عمران خان کو ووٹ چور کے نعروں کی گونج میں ہی کام کرنا پڑے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بالآخر عمران خان پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ عمران خان نے وزارت عظمی کی کرسی تک رسائی کے لئے جن کاندھوں پر سوار ہو کر کامیابی حاصل کی اصل مبارکباد کے مستحق بھی وہی ہیں۔ خیر چونکہ اب عمران خان نے جیسے تیسے کر کے اور ایمپائر کو ساتھ ملا کر کامیابی اپنے نام کر ہی لی ہے تو ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ بطور وزیراعظم اپنا رویہ تبدیل کرتے ہوئے اپنی سیاسی مخالفت اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو برداشت کرنے کی عادت اپنا لیں گے۔ لیکن قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے احتجاج سے جس بری طرح وہ مشتعل ہوئے اور بطور منتخب وزیر اعظم جس قسم کی غیرشائستہ اور دھمکیوں والی تقریر انہوں نے کی اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شاید محترم عمران خان اپنی ذات کی نرگسیت پسندی کی کیفیت سے باہر آنے کو بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ وزارت عظمی کا منصب جیتنے کے بعد کسی بھی رہنما کی پہلی ایسی تقریر ہے جس میں اپنی حکومت کی مستقبل کی لائحہ عملی بتانے یا عوام کو اپنے اگلے اقدام سے آگاہ کرنے کے بجائے اپوزیشن سے زچ ہو کر سارا دھیان اپوزیشن کو ڈرانے دھمکانے اور اسے نیچا دکھانے میں صرف ہوا۔

شاید عمران خان ابھی تک ذہنی طور پر اپوزیشن کی سیاست کی کیفیت سے باہر ہی نہیں آنے پائے اور ابھی تک کنٹینر والے مائنڈ سیٹ کے اسیر ہیں۔ وگرنہ اس جیت کے موقع پر کوئی بھی عقلمند اور ذی شعور شخص اس قسم کی تقریر نہیں کرتا۔ مسلم لیگ نواز نے احتجاج کر کے عمران خان کو اشتعال دلانے کی کوشش کی اور عمران خان فورا مسلم لیگ نواز کی اس سیاسی چال کا شکار ہو گئے۔ مشتعل ہو کر عالم جذبات میں جس طرح انہوں نے مسلم لیگ نواز کو احتساب کے نام پر دھمکانے کی کوشش کی اسے انتہائی بچگانہ فعل ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے اس قدر جلدی مشتعل ہونے اور جذبات کی رو میں بہہ جانے سے یہ سوال بھی کھڑا ہوتا ہے کہ جب ان پر پاکستان کی پالیسیوں کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ پڑے گا تو کیا وہ اسے برداشت کرنے پائیں گے یا پھر ایسے ہی مشتعل ہو کر کوئی جذباتی حرکت کر بیٹھیں گے۔

سوال یہ بھی ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان اپنے اوپر تنقید برداشت کرنے پائیں گے یا پھر تنقید کرنے والے صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کو حسب عادت، بکے ہوئے صحافی اور ملک دشمن میڈیا ہاوسز قرار دیں گے۔ جس انداز سے انہوں نے قومی اسمبلی میں صورتحال کو ہینڈل کیا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کی حکومت اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی ہر ممکن سعی کرے گی۔ اگر صرف حزب اختلاف کے مخالف نعرے عمران خان کو غصے میں بے قابو کروا کر وہی پرانی کنٹینر والی تقریر کروا سکتے ہیں تو پھر آنے والے دنوں میں ملک میں جا بجا اپوزیشن کے مظاہرے اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ان کی حکومت پر تنقید تو ان سے قطعا ہضم نہیں ہو پائیں گے۔

حالانکہ گزشتہ پانچ برسوں میں جس قسم کی بدتہذیبی اور ناشائستگی کا مظاہرہ تحریک انصاف کی اپوزیشن کی سیاست میں دیکھنے کو ملا اور جو نازیبا کلمات عمران خان نے مخالفین کے بارے میں استعمال کئیے ابھی تو اس کا عشر عشیر بھی ان کے مخالفین نے استعمال نہیں کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی میں ہونے والے اس احتجاج میں ابھی پیپلز پارٹی شامل نہیں تھی بلکہ پیپلز پارٹی نے مقتدر قوتوں کی خواہش پر ایک طرح سے پہلے متحدہ اپوزیشن کا شیرازہ بکھیر کر اور پھر احتجاج میں شامل نہ ہو کر تجریک انصاف کی درپردہ حمایت کی ہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف اور عمران خان مسلم لیگ نواز کے احتجاج کی وجہ سے حواس باختہ دکھائی دیے۔

شاید عمران خان کو اب اندازہ ہوا ہو گا کہ اپوزیشن کرنا کس قدر آسان کام ہے اور امور حکومت چلانا کس قدر جان جوکھوں کا کام ہے۔ جو کچھ آج قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر ہوا اسے ہرگز بھی خوش آئند نہیں قرار دیا جا سکتا کہ ایک طرف ووٹ کو عزت دو اور ووٹ چور کے نعروں کی گونج میں وزیراعظم کا انتخاب ہوا اور پھر کٹھ پتلی وزیراعظم اور جعلی مینڈیٹ نامنظور کے نعروں کے شور میں عمران خان نے اپنی بے ربط تقریر کی۔ ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے اور اس کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر بازی جیتنے کے بعد آپ ہرگز بھی اس جماعت سے فئیر پلے کی توقع نہیں کر سکتے۔

اگر عمران خان نے بیساکھیوں کے سہارے نقب لگا کر پارلیمنٹ میں فتح حاصل نہ کی ہوتی اور اپنے زور بازو پر جیت کر آتے تو انہیں اپنی تقریر میں بار بار یہ وضاحتیں نہ دینا پڑتیں کہ وہ کسی کے سہارے پر بازی جیت کر منتخب نہیں ہوئے ہیں۔ اسی طرح نفرت کی سیاست کا بیج بوتے وقت عمران خان کو ادراک نہیں تھا کہ جہاں وہ اہنے مخالفین کے لئے ایک نفرت انگیز نسل تیار کر رہے ہیں وہیں وہ خود اپنے خلاف بھی ایک نفرت انگیز بیانیہ تیار کر رہے ہیں اور عوام کا ایک حصہ ان سے اتنی ہی شدت سے نفرت کرتا ہے جتنی شدت سے ان کے چاہنے والے ان سے محبت کرتے ہیں۔ کاش وہ یہ سادہ نکتہ سمجھ پاتے کہ نفرت کی تاریکیوں سے محبت کی شمعیں نہیں جلائی جا سکتیں۔

مسلم لیگ نواز کا قومی اسمبلی میں احتجاج کرنا ایک مجبوری تھا کیونکہ اس کا ووٹر غصے سے بھرا بیٹھا ہے جہاں ایک طرف اس جماعت کا ووٹر یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر مقتدر قوتوں نے عمران خان کو زبردستی جتوایا وہیں وہ ووٹر شہباز شریف اور ان کے ہمنواوں کے ٹھنڈے طرز سیاست سے بھی مشتعل تھا۔ چنانچہ شہباز شریف کو مجبورا اپنے اراکین اسمبلی کو احتجاج کی اجازت دینا پڑی۔

اگر عمران خان اس بنیادی نقطے کو سمجھتے ہوئے ذرا ٹھنڈے مزاج اور بردباری کا مظاہرہ کرتے اور خود چل کر شہباز شریف کے پاس احتجاج موخر کرنے کی تجویز لے کر جاتے تو صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی تھی اور عمران خان جذبات کی رو میں بہی کر احتجاجی نعروں کے شور میں ایک نامناسب تقریر کرنے کے بجائے ایک پرسکون ماحول میں نسبتا بہتر تقریر کر سکتے تھے۔ لیکن ان کی سیاسی ناپختگی کے باعث وہ ایسا نہ کر پائے۔ عمران خان نے غصے سے مسلم لیگ نواز کو ٹارگٹ کرتے ہوئے نہ صرف کڑے احتساب کا اشارہ بھی دیا بلکہ یہ بھی بول دیا کہ وہ بلیک میل ہو کر کوئی این آر او نہیں دیں گے۔ فرط جذبات میں عمران خان یہ بھول گئے کہ اس ملک میں این آر او دینے کی طاقت صرف نادیدہ قوتوں کے پاس ہے۔

نواز شریف کو ویسے بھی اب کسی این آر او کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب نواز شریف اور مریم نواز جتنا زیادہ عرصہ پابند سلاسل رہیں گے اتنا زیادہ سیاسی دباؤ عمران خان اور ان کی مخلوط حکومت پر پڑے گا۔ نواز شریف اور مریم نواز کا انتخابی مہم سے باہر ہو کر سلاخوں کے پیچھے رہنا تو عمران خان کے لئے انتخابات میں ایک پلس پوائنٹ تھا لیکن اب حکومت میں آنے کے بعد ان دونوں کا قید میں رہنا عمران خان کے لئے ایک مستقل سر درد کا باعث بنا رہے گا۔ اس لئے نواز شریف اور مریم نواز قطعا بھی کسی این آر او کے طالب نہیں ہوں گے بلکہ قید میں رہ کر مسلم لیگ نواز کے ووٹ بنک کی ہمدردی سمیٹنے کو ترجیح دیں گے۔

مستقبل قریب میں عمران خان کو بہت سے ایسے مواقع کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں ان کا اپنا بویا ان کے سامنے آئے گا اور انہیں مسلم لیگ نواز اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے سخت ترین اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ابھی تو انہیں ان ناخداوں کے ہر فرمان پر بھی سر تسلیم خم کرنا ہے جن کی بدولت وہ کامیاب ہونے پائے ہیں ایسے میں شخصی نرگسیت، تنقید اور سیاسی مخالفت کو دشمنی سمجھنے اور فورا طیش میں آنے والی عادات عمران خان کو زیادہ عرصہ چلنے نہیں دیں گی۔

امید غالب ہے کہ عمران خان ان عادات کو ترک کرتے ہوئے اپنے اوپر پاکستانی ڈونلڈ ٹرمپ ہونے کے شائبوں اور شکوک کو ختم کر دیں گے۔ لیکن ووٹ کو عزت دو کے جو نعرے آج قومی اسمبلی میں بلند ہوئے ہیں ان نعروں کی گونج عمران خان اور ان کو تراشنے والی قوتوں کا پیچھا تب تک کرے گی جب تک کہ ڈکیتی کے دم پر یرغمال بنایا گیا عوامی مینڈیٹ بازیاب نہیں ہونے پاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •