آواز نہیں اٹھائیں گے تو بہتری بھی نہیں آئے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ تعالی نے اپنے پاک کلام میں آج سے چودہ سو سال پہلے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ“میں اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو خود اپنی حالت بدلنے کا احساس نہ ہو“۔ یہ اب مسلمانوں پر ہے کہ آیا وہ اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں یا اسی طرح زندگی گزارنا چاہیں گے! سوشل میڈیا کا دور ہے اور لوگ اپنے ائیر کنڈیشنڈ ٹھنڈے کمروں، نرم ملائم بستروں پر بیٹھ کر، ہاتھ میں ہزاروں روپے کا موبائل پکڑ کر حکومت وقت پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان میں سے صرف چند ایسے افراد ہوتے ہیں جو ان باتوں پر خود بھی عمل کرتے ہیں باقی تمام لوگوں کا کام صرف نفرت پھیلانا ہی ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ کو ایسے ایسے حاجی، نمازی بھی نظر آئیں گے جن کا کام سارا دن درود پاک اور نماز، روزہ کے مسائل شئیر کرنا ہے لیکن عملی زندگی میں وہ منشیات فروخت کرتے ہیں یا کرپشن کے پیسوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یعنی دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت!

ایسا ہی ایک واقعہ عیدالضحی سے ایک یا دو روز قبل پیش آیا۔ کشمیر سے آئے چند نوجوانوں کو گجرات پولیس نے شاہین چوک جی ٹی روڈ کے قریب روکا اور ان سے گاڑی کے کاغذات اور لائیسنس دکھانے کا مطالبہ کیا۔ انہی نوجوانوں میں سے ایک جس نے یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بیان کیا، کا کہنا تھا کہ گاڑی کے کاغذات اور لائیسنس دکھانے پر پولیس والوں کا کہنا تھا کہ یہ لائیسنس پنجاب میں نہیں چلتا اور دوسرے ساتھی کو کہا کہ انہیں اندر کرو (وہی پنجاب پولیس کا پرانا طریقہ واردات)۔ خیر 5000 سے بات شروع ہو کر 2000 پر بات ختم ہو گئی۔ نوجوانوں نے 2000 روپے پولیس والوں کو دے کر جان چھڑائی۔ 22 اگست کی شام اسی نوجوان نےفیس بک پر موجود گجرات سے تعلق رکھنے والے چند گروپ میں یہ واقعہ اور ویڈیو ثبوت بھی شئیر کر دیے جس میں ایک پولیس اہلکار کو دیکھا جا سکتا ہے ان کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھا ہوا تھا۔

پوسٹ کو دیکھا تو میرے ذہن میں فوراٌ ایک نام آیا اور میں نے اپنے جاننے والے ایک بھائی جو کہ پنجاب پولیس میں ہی ملازم ہیں (کو نہ صرف اس پوسٹ پر مینشن کیا بلکہ میسنجر پر وہ ثبوت اور پورا واقعہ بھیج دیا)۔ اس ویڈیو کو دیکھنے اور واقعہ کو جاننے کے بعد ان کی طرف سے میسج آیا کہ ہم بندوں کو تقریباً پہچان چکے ہیں آپ متاثرہ شخص کا رابطہ نمبر لے دیں یا ان سے بولیں کہ وہ متعلقہ چوکی انچارج سے اس واقعہ کی شکایت درج کروائیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ ان کے ساتھ انصاف ہو گا اور وہ ملازم نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

اس پر میں نے متاثرہ شخص سے دوبارہ رابطہ کیا، صورتحال سے آگاہ کیا اورکہا کہ آپ ان میں سے ایک کام کر دیں لیکن جواب ندارد! دو دن کے وقفے کے بعد اس بھائی کا دوبارہ میسج آیا کہ متاثرہ شخص سے آپ نے رابطہ کیا ہے اس کا کیا کہناہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ اسنے میسج تو پڑھ لیا ہے لیکن جواب نہیں آیا، انہوں نے مجھے ایک بارپھر رابطہ کرنے اور دو دن مزید انتظار کرنے کا کہا۔ میں نے ایسا ہی کیا لیکن پھر بھی جواب نا آیا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ وہ متاثرہ شخص کئی گروپوں میں پولیس مخالف پروپیگنڈہ تو کر رہا ہے لیکن جب اس سے یہ کہا گیا کہ آپ صرف چوکی انچارج سے شکایت درج کروا دیں اور ملزموں کو آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا آپ کا کام صرف پہچان کرنا ہے اور وہ نوکری سے فارغ کر دیے جائیں گے لیکن وہ شخص مسلسل خاموش ہے۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنا تو بہت آسان ہے لیکن عملی کام کرنا بہت مشکل۔ کیونکہ ”عمل سے زندگی بنتی ہےجنت بھی جہنم بھی۔ “ اور عمل کرنا اس قوم کے لئے کے ٹو سر کرنے کے مترادف ہے۔

اسی سے ملتا جلتا دوسرا واقعہ والد صاحب کےساتھ دو ہفتے قبل پیش آیا۔ آنکھ کا آپریشن کروانے لاہور گئے ہوئے تھے انہیں اشتیاق ہوا کہ اس بار پاکستان کی سب سے بڑی ٹراسپورٹ سروس“ڈائیوو“ پر سفر کیا جائے۔ لاہور سے گجرات واپسی پر ان کو ایک ”کھٹارا“گاڑی دی گئی جس میں نہ تو ائیر کنڈیشنر کام کر رہا تھا اور نہ ہی اس میں ٹھنڈا پانی(ریفریشمنٹ اس روٹ پر ختم کر دے گئی ہے حالانکہ کرایہ وہی ہے)۔ بس میں ہوسٹس بھی نہیں تھا۔ حتی کہ گوجرانوالہ ٹرمینل پر آکر ڈرائیور نے گاڑی تبدیل کروانے کا مطالبہ کیا۔ یوں جوں توں کر کے مسافر گجرات پہنچے۔

سارے راستے میں ٹرانسپورٹ کمپنی کو کوسنے والے مسافروں سے والد صاحب نے نے کہا کہ ہمیں اس پر احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے لیکن گجرات ٹرمینل پر پہنچ کر تمام مسافر اپنی اپنی منزلوں کو نکل لیے۔ یہ ہماری قوم کے بارے میں زمینی حقائق ہیں۔ تنقید تو سب لوگ ایسے کرتے ہیں جیسے ثواب کا کام ہے لیکن جب ان سے عمل کا مطالبہ کیا جائے تو بہانہ بنا کر پتلی گلی نکل جاتے ہیں۔ یہ قوم واقعی بے حس ہو چکی ہے جو اپنے حقوق کے لئے صرف ہاتھ میں چند ہزار کا موبائل پکڑ کر ہی احتجاج کر سکتی ہے عملی کام سے یہ کوسوں دور ہے اسی لیے قومی ترقی، تعلیم، صحت وغیرہ میں ہمارا مقابلہ یوگنڈا، کینیا اور دیگر پسماندہ افریقی ریاستوں سے کیا جاتا ہے اور باتیں یہ قوم مدینہ کی ریاست کی کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •