ڈاکٹر عمران علی شاہ خاندان کا نام نہ ڈبوئیں
یار اکیلے پڑھا نہیں جاتا: ”ایسا کرتے ہیں کہ کمبائنڈ اسٹڈی کیا کریں گے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کی پڑھائی میں مدد بھی کرسکیں۔ “ آفتاب ( فرضی نام ) کی پیش کش قبول تو کرلی لیکن سابقہ تجربہ تھا کہ کمبائنڈ اسٹڈی سے کم از کم ہمیں تو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ میں اور آفتاب ایک ہی کالج اور کوچنگ سنٹر میں پڑھتے تھے۔ آفتاب کے نانا نانی ہمارے گھر کے سامنے ایک مختصر سے فلیٹ میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ رہتے تھے۔
شام کے وقت میں اور آفتاب جب کوچنگ سنٹر کے لیے نکلتے، تو اس کی خالہ بھی ہمارے پیچھے پیچھے چلتیں کیونکہ وہ بھی کوچنگ سنٹر کی طالبہ تھیں۔ آفتاب کا ننھیال شرافت و نجابت کا اعلی نمونہ تھا۔ نانا اور نانی جان انتہائی وضع دار شخصیات تھیں۔ آفتاب کے ماموں روز گاڑی میں ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتے تھے، کیونکہ ان کی رہائش ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھی۔
آفتاب اپنے ماموں سے بہت متاثر تھا۔ اکثر ان کے بارے میں بات کرتا تھا کہ کس طرح انہوں نے محنت کرکے تعلیم حاصل کی اور اب اس مقام پر ہیں کہ شہر کے بڑے آرتھو پیڈک سرجنز میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ واقعی کچھ عرصے بعد شہر کراچی میں ڈاکٹر محمد علی شاہ کا نام ان کے پیشے میں مہارت کی وجہ سے ادب و احترام سے لیا جانے لگا۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ نے گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمارے بڑے خالو سے بیالوجی پڑھی تھی، جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔
ہمیں اس تعلق پر ہمیشہ فخر رہا کہ ڈاکٹر محمد علی شاہ جیسی نامی گرامی شخصیت کے گھرانے سے کسی زمانے میں تھوڑا بہت تعلق رہا ہے۔ آفتاب کے بیرون ملک چلے جانے کی وجہ سے اس سے تو رابطہ منقطع ہوگیا، لیکن ڈاکٹر محمد علی شاہ کبھی کبھار بڑے خالو مرحوم سے ملنے تشریف لے آتے تھے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کے والد مرحوم سابقہ سیشن جج تھے اور والدہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ میں ملازم تھیں۔ ان کے بود و باش دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ والدین نے بچوں کی اعلی تعلیم کے لیے اپنی بہت سی خواہشات کو نظر انداز کیا ہوگا۔
ڈاکٹر محمد علی شاہ مرحوم نے بھی سیاست میں قدم رکھا۔ رکن صوبائی اسمبلی بھی رہے اور صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ لیکن ان کی شخصیت میں وہ رعونیت نہیں پائی جاتی تھی، جس رعونیت کا مظاہرہ ان کے بیٹے ڈاکٹر عمران علی شاہ نے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد گزشتہ روز اسٹیڈیم روڈ پر ایک بزرگ شہری پر تشدد کرکے کیا۔ ڈاکٹر عمران نے اپنی پر تشدد کارروائی پر عوام سے معافی مانگی ہے اور رات گئے اس بزرگ شہری سے بھی ایک ملاقات میں معافی مانگ لی، جس پر تشدد کیا تھا۔
گو کہ بزرگ شہری جو کہ سرکاری ملازم بھی ہیں، نے معاف کرنے کا اعلان تو کردیا لیکن اندرونی خبریں یہی ہیں کہ جب ان سے ایک اخباری رپورٹر نے معاف کرنے کی وجہ دریافت کی تو بزرگ شہری نے کہا: ” کہ ہم عام شہری اور چھوٹے لوگ ہیں، ان جیسے بڑے لوگوں کا کہاں مقابلہ کرسکتے ہیں۔ “ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ بزرگ شہری کو مجبور کیا گیا ہوگا کہ آپ معاف کرنے کا اعلان کریں۔
ڈاکٹر عمران کی دوہری شہریت کے حوالے سے بھی خبریں گردش میں ہیں۔ تحریک انصاف سیاست میں تبدیلی کی بات کرتی ہے، لیکن تحریک انصاف کے نومنتخب ممبر صوبائی اسمبلی کے کردار پر متوقع وزیر اعظم کے قومی اسمبلی سے منتخب ہونے سے پہلے ہی سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں۔ تحریک انصاف کراچی کے صدر نے ڈاکٹر عمران کو شو کاز نوٹس بھی جاری کیا ہے، بہتر تو یہ ہوتا کہ تحریک انصاف کی قیادت ان سے استعفا طلب کرتی۔
لیکن یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ یہاں مقتدر حلقوں کو سات خون بھی معاف کر دینے کی روایت پختہ ہے، اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے ڈاکٹر عمران کے خلاف کسی کارروائی کا امکان نظر نہیں آتا۔ لہذا ڈاکٹر عمران کو چاہیے کہ کچھ وہی اپنے خاندان کی لاج رکھ لیں اور خاندان کی عزت کو مٹی میں نہ ملائیں۔ یہ جملے لکھتے وقت ڈاکٹر عمران کے مرحوم نانا اور نانی جان کے پر نور چہرے نظر کے سامنے آگئے ہیں۔ لہذا ایک عام شہری، ووٹر اور ان کے کزن کے دوست کی حیثیت سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر عمران اپنے معزز خاندان کا نام نہ ڈبوئیں اور اسمبلی رکنیت سے استعفا دے کر خلوص دل کے ساتھ ندامت کا اظہار کریں۔


