٹوکرے الٹنے ہیں اور غم پر کیسے ”سیڈ فیس“ بنا کر ”اسپیچ لیس“ لکھنا ہے۔

ہمارے ایک دوست فیس بک پر اہل فلسطین کے حق میں بڑا سائبر جہاد کر رہے تھے۔ ایک روز ان کو ایک فلسطینی نے ایڈ کیا۔ پھر اس فلسطینی نے ان کو بتایا کہ وہ غزہ کا باسی ہے اور بہت مفلوک الحال ہے، ان کی مدد کا طالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بالکل مدد کے لئے تیار ہیں مگر کیسی مدد وہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ تو اس قدر دور پاکستان میں ہیں۔ فلسطینی نے کہا کہ وہ اسے ”پے پال“ یا پھر ”ویسٹرن یونین“ سے 100 ڈالر بھیج دیں۔ محترم اس مطالبے پر بہت شدید ذہنی الجھن کا شکار ہو گئے۔ اتنی شدید الجھن کا شکار ہوئے کہ انہیں ایک آدھ رات نیند نہ آئی، دوسری جانب سے فلسطینی کا مطالبہ جاری رہا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ فلسطین محبت کو تھوڑا ”آﺅٹ سورس“ کر دیں، ان کی سابقہ محبوبہ بہت امیر تھیں اور ابھی تک ان سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے (سمجھ لیجئے کہ عمران اور جمائما جیسے) ۔ تو انہوں نے سوچا کہ محترمہ کے لئے سو ڈالر کیا ہیں؟ ویسے بھی وہ کینیڈا میں رہ رہی تھیں اور لاکھوں تو اپنی تعلیم پر اپنے والدین کا اڑا رہی تھیں۔ خیر محترم نے فلسطینی بھائی کے لئے امداد کی درخواست محترمہ سے کر دی اور فلسطینی کے مطلوبہ کوائف بھی محترمہ کو ارسال کر دیے۔ وہی سابقہ محبوبہ جو روز کئی کئی گھنٹوں تک محترم سے کینیڈا کی تنہائی میں گئے دنوں کی زخمی یادوں کا رومانی تبادلہ کیا کرتی تھیں، کئی دن کے لئے بالکل اسکرین سے ہی آﺅٹ ہو گئیں۔ محترم کو بھی فلسطینی بھائی کو بلاک کرنا پڑا۔

واقعی محبت بڑا بھاری دعویٰ ہے اور زبانی جمع خرچ سے ہر کام ہوتا بھی نہیں۔ جب سوشل میڈیا کے طرم خانوں کو اپنے دعوﺅں کی حقیقی قیمت دینی پڑے تو اکثر وہ زوہیر طورو کی طرح فرسٹریٹ ہو جاتے ہیں کہ وہ تو گرمی میں تباہ ہو گئے اور اگر ان کی اپنی پولیس انہیں ڈنڈے مارے گی تو وہ انقلاب کیسے لائیں گے؟ ایک جانب اس معاشرے میں محبت اور ہر جذبے کا اظہار ایک وبا کی طرح، ایک طوفان کی طرح بڑھتا ہی جاتا ہے جب کہ دوسری طرف اس معاشرے میں اولڈ ہاﺅس، طلاقیں، برباد گھر، ماں باپ کی بے توجہی میں پلنے والے بچے، عید بقر عید پر ملنے والے بہن بھائی، حسد میں ڈوبے ہوئے دوست بھی بڑھتے ہی جاتے ہیں۔

اللہ کا قانون ہے کہ وہ ہر بول کا جواب دے دیتا ہے اور ہر دعوے کا امتحان لے لیتا ہے۔ اللہ ہمیں جھوٹے دعوے کرنے سے بچائے اور جو دعوے ہم سے ہو گئے ان کا امتحان نہ لے۔ کیونکہ جب وہ آزماتا ہے تو جھوٹ ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جاتا ہے۔ شاید ہمارا اپنی بے حسی اور عدم تعلق کا سچا اعتراف ان جعلی محبت اور دیگر جذبات کے فواروں سے زیادہ خوبصورت ہو گا۔ پھر شائد ہم حقیقی محبت اور حقیقی نفرت کر سکیں۔ ایسی محبت اور نفرت کہ جس میں الفاظ کی، عدالتی بیان جیسے اسٹیٹس لائنز کی کوئی ضرورت ہی نہ ہو، سچائی سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز ہوتی بھی نہیں۔ حالانکہ سچائی تلخ ہوتی ہے، ہمارے معاشرے کو ویسے بھی قند کی نہیں تلخ کریلے کھانے کی ہی ضرورت ہے۔ یہی اس کا خون صاف کریں گے۔ زیادہ مٹھاس صحت کے لئے اچھی بھی نہیں ہوتی،خاص طور پر جب اس میں زہر ملا ہو۔

Facebook Comments HS