بشریٰ بی بی کیوں ضروری ہیں؟


بشریٰ بی بی نے مبینہ طور پر عثمان بزدار کے نام قرعہ فال نکالا ہے اور خان صاحب کی مشکل آسان کر دی ورنہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے تو ہر ” للو بھٹیار“ شہباز شریف کی متھ توڑنے کے لیے لانگ شوز خرید بیٹھا تھا۔ سنا ہے آج کل خان صاحب نہ صرف صحافیوں کی چائے کے پیسے بچا رہے ہیں بلکہ ہر اس پراجیکٹ پر غور کر رہے ہیں جس سے پیسے کمائے جا سکیں مثلاً نتھیا گلی کے گورنر ہاؤس کو فائیو سٹار ہوٹل میں بدل کر خزانہ میں پیسے بھرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ خان صاحب خود ایک سیاح رہے ہیں اور سیاحت کے فروغ سے بھی پیسہ کمانے کے جتن کرنا چاہتے ہیں۔ شیخ رشید تو بڑھک مار کر خنجراب تک پٹڑی بچھانا چاہتے ہیں۔ ایک شخص فرط جذبات میں کہتا چلا جا رہا تھا، ” مدینہ کو جاؤں، آؤں، پھر جاؤں اور آؤں، جاؤں، آؤں، جاؤں، اؤں“۔ پاس سے گزرتا شخص بولا، ” کرایہ تیرا پیو دے سی“ یعنی کرایہ تمہارا باپ دے گا؟

ایک کروڑ نوکریاں بشریٰ بی بی کی کرامات کے بغیر نہیں دی جا سکتیں۔ آپ لاکھ کہیں کہ چین، بھارت اور برازیل نے نوکریاں دی ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ وہاں تو کوئی بشریٰ بی بی نہیں ہے۔ بجا فرمایا! جناب وہاں مقامی صنعت کو پروموٹ کیا گیا ہے گو کہ انسانوں کی بہت بڑی تعداد غربت سے نیچے رہ رہی یے۔ بی بی کا کمال یہ ہو گا کہ انہونی کر دکھائیں گی۔ لوٹے میں بجلی بھر بھر لائی جا ئے گی اور صنعتیں چلانے کے لیے مزدور کم پڑ جائیں گے۔ بھارت کے ساتھ جو ہوگا وہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔ ادھر لوٹا گھومنا ہے ادھر ان کی فصلوں میں کیڑے پڑ جائیں گے اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے ہمارے تلوے چاٹنے پر مجبور ہو جائے گی بھارتی حکومت۔ ادھر کالی دال چھت پر پھینکیں گے ادھر ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکال دے گا۔ ادھر سریاں پھینکیں گے ادھر ہم یورپ کی منڈیوں میں کپڑا بھیجنے لگیں گے اور جی ایس پلس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اکٹھے کرنے لگیں گے۔

بشریٰ بی بی کو اللّٰہ زندگی دے۔ ہم نے تصوف کی ایسی کیش ویلیو تو رومی اور غزالی کے ہاں نہیں دیکھی جو بشریٰ بی بی نے دکھائی ہے۔

بشریٰ بی بی کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جو جھگڑے خان صاحب پارٹی میں نہیں نپٹا پائیں گے وہ بشریٰ بی بی استخارہ سے حل کر دیں گی۔ ذرا تصور کریں کہ اگر ہم افغان وار، ایک فون کال پر دہشت گردی کے خلاف جنگ، قرضوں لینے کے فیصلے ”تھنک ٹینکس“ کی بجائے بشریٰ بی بی سے کرواتے تو شاید آج پچھتا نہ رہے ہوتے۔ اللہ بشریٰ بی بی کو لمبی زندگی دے کہ انہوں نے ہمارے سارے مسئلے حل کر دیے ہیں۔ وجاہت مسعود صاحب جیسے کچھ سر پھرے دانشور جمہوریت پسندی، روشن خیالی اور سائینسی طرز فکر اپنانے کا درس دیتے رہتے ہیں حالانکہ جو کام چند بوسوں اور پھولوں کی چند چادروں سے ہو سکتا ہے اس کے لیے اتنے پاپڑ بیلنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کچھ بھی سمجھیں لیکن ایک بات طے ہے کہ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کی ہیجانی کیفیت ختم کر کے انہیں فوکسڈ کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2