میری ادھوری کہانی


آج ایک مدت بعد ملاقات ہوئی۔ اُس کی آنکھیں، جو کبھی مِیر کی غزل کی طرح گنگناتی تھیں، اِس وقت دھواں دے رہی تھیں۔ میں ٹک ٹک دیدم تھا۔ بجلی نہ ہونے کے سبب، کمرا نیم روشن تھا، موم شعلے کی نذر ہو کر، آنسووں کی شکل میں لکڑی کی میز پر گِر رہا تھا۔ وہ تھی، اور میں ۔۔۔۔ میں تھا، اور لرزتا شعلہ ۔۔۔۔۔ ایک وقت تھا، جب میں حمیرا کی محبت میں دیوانہ ہوا کرتا تھا، اور یہ جان کر کہ یہ کسی اور کو چاہتی ہے، میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوان عشق
او بصحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا شدیم

مطلب کچھ یوں ہے کہ “میں اور مجنوں ایک ہی مکتب میں عشق کا سبق لیتے تھے؛ وہ دیوانہ ہو کر صحرا میں نکل گیا، جب کہ میں تیری گلیوں میں خوار ہوتا رہا۔”

میں نہ مجنوں بن سکا، نہ اس کی گلی میں خوار ہوا، جہاں ماں نے کہا، وہاں شادی کرلی۔ حمیرا کو بھی من چاہا مل گیا، میں بھی خوش تھا، وہ بھی خوش ۔۔۔۔۔ وقت بیتے، تو کل کی باتیں حماقت دکھائی دیتی ہیں، اور جب ہم ان پر ہنس لیتے ہیں، تو ان سے جڑے ڈر نکل جاتے ہیں۔ میں اس کے شہر میں کسی کام سے آیا تھا، اس کی گلی سے گزرتے، بِسری باتیں یاد آئیں؛ تو بے ساختہ لبوں پہ مسکان آ گئی؛ ایسے میں اس کے دروازے پر جا پہنچا۔ اُس کی حیرت دور ہوئی، تو مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر چاے پانی کا بند و بست کرنے چلی گئی۔

حمیرا کے والد، اُس کے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے، اِس لیے حمیرا نے شوہر کو یہیں رہنے پر راضی کر لیا، تا کِہ اس کی ماں تنہا نہ رہ جائے۔ لیکن اُس کی ماں کو یہ امانت سونپ کر، منزل پر پہنچنے کی جلدی تھی؛ وہ بھی اس کے باپ کے پاس چلی گئی۔ تین سال ہو گئے، میں حمیرا اور اس کے حالات سے بے خبر رہا؛ کبھی اِس شہر، کبھی اُس نگر؛ زندگی میں یہ ایک ہی غم تو نہیں ہوتا۔

میں باتیں کر رہا تھا، اور حمیرا ’’ہوں ہاں‘‘ میں جواب دیتی جاتی۔ مجھے محسوس ہوا، اسے میرا یہاں آنا مناسب نہیں لگا۔ میں نے چائے کا کپ خالی کر کے، جانے کا ’جیسچر‘ دیا۔ وہ چونک اُٹھی۔

’’کیوں جلدی ہے‘‘؟
’’نہیں تو، مجھے لگا، تمھیں میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا‘‘۔ میں منمنایا، تو وہ کہنے لگی۔

’’نہیں! تم غلط سمجھ رہے ہو‘‘۔ دھیمے لہجے میں یہ کہتے، نظریں جھکا کر اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے چبانے لگی، جیسے کچھ لفظوں کو نکلنے کا راستہ نہیں دینا چاہتی ہو۔

’’حمیرا ۔۔۔۔ طارق؟ ۔۔۔۔ کیسا ہے؟ ٹھیک ہے؟ کیا اُسے ۔۔۔۔ میرا یہاں آنا ۔۔۔۔ برا تو نہیں لگے گا‘‘؟ میں نے اٹک اٹک کر اپنے خدشہ بیان کیا۔

اس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی، لیکن اِس چمک کی اُس چمک سے نِسبت نہیں تھی، جسے اوپر بیان کیا گیا ہے، یہ اُس کی آنکھوں میں آ جانے والے پانی کے باعث تھی۔ میں سمجھ گیا، کہ میں نے دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ واقعی طارق روایتی مردوں کی طرح قبضہ جمانے والا مرد ہے۔ میں نے یہاں آ کر غلط قدم اُٹھایا ہے۔
’’بیٹھو تو سہی‘‘۔ اُس نے بھرے گلے سے مجھے روکا۔ ’’وہ بات نہیں ہے، جو تم سمجھ رہے ہو‘‘۔

’’تو پھر؟ ۔۔۔ تمھاری شکل تو یہی کَہ رہی ہے‘‘۔
’’تمھیں شکلیں ۔۔۔۔ چہرے پڑھنا کب سے آ گیا‘‘؟ اُس نے اپنی ہتھیلیوں سے آنکھیں پونچھ کر سر اُٹھایا، تو مسکرانے لگی۔
’’حمیرا ۔۔۔۔۔۔ تم خوش تو ہو ناں‘‘؟

میں نے وہی گھِسا پِٹا سوال پوچھا، جو اکثر نا کام عاشق، اپنی محبوبہ سے پوچھتے ہیں، تا کِہ اپنے دل کو تسلی دے سکیں؛ ہر دو صورت۔۔۔۔۔ اگر محبوب خوش ہے، تو ہماری خوشی اِسی میں ہے، اگر وہ خوش نہیں، تو چلو ہم سے بے وفائی کی سزا تو ملی۔

’’میں خوش ہوں، بہت خوش ہوں، تم میری خوشی کی پروا مت کرو۔ اگر تمھارے پاس کچھ وقت ہے، تو بیٹھ جاو، میرا باتیں کرنے کو جی کر رہا ہے‘‘۔

میں نے بیٹھتے ہوئے، مُسکرانے کی اداکاری کی، ’’کیوں طارق تم سے باتیں نہیں کرتا‘‘؟

’’ہر وقت اُسی سے باتیں کرتی ہوں، وہ جواب نہیں دیتا‘‘۔
اب حمیرا کی آنکھوں میں، پانی نہیں دھواں ہی دھواں تھا۔ ۔۔۔ بجھی بجھی آنکھوں کا دھواں، آپ نے کبھی دیکھا ہے؟
’’طارق ۔۔۔ طارق کا انتقال ہو چکا ہے‘‘۔

یہ سن کر میں ششدر رہ گیا۔
’’کک ۔۔۔ کب؟ ۔۔۔ آئے ایم سوری‘‘۔ میں ہکلانے لگا۔
’’کب‘‘؟ زیرِ لب دُہراتے، اُس نے یوں دیکھا، جیسے میں نے کوئی عجیب سوال کر دیا ہو۔

’’ایک سال ۔۔۔ سات مہینے ۔۔۔ تیرہ دن ۔۔۔۔ آٹھ گھنٹے‘‘۔
یہ کَہ کر اُس نے کلائی گھما کر گھڑی پر نگاہ ڈالی۔
’’سینتالیس منَٹ اور چند سیکنڈ‘‘۔

اِس اطلاع کے بعد ہم کتنی دیر خاموش بیٹھے رہے، مجھے نہیں معلوم؛ کیوں کہ میں نے وہ وقت نہیں ماپا۔ بس اتنا یاد ہے، کِہ کمرا نِیم روشن تھا، موم شعلے کی نذر ہو کر، آنسووں کی شکل میں لکڑی کی میز پر گِر رہا تھا۔ وہ تھی، اور میں ۔۔۔۔۔۔۔ میں تھا، اور لرزتا شعلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran