نیا پاکستان اور فیملی پلاننگ کی پریشانی
بہت دوستوں کو اپنے نئے وزیراعظم کی اس صلاحیت پر شک ہے۔ اپنی جگہ وہ بھی ٹھیک ہی سوچتے ہیں کہ وزیر اعظم میں اگر یہ صلاحیت ہوتی تو پرائم ٹائم ٹی وی ٹاک شوز میں انہیں وہ مشکل لمحات نہ برداشت کرنے پڑتے جب وہ سوال کرنے والے کو شدید غصے میں یہ کہہ کر ہنسا دیتے تھے کہ ”ایسے تو پھر لاکھوں افریقی بچوں کی شکل تم سے بھی ملتی ہے“۔ ممشو بہرحال اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عمران خان میں اس صلاحیت کی کمی ہے۔ اور ثبوت میں یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ عمران کے بچوں کی تعداد تو اس کی بیویوں کی تعداد سے بھی کم ہے۔ دلیل میں وزن تو کافی ہے۔
خیر یہ بحث غلط طرف نکل گئی ہے آج کا موضوع تو پاکستان کو فیملی پلاننگ کی شر سے بچانا ہے تاکہ ہم یونہی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے رہیں۔ یہ دن دگنی اور رات چوگنی والی بات محاورے کے طور پر کہی گئی ہے اس کا تعلق آبادی بڑھانے کے پیچھے بنیادی ایکشن اور اس کے وقوع پذیر ہونے کے سہل اوقات سے نہ جوڑا جائے۔ میں نیا پاکستان بنانے والوں کو فیملی پلاننگ کے نقصانات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور انہیں خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کہیں لنڈے کے لبرل مادر پدر آزاد مغرب زدہ لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر فیملی پلاننگ کی سہولیات کو عام لوگوں تک پہنچا کر پاکستان کو ترقی کی راہ سے ہٹا نہ دیں۔
یہ فیملی پلاننگ جیسی لعنت سے دوری کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم ماشا اللہ زمین کے ماتھے پر چھٹا بڑا ملک بن کر ابھر رہے ہیں۔ چشم بد دور۔ اور یہ بچوں کی بے پناہ پیدائش ہی کا فائدہ ہے کہ ہر سال ہمارے لاکھوں بچے اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔ باقی ممالک کو یہ عیاشی حاصل نہیں ہے۔ ان کے ہاں تو ایک بچہ بھی قابل علاج بیماری سے فوت ہو جائے تو طوفان مچ جاتا ہے اور جانے کس کس کو جوابدہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ بچوں کی یہ بے پناہ تعداد ہی ہے کہ کروڑوں بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد بھی ہمارے پاس گھریلو کام کاج کے لیے سستے داموں ماہانہ یا سالانہ کرائے پر بچے دستیاب ہوتے اور ہم اس سستی سہولت سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں اس کے بعد بھی لاکھوں بچے میسر ہوتے ہیں جو ایک طرف تو شہروں کی صفائی کے لیے انتظامیہ کی مدد کرتے ہیں اور دوسری جانب اسی کوڑے کرکٹ سے اتنے پیسے کما لیتے ہیں کہ وہ اپنے لیے اور والد صاحب کے لیے نشہ مہیا کر سکیں۔
یوں تو فیملی پلاننگ کے بے شمار نقصانات ہیں لیکن ہم ان میں سے چند ایک یہاں گنوا دیتے ہیں تاکہ نئی حکومت معاملات کی سنگینی کو سمجھ سکے اور دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا سکے۔
پہلے وقتوں میں تو مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کے لیے فیملی پلاننگ سے دوری کا درس دیا جاتا تھا جو کہ کافی اہم تھا لیکن اب صورت حال اس سے بھی کہیں زیادہ گمبھیر ہو چکی ہے۔ اب تو ہمیں اپنے عقیدے کی تعداد بڑھانے پر دھیان دینا پڑتا ہے اس لیے یہ آبادی بڑھانے کا مقابلہ محلے اور مسجد لیول تک آ پہنچا ہے۔ اس لیے ہر شخص کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اگر ہمارے فرقے کے لوگوں نے فیملی پلاننگ کا استعمال شروع کر دیا اور خاندان کا سائز چھوٹا ہو گیا تو ہمیں بہت سی مسجدوں کی انتظامیہ کمیٹیوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے، مطلب مسجد بد عقیدہ لوگوں کے انتظام میں چلی جائے گی۔
فیملی پلاننگ کا سب سے گہرا اثر ہماری تبلیغی جماعت پر پڑے گا۔ میں نے تبلیغی جماعت کے لمبے دورے پر نکلے ہوئے ایک شخص سے رسماً پوچھا ”گھر میں سب خیریت ہے“ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”نہیں گھر میں تو بچے ہیں“۔ کسی سوشل سائنس کے طالب علم کو اس بات تحقیق کرنا چاہیے کہ لمبے دوروں کا بچوں کی تعداد سے کیا تعلق ہے۔
فیملی پلاننگ کو اگر عام کیا گیا تو اس کا دوسرا سب سے بڑا نقصان مدرسوں کو ہو گا۔ کافی لوگوں کا خیال ہے اور یہ بات ٹھیک لگتی ہے کہ اگر آپ کے ایک یا دو بچے ہوں اور آپ ان کو تعلیم سمیت بنیادی سہولیات مہیا کر سکتے ہیں تو پھر آپ اپنے بچوں کو خود ہی پال لیتے ہیں اور مدرسے سے اپنے بچوں کو پالنے کی سہولیات نہیں لیتے۔ اور اگر مدرسے خالی ہو گئے تو ہماری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہو گا کہ شیعہ، سنی، وہابی، بریلوی، اہل حدیث، مقلد اور غیر مقلد اور بہت سے دوسرے فرقوں کے لوگ کافر ہیں اور یہ کہ وہ جہنم میں جائیں گے۔ اور یہ بھی کہ ہم اگر انہیں جلدی دوزخ پہنچانے کی اپنی مذہبی ذمہ داری پوری کریں گے تو جنت میں ہمارے مراتب بلند ہوں گے۔
فیملی پلاننگ عام کرنے کا مطلب ہے کہ اس ملک کی چودہ سال سے بڑی بچیوں اور عورتوں کے پاس بچے پیدا کرنے اور انہیں پالنے کے بعد کچھ وقت بچ جانے کا خدشہ ہے۔ اس فارغ وقت میں ان کے مطالبات بڑھ جائیں گے اور پڑھنے لکھنے یا جاب کرنے جیسے خطرناک کام شروع ہو جائیں گے۔ صرف یہی نہیں اس سے تو عورتوں کے پاس سیر سپاٹے اور زندگی انجوئے کرنے کا وقت بھی نکل آئے گا اور یہ بڑی خطرناک بات ہو گی۔ اس سے مرد بیچارہ بے بس ہوتا چلا جائے گا اور ہمارا خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ کیونکہ سیانے لوگوں کو یہ یقین ہے کہ موجودہ خاندانی اور معاشرتی نظام، جس میں جوائنٹ فیملی بھی شامل ہے، کو عورتوں کی جدید جدید طرز غلامی کے تحت ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
فیملی پلاننگ کے کچھ ضمنی نقصانات بھی ہیں۔ مثلاً بچوں کی تعداد کم رکھنے سے آپ کی بیگم صاحبہ بہت عرصے تک جوان رہیں گی اور یہ بڑی خطرناک بات ہے۔ جوان بیوی کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔


