کیا آپ ایک بورنگ انسان ہیں ؟
میں نے اپنی زندگی میں دو طرح کے مفلس انسان دیکھے ہیں۔ایک وہ جو مالی طور پر مفلس ہیں اور دوسرے وہ جو ذہنی طور پر مفلس ہیں۔ایسے لوگ POVERTY OF THOUGHTS (فکری افلاس) کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس نہ نئے خیالات ہوتے ہیں، نہ تازہ تصورات۔ نہ نئے خواب ہوتے ہیں، نہ تازہ آدرش۔ ان کی ساری زندگی ایک سراپا کلیشے بن جاتی ہے۔ وہ لکیر کے فقیر ہوتے ہیں اور ساری عمر فرسودہ روایات پر عمل کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دل میں کوئی تازہ خواہش، ان کے من میں کوئی تازہ آرزو، ان کے ذہن میں کوئی تازہ جذبہ انگڑائی نہیں لیتا۔ لوگ ان سے کترانے لگتے ہیں۔ انہیں بورنگ سمجھنے لگتے ہیں اور بعض دفعہ انہیں اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
اگر آپ بھی ایک بورنگ انسان ہیں تو آپ اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ اپنی شخصیت اور طرزِ زندگی کو کیسے بدل سکتے ہیں اور کیسے اپنی زندگی کو دلچسپ اور بامعنی بنا سکتے ہیں؟
میں نے پچھلے تیس برس میں اپنے کلینک میں بہت سے ایسے مردوں اور عورتوں کا علاج کیا ہے جو حیران ہوتے ہیں کہ لوگ محفل میں ان سے ملنے سے کیوں کتراتے ہیں۔ لوگ ان سے ملنے ان کے گھر کیوں نہیں آتے اور انہیں اپنے گھر بھی کیوں نہیں بلاتے؟
میں ایسے مریضوں سے کہتا ہوں کہ وہ ایک مشغلہ اپنائیں۔ زندگی کے کسی خاص شعبے میں خصوصی دلچسپی لیں۔ چاہے وہ کھیل ہو یا فنونِ لطیفہ، سائنس ہو یا فلسفہ۔ اس موضوع پر تحقیق کریں اور اپنا علم بڑھائیں۔

میرے ایک مریض نے موسیقی میں دلچسپی لی اور BEATLES کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔
دوسری مریضہ نے پینٹنگ میں دلچسپی لی اور میکسیکو کی FREIDA KAHLO کو اپنا پسندیدہ آرٹسٹ مانا۔
تیسری مریضہ نے فلموں میں دلچسپی لی اور STEPHEN SPIELBERG کی ساری فلمیں دیکھیں۔
چوتھے مریض نے عارفانہ شاعری میں دلچسپی لی اور جلال الدین رومی، بلھے شاہ، ولیم بلیک، والٹ وٹمین، رابندرا ناتھ ٹیگور اور کبیر داس کی شاعری کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔
پھر میں نے ان مریضوں سے کہا کہ وہ اپنی زندگی یا انٹرنیٹ پر ان لوگوں سے ملیں جو ان کے پسندیدہ موضوع میں دلچسپی لیتے ہیں تا کہ ان سے تبادلہِ خیال کر سکیں۔ اس طرح ان کا دوستوں کا حلقہ بنا جسے میں FAMILY OF THE HEART کہتا ہوں۔
میں نے ان سے کہا کہ ہمارے مشغلے ہمیں دوست بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ خود میں نے جب سے ’ہم سب، پر لکھنا اور یوٹیوب پر ڈاکٹر بلند اقبال سے ساتھ مل کر IN SEARCH OF WISDOM پروگرام پیش کرنا شروع کیا ہے میرے بہت سے نئے دوست بنے ہیں۔ ان دوستوں نے میری زندگی کی خوشیوں میں اضافہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے دلچسپ اور بامعنی بھی بنایا ہے۔ ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کو دلچسپ اور بامعنی بنانا ار دوستوں کا ایک حلقہ تخلیق کرنا ہماری ذہنی صحت کے لیے اہم ہے۔

ماہرِ نفسیات HARRY STACK SULLIVAN کہا کرتے تھے کہ کوئی انسان ذہنی طور پر اتنا ہی صحتمند ہے جتنے اس کے انسانی رشتے۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے
A MAN IS KNOWN BY THE COMPANY HE KEEPS
وہ لوگ زیادہ دلچسپ اور صحتمند ہوتے ہیں جن کے دوست فنونِ لطیفہ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور خدمتِ خلق کرتے ہیں۔ یہ دوست ان دوستوں سے بہتر ہیں جو خود غرض ہوتے ہیں، دن رات دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور دوسروں کا استحصال کر کے خوش ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر اوقات نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمیں ان سے ایک نفسیاتی اور سماجی فاصلہ رکھنا چاہیے۔
میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔اس سے ان کے نئے دوست بھی بنیں گے ، لوگ ان کی عزت بھی کریں گے اور ان کی عزتِ نفس کو بھی بڑھاوا ملے گا۔
اب میرا ایک مریض بے گھروں میں کھانا تقسیم کرتا ہے۔
دوسری مریضہ اپنے بچوں کے سکول میں والنٹیر ورک کرتی ہے۔
تیسری مریضہ بے گھر جانوروں کا خیال رکھتی ہے۔
وہ لوگ جن کے دل میں ایک نئی خواہش اور نئی آرزو زندہ ہوتی ہے، جن کے ذہن میں نیا آدرش اور نیا خواب دھڑکتا ہے وہ زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارتے ہیں۔ وہ دوسروں کو بھی INSPIRE کرتے ہیں۔ وہ پہلے خواب تخلیق کرتے ہیں اور پھر حقیقت پسند منصوبے بنا کر ان خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کرتے ہیں۔ یہ کام زندگی سے محبت کرنے سے آتے ہیں۔ زندگی سے محبت ہی نہیں فنونِ لطیفہ اور انسانوں سے محبت بھی ہماری زندگی کو دلچسپ، صحتمند اور پر معنی بناتے ہیں۔
میں اپنی زندگی کی شام تک پہنچتے پہنچتے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہم سب کے اندر ایک بچہ موجود ہے جو زندگی کو حیرت سے دیکھتا ہے۔ زندگی کی تمام تر ذمہ داریوں اور مصروفیات کے باوجود اس بچے کو اور اس کی حیرت کو زندہ رکھنا زندگی کو دلچسپ اور بامعنی بناتا ہے۔ اس بچے کی حیرت نے ہی سائنس، فلسفے اور فنونِ لطیفہ کو جنم دیا ہے۔
اگر آپ کی زندگی اور شخصیت بورنگ ہے تو ایک خواب تخلیق کریں اور اگر خود تخلیق نہیں کر سکتے تو کسی اور کے خواب میں شامل ہو جائیں اور اسے شرمندہِ تعبیر کریں اور خدمتِ خلق کریں تا کہ آپ کی اپنی اور دوسروں کی زندگی خوبصورت بھی بنے اور بامعنی بھی۔۔ زندگی کا ہر دن قیمتی ہے۔ عارفؔ عبدالمتین کا شعر ہے
یوں گزارو ہر ایک دن گویا
زندگی کا یہ آخری دن ہے



