بیسواں خواب نامہ۔۔۔a little person

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

26 مئی 2018

درویش کا اپنی سات سمندر پار دوست کو سلام

درویش اپنی کٹیا سے باہر جھانک رہا ہے۔ اسے آسمان پر چند بادل دکھائی دے رہے ہیں جو آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔ دو ہفتے پہلے یہاں آندھی اور برف کا طوفان آیا تھا جس سے بہت سے درخت اور گھر گر گئے تھے لیکن اب درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے اور موسمِ گرما دبے قدموں شہر میں داخل ہو رہا ہے۔ کینیڈا وہ ملک ہے جہاں دسمبر میں درجہ حرارت منفی۔30C اور جون میں 30C مثبت +ہو جاتا ہے۔ اگر کینیڈا انسان ہوتا تو ہم آسانی سے کہہ سکتے تھے کہ وہ نفسیاتی حوالے سے bipolar disorder کا شکار ہے۔ کینیڈا کا موسم ہر سال اتنا بدلتا رہتا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ سال کے مختلف مہینوں میں ہم کسی اور ہی ملک میں رہ رہے ہیں۔
اے رابعہ! درویش آپ کے چبھتے ہوئے مشکل سوال کا ایک دفعہ پھر جواب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ درویش نے اپنی زندگی میں عورت سے دوستی کی‘محبت کی‘اسکی زلف کا اسیر ہوا‘ اس کے ساتھ شام و سحر گزارے‘اس کے ساتھ سفر کیا لیکن کبھی اس کے دل میں باپ بننے کی‘ بچے پیدا کرنے کی اور اپنا خاندان بنانے کی خواہش نے انگڑائی نہ لی۔ درویش کو بچے پسند ہیں لیکن کبھی اپنے بچے پیدا کرنے کی خواہش نہ ہوئی۔
جب درویش کی اکلوتی بہن عنبر نے اس سے پوچھا کہ آپ کیوں بچے پیدا نہیں کرتے تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ یوں سمجھیں کہ آپ کے جو چار بچے ہیں ان میں سے دو میرے ہیں دو آپ کے۔یہ سن کر عنبر بھی مسکرا دی۔
یہ تو حسنِ اتفاق ہے کہ عنبر کے بڑے دو بچے عفیفہ اور عروج مشرق میں رہے لیکن چھوٹے دو بچے ذیشان اور وردہ مغرب میں درویش کے پاس آ گئے۔ درویش نے ماموں بننے کو ساری عمر بہت اینجوائے enjoyکیا ہے۔ دو سال پیشتر درویش کی بھانجی وردہ کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے جس کا نام الیزا ہے لیکن درویش اسے پیار سے مونا لیزا کہتا ہے۔ پچھلے ہفتے درویش پہلی بار وردہ اور مونالیزا کو لے کر میکڈونلڈ گیا تھا۔ وہ شام پیار بھری حسین شام تھی۔
درویش کا خیال ہے کہ بچے ہم سب کے بچے ہیں۔ اسی لیے اب بھی وہ ایڈرئینا کے ساتھ رہتا ہے جسے بے ٹی ڈیوس نے رومینیا سے adopt کیا تھا۔ چنانچہ درویش یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے باپ کا کردار تو ادا کیا ہے لیکن جسمانی طور پر کبھی باپ نہیں بنا۔ ایڈرئینا اسے فرینڈلی فادر friendly fatherکہتی ہے۔ درویش کا ایک شعر ہے
؎ وہ جس کسی کی بھی آغوشِ جاں کے بچے ہیں
نویدِ صبح ہیں سارے جہاں کے بچے ہیں
امید ہے اس جواب سے رابعہ کی تھوڑی سی تسلی ہو گئی ہوگی۔
رابعہ کی نانی کی باتیں پڑھ کر درویش کو بھی اپنی نانی سرور یاد آ گئی جسے ملنے وہ بچپن میں ہر سال اپنی والدہ عائشہ اور بہن عنبر کے ساتھ پشاور سے لاہور جاتا تھا۔ درویش کی نانی ۴ مزنگ روڈ لاہور میں رہتی تھیں۔ درویش کو اپنی نانی سے بہت لگاؤ تھا۔ وہ ایک دانا عورت تھیں۔ درویش کو ان کی جو بات سب سے زیادہ پسند تھی وہ یہ تھی کہ وہ درویش کی رائے پوچھتی تھیں
بیٹا آپ جوس پئیں گے یا دودھ؟
دودھ
گرم پئیں گے یا ٹھنڈا؟
ٹھنڈا برف کے ساتھ
بیٹا آپ رات کو نیچے سوئیں گے یا چھت پر؟
چھت پر اپنی نانی اماں کے ساتھ
درویش کی نانی اماں درویش سے ایک بچے کی طرح نہیں بلکہ a little person کی طرح بات کرتی تھیں۔ درویش نے اپنی نانی اماں سے بچوں کا اور ان کی رائے کا احترام کرنا سیکھا ہے۔ اسی لیے درویش بچوں کا اور بچیوں کا احترام کرتا ہے۔ احترام جو محبت کی پہلی سیڑھی ہے۔ رابعہ کی نانی کی طرح درویش کی نانی بھی محبت کا سمندر تھیں۔
درویش کو رابعہ کے خطوط سے اندازہ ہو رہا ہے کہ اسے روحانیت سے خاصا لگاؤ ہے۔ درویش متجسس ہے کہ کیا رابعہ کی کبھی کسی سنت‘ سادھو یا صوفی سے ملاقات ہوئی ہے۔ کیا رابعہ کو رابعہ بصری کی طرح کوئی روحانی تجربہ ہوا ہے؟
درویش رابعہ سے اجازت چاہتا ہے کیونکہ اسے اس کی بیٹی ایڈرئینا اور اس کے بوائے فرینڈ گیورگی Georgiنے ایک ایرانی رسٹورانٹ ’زعفران‘ میں لنچ پر بلایا ہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ وہ کسی ایسے ملک میں نہیں رہ رہا،جہاں رمضان میں کسی رستورانٹ میں لنچ کھانے پر اس پر کفر کا فتویٰ لگ جاتا یا جنت جانے کے شوق میں کوئی اسے شہید کر دیتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •