زینت امان میں کیا خاص تھا ؟


زینت امان میں کیا خاص بات تھی۔ وہ ہندی فلموں کی عام ہیروئنز کی طرح کبھی نمبر 1 کے جھنجھٹ میں نہیں الجھیں۔ یوں بھی یہ درجہ شاید ہیمامالنی، ریکھا یا سری دیوی کے پاس تھا جب کہ زینت صرف ایک کام کرنے والی خاتون تھیں۔ کوئی بھی ان پر عظیم فنکارہ ہونے کا الزام نہیں لگا سکتا! (نہ ہی ان کے عہد کی دیگر اداکاراؤں پر) لیکن میرا خیال ہے کہ اپنی نسل کی کسی بھی اداکارہ سے بڑھ کر، ناظرین زینت امان کو دیکھنے کیلئے سینما گئے۔ وہ زینت امان کو دیکھنا چاہتے تھے۔

وہ فلم دیکھنے نہیں ، زینت امان کو دیکھنے جاتے تھے۔

بلاشبہ، ان میں سے بہت سے جنسی محرومیوں کا شکار تماش بین تھے، لیکن آزادخیالی اور انٹرنیٹ سے پہلے کے اس دور میں آپ انہیں بمشکل ہی الزام دے سکتے تھے۔

ہندی فلموں نے ہمیشہ ٹھرکی مردوں کو تھیئٹرز میں لانے کیلئے نسوانی کشش کو استعمال کیا ہے لیکن اپنے اس روئیے کو ہمیشہ کسی نیک ارادے سے تعبیر کیا۔ اور یہ جھوٹا بہانہ کئی عشروں تک بنایا جاتا رہا۔ بارشیں ہوتی رہیں اور سری دیویاں بھیگتی رہیں۔ طوفان آتے رہے اور تیز ہوائیں جسموں کو ڈھانپنے والے لباسوں کو پھاڑتی رہیں۔ دوسری صورت میں ولن کی داشتہ کو ہوش ربا لباس پہننے کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔ زینت امان نے ان روایا ت کو توڑ دیا اور ظاہر کیا کہ اچھی لڑکیاں بھی نیکر پہن سکتی ہیں اچھے مرد ان کی محبت میں بھی مبتلا ہو سکتے تھے ۔

zeenat aman

وہ ایک ایماندارانہ اور دوستانہ انداز میں نسوانی کشش کو ہندوستانی سکرین پر لے کر آئیں جو اس سے قبل کبھی دکھائی نہیں دی تھی۔انہیں بارش کے ڈھونگ کی ضرورت نہ تھی۔ منافقت، جو ہندوستانی فلموں کا روایتی خاصا تھا، زینت اس سے ناآشنا تھیں۔ وہ جب سکرین پر جلوہ گر ہوتیں، دلوں کو فتح کر لیتیں۔ ان کے پاس انداز بھی تھا اور تہذیب بھی۔ اور ان کے عروج کے زمانے میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں تھی۔

زینت امان کا خاص انداز ان کی ذات کا حصہ تھا خواہ وہ قرونِ وسطیٰ کی کسی شہزادی کا کردار کر رہی ہوں یا کسی متوسط طبقے کی کالج گرل کا۔انہوں نے جدید شہری ہندوستانی خاتون کی عکاسی بہت پہلے ہی کر دی تھی۔

یہ سوال دلچسپ ہے کہ اگر زینت امان پر دیو آنند کی نگاہ نہ پڑی ہوتی اور وہ دو ناکام فلموں کے بعد جرمنی واپس نہ گئی ہوتیں تو کیا ہوتا ؟ ہم بڑے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستانی سینما کی کہانی بالکل مختلف ہوتی!

Facebook Comments HS