حلف اور ذلتوں کے مارے لوگ
ذلتوں کے مارے لوگ دوستوفسکی کے ناول کا اردو ترجمہ ہے اور مجھے یہ ٹائٹل ہمیشہ اس وقت یاد آ تا ہے جب کوئی نیا وزیر اعظم حلف اٹھا رہا ہوتا ہے اور عوام واری صدقے جا رہے ہوتے ہیں۔ جھولیاں اٹھا اٹھا کر ”ستے خیراں“ بھیج رہے ہوتے ہیں۔ چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے گرد حلقہ تنگ کرنے کی بڑھکیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ کڑا احتساب کرنے کے دعوے کر رہے ہوتے ہیں۔ ذلتوں کے مارے لوگ تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بدگمانی کا اظہار کر دے تو پٹواری کہلائے۔
اسکول میں نماز پڑھنے کی پابندی تھی اور ہم بھی صفوں میں لگ جایا کرتے تھے اگر کبھی مسجد سے باہر پکڑے جاتے۔ ویسے تو میں کئی بار یہ کہہ کر بچ گیا کہ، ”میں اور میرا بھائی سوشلسٹ ہیں“۔ شکر ہے اسکول سٹاف کو سوشلزم کا پتہ نہیں تھا ورنہ جنرل ضیا کے دور میں سوشلزم کی بات ایسے ہی ہے جیسے عمران خان کو سوشل میڈیا پر کچھ کہہ دیا جائے۔ ”اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے“۔
خان صاحب کو اپوزیشن کرتے کرتے بڑھکیں مارنے کی ایسی عادت ہو گئی ہے کہ کل احتجاج کے دباؤ تلے پھر باؤنسر پھینکنے شروع کر دیے۔ ویسے خان صاحب کرکٹ کھیلتے ہوئے باؤنسرز نہیں پھینکتے تھے۔ اگر کبھی پھینکتے بھی تھے تو دلیپ دوشی، منندر سنگھ اور دوسرے ٹیل اینڈرز کو لیکن ایک بات ضرور ہے کہ خان صاحب ہر طرح کی وکٹ پر کھیلتے تھے اور لمبے عرصہ تک کمزور ٹیم کی کپتانی کرتے رہے۔
ایک بڑی زبردست تبدیلی جو خان صاحب میں آئی ہے وہ یہ کہ کرکٹ کھیلتے ہوئے خان صاحب دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کی بہت مدح سرائی کرتے تھے جس سے ان کی اپنی ٹیم کے کھلاڑی ذرا غیر محفوظ محسوس کرتے گو کہ خان صاحب کی اس بے مروتی پے عوامی سطح پر کوئی تنقید نہیں کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے جب سلیم ملک نے ایڈن گارڈن میں بہتر رنز کی شاندار اننگز کھیلی تو خان صاحب نے ڈین جونز کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ سیاست کی ضرورت ذرا مختلف ہے، اب جو خان صاحب کو چھوڑ کر جائے گا وہ ”ٹکے ٹوکری“ کہلائے گا۔
کل کی تقریر دراصل ایک ڈیفنس میکانزم تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا بھی ہے کہ کہنا کچھ اور تھا لیکن شدت جذبات میں کہہ کچھ اور گئے گو کہ اپنی طرف سے شاہ محمود نے دفاع کیا تھا خان صاحب گا لیکن شاہ جی، ”ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو”۔ بات بہرحال درست ہے کہ خان صاحب آئے تو صلح جوئی کا پیغام لے کر تھے لیکن بس پھٹ پڑے۔
گھر سے تو ہر معاملہ کر کے چلے تھے صاف ہم
کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی ( فیض)
خان صاحب وہ کچھ کہہ گئے جو وہ شاید کر نہ سکیں کیونکہ ڈاکو کے ساتھ این آر او تو کرنا ہی پڑے گا۔ اگر آپ ایک جلسہ کے لیے الطاف حسین سے، چند ووٹوں کے لیے چودھری پرویز الٰہی سے، چند لوگوں کی خوشی کے لیے طالبان سےاور چند جھولوں ( جہاز کے) کے لیے ترین سے این آر او کر سکتے ہیں تو کسی اور ڈاکو سے کہیں نہیں۔ ویسے بھی اس ڈاکو کو تو زبردستی ڈاکو بنایا گیا ہے اور جنہوں نے بنایا ہے وہ آپکو بھی زانی، شرابی، ڈرگ ایڈکٹ، ناجائز بچی کا باپ، سیکیورٹی رسک اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والا کر رہے ہوں گے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ قوم کی تقدیر بدل نہیں سکتے یا بدلنا نہیں چاہتے بل کہ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ڈاکو بنانے والے آپ کو بھی چلنے نہیں دیں گے کیونکہ ہر راہ جو بھلائی کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات ہوں یا امریکہ سے بیگانگی، ایران سے رسمی دوستی کا اظہار ہو یا یورپ سے بیزاری، بجٹ کے بکھیڑے ہوں یا دفاع کے تھپیڑے، ایف اے ٹی ایف کا پرچہ ہو یا بجلی کا خرچہ، دفاع کے معاملات ہوں یا خارجہ کا چرچا، ”بہت ہے ظلم کہ دست بہانہ جو کے لیے“۔ میاں صاحب دشت غم میں آہوئے صیاد دیدہ تھے اسی لیے سمجھوتہ پر سمجھوتہ کرتے گئے لیکن طاقت کی نفسیات دانشمندی یا مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتی اور پھیلتی چلی جاتی ہے۔ خان صاحب نے فرمایا وہ کبھی کسی سے بلیک میل نہیں ہوئے۔ بجا فرمایا! بلیک میل کرنے کے لیے قابل اعتراض تصویریں یا پیغامات ہی ضروری نہیں ہوتے، بعض اوقات آپ کو سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لئے بدنام زمانہ ٹی وی اینکرز کو بھی پارٹی میں شامل کرنا پڑتا ہے۔
کوئی شک نہیں کہ خان صاحب قوم کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں اور نواز شریف بھی یہی چاہتے تھے لیکن،
وصال یار بڑی چیز ہے مگر ہمدم
وصال یار فقط آ رزو کی بات نہیں
اگر آپ معاشرے کے لیے کچھ کرنا چاہیں گے تو کوئی قادری ریاست بچانے آ جائے گا۔ کوئی عامر پارٹی میں بغاوت کرکے اسلام کو آپ سے بچانے لگے گا، کسی خسرو بختیار کو علیحدہ صوبہ کا بخار چڑھ جائے گا، کوئی شاہ محمود قریشی کسی ریمنڈ ڈیوس کے لیے اصولی موقف اپنا لے گا اور آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔ کوئی سیاسی یونس احمد آپ پر منشیات استعمال کرنے کا الزام لگا دے گا۔ جب بھی آپ من مانی کرنے لگیں گے کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔
اس کچھ نہ کچھ سے بچنے کے لیے ہم کہتے تھے کہ میاں صاحب کو ووٹ آ ؤٹ ہونے دیں۔ ایک کمزور ججمنٹ پر جیل نہ جانے دیں۔ اب این آ ر او کرنا پڑے گا گو کہ آپ بھی یہ سب عدالتوں پر ہی چھوڑیں گے۔ تاریخ تالیاں بجانے والوں کے لئے خود کو دہراتی ہے کیونکہ تالیاں بجانے والے تبدیلی چاہتے ہیں جو خان صاحب سیاسی جلسوں میں گانے متعارف کروا کر لے آئے ہیں۔ قدم بڑھائیں خان صاحب اور ہر قدم پر آپکو میاں صاحب کی آ واز آئے گی
”گلی گلی میری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل“
مجھے پورا یقین ہے ایک دن خان صاحب بھی میاں صاحب کی طرح غیر سیاسی قوتوں کی حاکمیت کے خلاف بر سر پیکار ہوں گے اور ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔ اس دن خان صاحب بڑھک بازی اور شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید جیسے دوست نما دشمنوں کے نرغے سے نکل چکے ہوں گے۔


