عمران خان کے فرسٹ کلاس فیصلے سے مہاتما گاندھی کی تھرڈ کلاس بوگی تک


ہمارے وزیر اعظم نے قوم کا پیسہ بچانے کے لئے فرسٹ کلاس کے سفر پر پابندی لگا دی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم اپنا خصوصی طیارہ استعمال نہیں کریں گے۔ جبکہ عام سفر میں بھِی وہ فرسٹ کلاس میں سفر نہیں کریں گے۔ ان کے علاوہ چیف جسٹس اور چیئرمین سینیٹ کو بھی فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کی سہولت حاصل نہیں ہو گی کیونکہ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ بادشاہوں کی طرح پیسہ خرچ کرنے کا رواج ختم ہونا چاہیے۔ اب سب عمائدین کلب کلاس یا بزنس کلاس میں سفر کریں گے۔

جہاں ہمارے لئے یہ فیصلہ خوشی کا باعث ہے وہیں پی آئی اے کے لئے نہایت پریشانی کا سبب ہو گا۔ اب بچارے پی آئی اے والےاپنے جہازوں میں ہنگامی بنیادوں پر فرسٹ کلاس بنانے میں مصروف ہوں گے تاکہ یہ سب عمائدین اس میں سفر نہ کرنے کے حکومتی عزم کو پورا کر سکیں۔ فی الحال تو پی آئی اے میں فرسٹ کلاس دستیاب نہیں ہے، صرف بزنس اور اکانومی کلاس ہی موجود ہے۔

لیکن عزم جوان ہو تو بندہ تھرڈ کلاس کو بھی فرسٹ کلاس سے مہنگا کر سکتا ہے۔ مثلاً مہاتما گاندھی بھی غربت میں رہنے کی نیت سے فرسٹ یا سیکنڈ کلاس کی بجائے تھرڈ کلاس میں سفر کیا کرتے تھے۔ اب ریل کی تھرڈ کلاس بوگی ہوتی تھی اور اس میں گاندھی جی اپنی دھوتی چادر لپیٹے اور اپنی بکری کی رسی تھامے اسی طرح سفر کیا کرتے تھے جیسے دیش کے دوسرے غریب غربا۔

گاندھی جی کی اس غربت پر ایک دن بلبل ہند سروجنی نائیڈو کا دل بھر آیا تو انہوں نے گاندھی جی کو کہہ بھی دیا کہ مہاتما آپ کو غریب رکھنے میں ہماری دولت کے انبار خرچ ہو جاتے ہیں۔ معاملہ یہ تھا کہ گاندھی جی کو گیان دھیان کی عادت تھی اس لئے اپنی اس تھرڈ کلاس بوگی میں اکیلے ہی سفر کرتے تھے اور پوری بوگی کا خرچہ سرکار کو بھرنا پڑ جاتا تھا۔

گاندھی جی کے اسی تھرڈ کلاس سفر کو دیکھتے ہوئے قائد اعظم نے ایک مرتبہ تبصرہ کیا تھا کہ ”میں فرسٹ کلاس استعمال کرنے کے باوجود سفر پر گاندھی سے کم پیسہ خرچ کرتا ہوں“۔

اب یہ عین ممکن ہے کہ ہمارے قومی عمائدین و افسران میں سے بھی کوئی گاندھی گیری کرنے والا نکل آئے جو پی آئی اے کی تھرڈ کلاس میں سفر کرے مگر اتفاق ایسا ہو کہ پورے جہاز میں صرف وہ اور اس کی بکری ہی سوار ہو، باقی پورا جہاز خالی ہو۔ سنا ہے پچھلے دنوں ایسا ایک حادثہ گزرا بھی ہے کہ عمائدین سے بھرا ہوا ایسا ہی ایک جہاز اسلام آباد سے بھٹک کر نانگا پربت کی طرف نکل گیا تھا اور مسافر ائیر پورٹ پر ٹاپتے رہ گئے۔

تو معاملہ یہ ہے کہ قائد سیانا ہو تو فرسٹ کلاس میں بھی بچت کر لیتا ہے، اور نیت اگر محض شو شا دکھانے کی ہو تو تھرڈ کلاس میں بھی فرسٹ سے زیادہ خرچہ کروا ڈالتا ہے۔ ہمارے عظیم صدر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیا الحق کو ہی دیکھ لیں جنہوں نے بچت دکھانے کی خاطر سائیکل پر دفتر جانا شروع کیا تو قوم کو سائیکل کی یہ سواری ان کے موٹر کیڈ سے مہنگی پڑ گئی۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar