پاکستان نے’ کرتارپورکوریڈور‘ کھول دیا تو کیا ہوگا؟


پاکستان نے’ کرتارپورکوریڈور‘ کھول دیا تو کیا ہوگا؟

بھارتی پنجاب کے وزیر اور سابق کرکٹر نجوت سنگھ سدھو کی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ’جپھی‘نے بھارت میں ایک ہنگامہ برپا کررکھاہے۔

سدھو کی مخالفت اور حمایت میں بیانات داغے جا رہے ہیں لیکن جنرل باجوہ سے ان کی ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کے ثمرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہو رہی۔

حالانکہ سدھو خود بتا چکے ہیں کہ جنرل باجوہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اگلے سال جب بابا گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات ہوں گی تو ’ کرتاپور کراسنگ‘ سکھ یاتریوں کے لیے کھول دی جائے گی۔

پاکستان نے’ کرتارپورکوریڈور‘ کھول دیا تو کیا ہوگا؟

سکھوں کے لیے گوردواراکرتارپورکی انتہائی اہمیت ہے۔ یہاں سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک کی قبر اور سمادھی ہے اور یہ بھارتی سرحد کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔باباگرونانک نے اپنے زندگی کے آخری اٹھارہ برس یہیں گزارے تھے۔

عمومی طور پر جب سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں تو انہیں گوردوارا کرتارپورجانے کی اجازت نہیں ملتی۔اکثر دیکھا گیا کہ سکھوں کے جتھے سرحد پار سے ہی کرتار پور کی زیارت کرتے ہیں۔

سکھ تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ بھارتی سرحد سے گوردوارا کرتارپور تک خاردارتاریں لگا کر ایک ایسا راستہ بنا دیا جائے جہاں سے سکھ یاتری گوردارے پر حاضری کے لیے آئیں اور اسی دن واپس چلے جائیں۔

اس مقصد کے لیے دریائے راوی پر ایک پُل تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد سکھ یاتریوں کو گوردورا کرتارپور میں حاضری کے لیے ویزے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔وہ صرف راہدری پر آ جا سکیں گے۔

Facebook Comments HS