زندگی کو زندہ رکھنے والا جرات مند شاعر اور صحافی: احفاظ الرحمن
مجھے بالکل اچھی طرح تو یاد نہیں کہ پہلی بار میں نے کب احفاظ الرحمن کو روبرو دیکھا، لیکن رسالہ ”آدھی دنیا“ (محنت کش عورتوں کے لیے شائع ہونے والا رسالہ) کے توسط سے ان کی اہلیہ مہناز رحمن، جو خود اہم صحافی ادیبہ اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں، سے درستی اور قربت نے میرا احفاظ الرحمن سے غائبانہ تعارف ضرور کروا دیا تھا۔ کچھ برسوں بعد ایک آدھ بار ہلکی پھلکی ملاقات بھی ہوئی اور بس اس کے بعد ہم نے امریکا کی شہرت اختیار کر لی۔ ان بہت سے انقلابیوں کی طرح جنہوں نے زمانہ طالب علمی میں پرجوش نعرے لگائے تھے۔
امریکا کا جو یار ہے
غدار ہے غدار ہے
آج اگر سوچوں تو بے شمار انقلابی ”غداری“ کا راستہ ناپتے ہوئے امریکا کی مختلف ریاستوں میں جا بسے، باوجود سامراجی حکومتوں کی آمریت اور استحصالی پالیسیوں سے عناد کے۔ تاہم احفاظ الرحمن نے، جو اپنی پُرجدوجہد زندگی میں پابندِ سلاسل بھی رہے، بے روزگاری کے ہاتھوں معاشی مسائل کو بھی جھیلا لیکن اپنی ذاتی پریشانیوں سے گھبرا کر نہ ہی اعلیٰ حکام سے سودا بازی کی اورنہ ہی کسی ترقی یافتہ ملک میں گوشہِ عافیت تلاش کیا کہ ان کے وجود کی جڑیں اپنی زمین میں گہری اور مضبوط ہیں۔
آج ان کی نظموں کی کتاب ”زندہ ہے زندگی“ کی توانا شاعری پڑھتے ہوئے مجھے ایمان کی حد تک یقین ہے کہ احفاظ الرحمن زمین کے بیٹے ہیں۔ ان کا رشتہ خیالی دنیا میں بسنے والوں کے بجائے دھرتی کے باسیوں کے آزار اور ابتلاﺅں اور سکھ سے جڑا ہوا ہے۔ وہ عوامی سطح پر انصاف اور امن پسند سماج کے متمنی اور متلاشی ہیں جس کا ثبوت ان کی تقریباً نصف صدی پر محیط عوامی حقوق کی وہ جنگ ہے جو وہ اپنے قلم سے مسلسل لڑرہے ہیں بطور صحافی، ادیب اور شاعر۔ حق کی بقا کے لیے ان کی توانائی اتنی شدید ہے کہ کوئی حکومت اسے توڑ نہیں سکی۔
احفاظ الرحمن نے بطور طالب علم اگر ایوب خان کی فوجی حکومت کے خلاف جدوجہد کی تو صحافی کی حیثیت سے جنرل ضیا کی آمریت کی سرکوبی کے لیے مسلسل برسرپیکار رہے۔ 1877-78 میں ہونے والی تحریکِ آزادی صحافت میں وہ پہلے صحافی تھے کہ جس نے سر اٹھا کر اپنی گرفتاری پیش کی۔ قید و سلاسل کے بعد رہا ہوئے تو جمہوری حقوق کی جنگ کی پاداش میں تمام اہم اخبارات اور رسائل کے لیے ان کا نام ”سیاہ فہرست“ میں شامل قرار دیا گیا جس کے سبب انہوں نے بیروزگاری اور معاشی صعوبتوں کو بھی خندہ پیشانی سے جھیلا۔
احفاظ الرحمن کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ صحافت کا اہم نام لیکن وہ بھرپور شاعر بھی ہیں۔ بالعموم صحافت اور شاعری کا امتزاج ایک دوسرے سے متصادم اور ضد قرار دیا جاتا ہے لیکن ان کی نظموں کی کتاب ”زندہ ہے زندگی“ میں شعریت سے بھرپور حقیقی زندگی سے مستعار نظموں میں یہ ملاپ ایک منفی تصادم کے بجائے باہم خوشگوار ”ہم آغوشی“ کا مظہر محسوس ہوتا ہے۔ ان کی مزاحمتی نظموں میں تلخی، غم و غصہ سے آغشتگی کے باوجود نعرہ بازی نہیں بلکہ ان جذبوں کی شدت کے باوجود شاعرانہ حسن و جمال بھرپور ہے۔ اور واردات کی تلخی اور سفاکی کے باوجود شعریت مجروح ہوتی نظر نہیں آتی۔ مثلاً
تکتے تکتے تھک گئے نیناں، سوگئے سارے سپنے
سوکھ گئی ساری پھلواری، رنگ ہوئے بے رنگے
پڑے پڑے بے حال ہوئے میری نیّا کے پتوار
سئیں چھیڑ دے میگھ ملہار
رس برسے، یہ کال کٹے
سئیں چھیڑ دے میگھ ملہار
احفاظ کا دھرتی کی کوکھ سے آنول نال کا رشتہ ہے۔ جب ہی یہاں کے باسیوں کے مسائل سے جڑنے کے سبب ان کے موضوعات میں تنوع ہے۔ جس کی اپچ کسی خاص خطہ تک محدود ہونے کے بجائے عالم کا احاطہ کرتی ہے۔ اگر بطور سنجیدہ اور دیانتدار صحافی وہ سیاسی، معاشی، سماجی مسائل کی جڑوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو ایک احساس دردمند شاعر ہونے کے ناطے ان مسائل سے وابستہ احساسات اور جذبات کی بھرپور شعری ترجمانی کرتے ہیں۔ ان موضوعات کا کھردراپن ان کی شاعری کی مخملیں پوشاک اوڑھ کر آپ کے دلوں کو چھولیتا ہے۔ اور آپ ان کے خوابوں کے شریک بننے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان نظموں میں للکار ہے، احتجاج ہے، تلخی ہے، غم و غصہ ہے۔ اور نظریہ ہے جو پوری شدت سے ناانصافی اورسیاسی مکروہ فریب کے حال اور دہشت گردی کو چیلنج کرتا ہے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ پھر ان کا سوال آپ کا بھی سوال بن جاتا ہے۔
راکھ اڑتی ہے پیار کی ہر سُو
قید ہیں سنگ و خشت، سگ آزاد
ہے اندھیروں کی راگنی ہر سُو
صبح ہوگی کہ اب نہیں ہوگی؟
ان کے مجموعہ میں طبع زاد نثری نظمیں اور عالمی ادب کے تراجم، پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کے سر میں ساحر کے سپنوں، کرشن چندر کے آدرشوں، فیض کے لہجہ کی رومانویت اور جالب کے احتجاج کو اپنے اندر غیرشعوری طور پر ضم کیا اور ایک امن پسند اورظلم و ناانصافی سے پاک معاشرے کے خوابوں کی امانت کو سنبھالتے ہوئے اپنی شاعری کے پیغام کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا، ایک امید کے ساتھ
نہیں ایسا نہیں ہوگا
محبت کی ظفر مندی کے نعرے
کبھی مرجھا نہیں پائیں گے یارو
یہ یادیں مر نہیں پائیں گی یارو
کہ ان میں جاگتے خوابوں کی
یہ خوش بو مر نہیں سکتی
یہ چاہت مر نہیں سکتی
ان کی امیدوں میں گونج ہی نہیں یقین بھی ہے۔
کچھ رہے نہ رہے زندہ ہے زندگی
زندگی ننھے بچوں کی مسکان میں
مامتا کے سمندر کی للکار میں
پھول پتوں کی معصوم گفتار میں
خالی ہاتھوں کے بے بس سوالات میں
ریگ زاروں کی جلتی مناجاتا میں
زندہ ہے زندگی
زندہ ہے زندگی
گو انہوں نے زندگی سے بھرپور نظموں کے اس مجموعہ کو اپنے وجود کی سانسوں یعنی مہہ ناز، تابندہ اور رمیز کے نام کیا ہے لیکن یہ نام تو محض علامتیں ہیں مجھے یقین ہے کہ ان کی یہ نظمیں دھرتی کے ان تمام باسیوں کے نام ہیں کہ جو خواب دیکھتے ہیں پُرامن اور پُرانصاف معاشرے کا۔ اس کے لیے ہم سب ان کے تہ دل سے شکرگزار ہیں۔




