سلیم صافی: مجرم یا صحافی
پرانی بات ہے، میں ایک قومی روزنامے سے بحیثیت کالم نگار وابستہ تھا۔ پشاور صدر کے جس بلڈنگ میں مذکورہ روزنامے کا دفتر تھا، وہاں ایک کمرے میں ایک نیوز ایجنسی کا دفتر بھی تھا، ایک دبلا پتلا دیہاتی ٹائپ کا ایک نوجوان اسی نیوز ایجنسی میں کام کرتا تھا سو اس بلڈنگ کے علاوہ کبھی پریس کلب، کبھی کسی تقریب، کبھی کسی اخبار کے دفتر یا راہ چلتے کثرت سے ہماری ملاقاتیں ہوتی رہتیں لیکن وہ کبھی میرے قریبی رفقاء یا دوستوں میں سے نہیں رہا،کیونکہ نہ یہ میری خواہش تھی نہ اس کی تمنا بلکہ ایک بار تو ہم دونوں کے درمیان تلخی بھی پیدا ہوئی جب پشاور میں ایک بدنما واقعہ ہوا اور پرنٹ میڈیا اسے اچھالنا شروع کیا۔ اس واقعے میں ایک طاقتور سیاسی شخصیت کے بیٹے کا نام بھی دبے لفظوں میں لیا جانے لگا تو معاملے کو ایک اور رخ دینے اور اصل مجرم سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک انتہائی شریف اور دیانتدار افسر کو بے گناہ ملوث کیا گیا تو دوسرے دن اس نوجوان اخبار نویس نے طاقتور سیاسی شخصیت اور اس کے بیٹے کے حق میں کالم لکھا لیکن اگلے دن میں نے اپنے کالم میں نہ صرف تمام حقائق کھل کر لکھے بلکہ یہاں تک اشارہ دے گیا کہ وہ کالم اصل میں کس کے کہنے پر لکھا گیا ہے حالانکہ کالم نگار اس معامل میں اپنی سادگی کی وجہ سے ٹریپ ہوگیا تھا اور ایسا اس کے ساتھ اکثر ہوتا ہے۔ اس دبلے پتلے نوجوان صحافی کا نام سلیم صافی تھا جو بعد میں مین سٹریم میڈیا میں آیا اور بہت شہرت سمیٹی۔
کچھ دن پہلے سلیم صافی نے ایک عام سی خبر کو ایک ٹی وی ٹاک شو میں بریک کیا (عام طور پر اس طرح کی خبروں سے اخبارنویسوں کی جیبیں بھری رہتی ہیں) خبر کا بریک ہونا تھا کہ سوشل میڈیا پر نوزائیدہ سیاسی ورکروں اور جنوں بھوتوں نے سلیم صافی کو گردن زنی بنا کر پیش کرنا شروع کیا اور خبر میں تھا ہی کیا؟ یہی کہ نواز شریف کی وزارت عظمٰی کے دور میں پرائم منسٹر اپنا خرچہ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور اس کے ثبوت (چیک ) موجودہ وزیراعظم عمران خان کے اصرار پر اسے دکھا دئے گئے، لیکن خبر چونکہ نواز شریف کے حق میں جا رہی تھی جس کی کیفیت اس وقت یہ ہے کہ
اُلجھ پڑا ہوں زمیں کے سبھی خداؤں سے
میرے خدا میرے حق میں بس ایک تو ہے بہت
سو زمیں کے خداؤں کے اشارے پر اس کے "بندے” ایک اخبار نویس سلیم صافی پر ٹوٹ پڑے حالانکہ ایک اخبار نویس خبر نہیں دے گا تو کھائے گا کیا؟
لیکن عجیب معیارات بنا دئے گئے ہیں کہ جو ہمیں پسند نہیں اس پر الزامات لگا سکتے ہو، بہتان طرازی کر سکتے ہو اور گالیاں دے سکتے ہو لیکن خبردار جو اس کی کوئی اچھائی یا نیکی نوکِ قلم یا زبان پر لے آیا خواہ وہ مبنی پر حقیقت ہی کیوں نہ ہو، تاہم لکیر کے اس پار کھڑے لوگوں یا بالفاظِ دیگر ہمارے اپنے لوگوں کی برائی کو نیکی، ظلم کو عدل، دھوکے کو خلوص اور جھوٹ کو سچائی ثابت کرنے میں آزاد ہیں ۔لیکن نہیں جناب!
رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے
ضروری تو نہیں کہ ہر صحافی بکتا رہے اور ہر لکھاری ڈرتا رہے۔ میں نے کالم کے آغاز میں لکھا کہ سلیم صافی کبھی میرے پسندیدہ کولیگز کی لسٹ میں نہیں رہے نہ ہم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ یا تعلق ہے لیکن باوجود بعض تحفظات کے میں اسے بہت سے مشہور صحافیوں کی نسبت زیادہ نڈر، حق گو اور محنتی صحافی سمجھتا ہوں اس کا تعلق اپنے قلم قبیلے کے ان لوگوں سے ہے جو آسانی کے ساتھ نہ اپنا حق دوسروں کو غضب کرنے دیتا ہے نہ اپنے قلم کا رُخ کسی کے اشارہ ِابرو سے باندھ دیتا ہے،گو کہ وہ کوئی اتنا زیادہ آئیڈیل نہیں بلکہ بعض جگہوں میں تو اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مجرمانہ جھول کے ساتھ ذاتی دوستیوں کے سامنے پیچھے ہٹتا ہوا محسوس کیا گیا ۔
تاہم ایک صحافی اور قلمی مزدور کی حیثیت سے اس کا حق بنتا ہے کہ قلم قبیلہ شعور سے بے بہرہ اور تہذیب سے عاری گروہ سے بچانے کے لئے اس کی مدد کرے کیونکہ اگر ہم پیچھے ہٹے تو پاکستان کو ماضی قریب کا کراچی اور ایک جماعت کو ایم کیو ایم بنتے کتنی دیر لگے گی؟
یہ صرف سلیم صافی ہی نہیں بلکہ ہر وہ صحافی اور لکھاری جو ایک مخصوص دائرے سے نکل کر بولنے یا لکھنے کی کوشش کرتا ہے اسے ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے لیکن بلیک میل ہونے اور پیچھے ہٹنے کی بجھائے حقائق کو ٹارگٹ کرنا اور ڈٹنا ہو گا۔
ایک گروہ دیتا رہے گالیاں، بولتے رہیں لفافہ لفافہ، اُڑاتے رہیں مذاق اور چلاتے رہیں طنز کے نشتر جو بضد ہیں کہ ہم سب بھی حماقت کے اس راستے کا انتخاب کریں جس پر وہ خود اپنی بربادی کا سفر آغاز کر چکے ہیں اور انہیں بھی جلد یا بدیرلوٹ کر اس راستے پر آنا ہے جس راستےکا انتخاب کرنے والے اس وقت مجرم گردانے جا رہے ہیں۔


