اپوزیشن عمران کے معاملے میں غصے نہیں تدّبر سے کام لے
یہ تحریریں پڑھنے والوں کو بخوبی علم ہے کہ میں کبھی عمران خان کا مداح نہیں رہا یا با الفاظ دیگر اپنی حقیقت پسندی کو کسی بے بنیاد خوش فہمی کی نذر نہیں ہونے دیا کیونکہ صبح و شام اس کے یو ٹرنز بھی دیکھے اور پی ٹی آئی حکومت کو بھی کے پی کے میں بھگتا۔
اس کے عوامی کی بجائے ایمپائر پولیٹکس اور ایک "شفاف” الیکشن بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے رہے جس کے ذریعے عمران خان کی وزارت عظمٰی کا دیرینہ خواب بھی چلو پورا ہوگیا۔ لیکن یہاں بات ایک اور حوالے سے ہورہی ہے اور وہ یہ کہ کیا سیاست اور جمہوریت کے پہیے کو روک کر اسے غیض و غضب اور آتش انتقام کے سپرد کیا جائے؟
کیا آگے بڑھنے کی بجائے اس پالیسی کو پروان چڑھایا جائے کہ عمران خان نے ہمیں حکومت نہیں کرنے دی تھی وہ دن رات بدزبانی کرتے اور گالیاں دیتے رہے وہ چوکوں میں دھرنے دیتے رہے پارلیمنٹ پر چڑھائی کرتے پی ٹی وی میں توڑ پھوڑ کرتے اور ہر مخالف کو عصمت اللہ جونیجو بنانے کے درپے تھے اور ہر سیاسی حریف کو چور ڈاکو اور کرپٹ کہہ کر پکارتے رہے، لہذا ہم بھی وہی کریں گے جو عمران خان کرتے رہے۔
اگر آپ کا سیاسی بیانیہ بھی وہی ہے تو پھر جمہوریت کے لبادے میں اس دیو استبداد سے آپ بھی کھیلتے رہیں جس سے عمران خان اور اس کے نادان پیروکار جی بہلاتے رہے حکومت کو دیوار سے لگاتے رہیں، گالیوں اور بہتان طرازی کا بازار سجاتے رہیں اور چور چور اور ڈاکو ڈاکو بولتے رہیں۔ اس دوران سول سپرمیسی اور ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ بھی متروک اور معدوم ہوتا جائے گا اور انصاف سب کے لئے کا خواب بھی کسی بھولی بسری کہانی کی مانند اپنی اہمیت کھو دے گا۔
اور رہے عوام تو ان سے بے فکر ہو جائیں وہ پھر بھی عمران خان کے جلسوں میں ناچتے، نواز شریف کے جلسوں میں بھنگڑے ڈالتے اور آصف زرداری کو مسیحا سمجھتے رہیں گے وہ اپنے اپنے لیڈروں کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے اور گالی گلوچ دیتے دکھائی دیں گے۔ سو یہ ”میلہ ” سجا رہے گا اور آپ کی سیاسی دوکان چلتی رہے گی۔
لیکن اگر وقت کی تبدیلی واقعی انسانی ذہنوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسی اثراندازی نے کسی حد تک ہماری سیاست کے در و بام چھوئے ہیں تو سنجیدگی اور دور اندیشی کے راستے پر بھی جایا جا سکتا ہے، اگر عمران خان کی سیاست اور دو ہزار اٹھارہ الیکشن کو چودھری شجاعت کے فلسفے مٹی پاؤ کے سپرد کیا جائے تو امید و امکان کے دریچے وا ہو سکتے ہیں جو ذاتی نہیں بلکہ جمہوری معاملات سے وابستہ ہونا چاہیے۔ عمران خان یقینًا اس ملک کے وزیراعظم بن گئے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس ملک کا وزیراعظم محض ایک مظلوم اعظم ہی ہوتا ہے۔ کیا وہ وقت آیا نہیں کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر وزیراعظم کو مظلومیت کے حصار سے نکالنے میں موثر کردار ادا کریں (وہ وزیراعظم عمران خان ہی کیوں نہ ہو)۔
پارلیمنٹ کو جب تک سپریم اور مؤثر نہ بنایا جائے تب تک جمہوریت کا استحکام اور وزیراعظم کا با اختیار ہونا فقط ایک خواب ہی رہے گا۔ آج اگر عمران خان وزارت عظمٰی کے منصب کو سنبھالے ہوئے ہیں تو کل کوئی اور سیاستدان یہیں دکھائی دے گا اس لئے ضروری ہے کہ سول سپرمیسی کی خاطر مخالف سیاسی قوتیں عمران خان کو تنھائی اور بے بسی سے بچانے کے لئے پیچھے دھکیلنے کی بجائے اس کی طرف بڑھیں تاکہ اسے سیاسی تنہائی اور بے بسی سے بچایا جائے۔
یہی وہ وقت ہے کہ تمام سیاسی قیادت غیض اور انتقام کی بجائے تدبّر اور بصیرت کا راستہ اپنائے بجا کہ عمران خان کی بہتان طراز یوں اور زبان درازی کی طویل سیاست نے فطری طور پر مخالف جماعتوں خصوصًا مسلم لیگ کو آتش زیر پا کیا ہوا ہے لیکن اگر اس پر آشوب وقت میں جذبات پر قابو پاکر تدبّر اور دور اندیشی کے راستے کا انتخاب کیا گیا تو کٹھن راستہ قدرے آسان اور منزل مزید قریب ہو سکتی ہے۔


