مسلمان صرف آخرت کے لئے بنے ہیں؟


میرا دوست زید اسمارٹ ہے، پڑھا لکھا ہے، میڈیا سے متعلق ایک شعبے میں اپنے کام میں مہارت رکھتا ہے۔چونکہ محنتی اور سنجیدہ واقع ہوا ہے اس لئے اپنی لگن سے بہت جلد اپنے شعبہ میں کامیاب بھی ہوگیا۔ شریف ہونے کے ساتھ ساتھ نماز روزے کا پابند بھی ہمیشہ سے رہا اور گھر کے ماحول کا اثر رہا کہ دوسروں کے ساتھ ہمیشہ شرافت و انکساری سے پیش آتا رہا ہے۔ ماں باپ کی خدمت، اولاد کی معیاری تعلیم اور دیگر فرائض کی ادائیگی کرنے میں اس نے کبھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔اپنی پیشہ وارانہ مہارت کے سبب مالی اعتبار سے بھی بہت اچھی حالت میں ہے۔ دیکھنے میں رنگ گورا ہے، وجیہہ شخصیت ہے اس لئے عجب نہیں لڑکیوں کی پسندیدہ نگاہوں کا بھی سامنا کرتا رہا ہو لیکن جیسا میں نے کہا کہ بہت شریف اور سنجیدہ ہے اس لئے بیوی کے علاوہ کبھی کسی کی طرف توجہ نہ دی۔ والدین کو پہلی فرصت میں حج عمرہ کرایا، طبیعت ناساز ہوئی تو ان کی خدمت میں دن رات لگا رہا وغیرہ وغیرہ۔ کہاں تک لکھوں اور کیا کیا لکھوں۔ خیر زید کی زندگی میں سب کچھ معمول کے مطابق ہی چلتا رہتا اگر اس کی ملاقات اپنے آس پڑوس کے چند نورانی مذہبی افراد سے نہ ہوتی۔ ان اصحاب نے زید کو سمجھانا شروع کیا کہ ہمیں اپنے مصروف اوقات میں سے کچھ وقت نکال کر اللہ کے پیغام کو بھی لوگوں تک پہچانا چاہئے۔ بات معقول تھی اس لئے ان نورانی حضرات سے زید کی ملاقاتیں اکثر رہنے لگیں۔ دھیرے دھیرے بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے زید کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ ان کے ساتھ تبلیغ کے لئے چلے۔ زید راضی ہو گیا اور تبلیغی سفر پر روانہ ہوا۔ یہاں تک سب کچھ ٹھیک رہا لیکن جب وہ اس سفر سے پلٹا تو اس کے خیالات تین سو ساٹھ ڈگری کے زاویہ پر الٹ چکے تھے۔ اب وہ جو گفتگو کرتا ہے اس کا مضمون کچھ اس طرح ہے۔ ”ہم اس دنیا میں نوکری یا کمائی کے لئے پیدا نہیں ہوئے بلکہ ہمیں بس صرف عبادت کرنی چاہئے”، ”موبائل اور ٹی وی جیسی چیزیں انسان کو دین سے دور دھکیلتی ہیں اس لئے ان کا استعمال تقریبا نہیں کرنا چاہئے”، ”میڈیا سے متعلق مضامین کی تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہئے”وغیرہ وغیرہ۔

مجھے زید سے کوئی شکوہ نہیں اور نہ ہی اس بات کا افسوس ہے کہ ایک اسمارٹ اور متحرک نوجوان دنیا سے کنارہ کرنے کی باتیں کرتا ہے۔ میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں جن کا جواب بہت کوششوں کے بعد بھی نہیں ملتا۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا ہمارے لئے اس دنیا کا وجود بے معنی ہے؟۔ اگر سائنس اور جدید علوم جیسی چیزیں غیر ضروری ہیں اور ہمارا ان سے سروکار نہیں ہونا چاہئے تو پھر اس کائنات کو پیدا کرنے والے نے اس میں اتنی وسعتیں اور باریکیاں کیوں رکھی ہیں؟۔ قرآن کس کا بازو جھنجھوڑ جھنجوڑ کر کہتا ہے کہ اس کائنات کی گہرائیوں اور اس میں موجود اسرار و رموز پر غور و فکر کرو؟۔ اگر انسان کو سائنس اور ایجادات کے جھمیلے میں ڈالنا ہی نہیں تھا تو اس کائنات کے ذرے ذرے میں علم و حکمت خزانے کیوں رکھے گئے؟۔ کیا صرف غیروں کو ہی علم و دانش کی روشنی میں اس کائنات کے رازوں پر سے پردہ اٹھانے کا حق ہے اور ہم بس اس کو دیکھ کر دانتوں تلے انگلی دبانے کے لئے ہیں؟

دین کی تبلیغ سے کسی کو شکوہ نہیں لیکن دین کی ایسی تعبیر یقینا حیران کن ہے جس میں مسلمانوں کو یہ بتایا جائے کہ ان کا کام نہ جدید علوم کا حصول ہے، نہ انہیں اعلیٰ سائنسی اور پیشہ وارانہ علوم سیکھنے کی زحمت گوارہ کرنی ہے، نہ انہیں خود کی اعلیٰ صلاحیتوں کو استعمال کرکے وسائل زندگی کی فراہمی کو آسان بنانا ہے۔اگر ہماری سمجھ ایسی ہوگی تو اسے بہت سے مسائل کا دروازہ کھل جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر میرے پاس خود ہی وسائل زندگی میسر نہیں تو میں زکوۃ کہاں سے دوں گا؟ جبکہ قرآن تو مجھ سے بار بار تقاضہ کر رہا ہے کہ زکوۃ ادا کرو۔ علمائ سے پوچھئے کہ قرآن نے بار بار زکوۃ دینے کا تقاضہ تو کیا لیکن ایسا کتنی جگہ کہا کہ زکوۃ لو؟۔ معلوم ہوا کہ زور اس پر ہے کہ مسلمان معاشی اعتبار سے اتنا خوشحال ہو کہ دوسرے کمزور کی مدد کر سکے۔ لیکن دقت یہ ہے کہ اگر نوکری، تجارت اور جدید وسائل زندگی سے ہمارا لینا دینا نہیں تو مسلمانوں میں یہ معاشی خوشحالی آئے گی کہاں سے؟۔ یہ مبلغین کی ویڈیو کلپس جنہیں آپ یو ٹیوب پر دیکھ دیکھ کر سبق لیتے ہیں کہ جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ان مبلغین کے یہ ارشادات کیا اتنے بڑے پیمانے پر دنیا تک پہنچ پاتے اگر جدید سائنسی علوم اور ایجادات نہ ہوئی ہوتیں، یا زید کے پاس اپنا لیپ ٹاپ نہ ہوتا تو وہ اپنے محبوب مبلغ کا بیان کیسے سنا کرتا؟۔ گویا دنیا ابلاغ کے جدید ذرائع ایجاد کرے گی اور مسلمان ان کا استعمال کرکے یہ پیغام دیا کریں گے کہ ٹی وی، موبائل، انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ دین سے دور کرتے ہیں ان سے بچو۔

میں نے اس تحریر کے شروع میں زید کا تعارف کراتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ نورانی مذہبی حضرات کی صحبت سے پہلے نہ تو نماز روزے ترک کرتا تھا، نہ اخلاقی لغزشوں میں مبتلا تھا اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں سے بے پرواہ ہوا کرتا تھا۔ ایسے میں اس پر طبع آزمائی کی کیا ضرورت تھی؟۔ تبلیغ کا کام اچھی بات ہے لیکن اس کے لئے مبلغین کی کوئی کمی تو نہیں۔ مدارس سے ہر سال طلبہ کی بہت بڑی تعداد فارغ ہو رہی ہے اور یقینا وہ اسی کام کے لئے تیار کئے جاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں پھر آپ ہر ایک شخص کو اس کام پر کیوں لگانا چاہتے ہیں؟۔ آپ لوگوں کو کچھ عرصہ کے لئے تبلیغی دورے پر لے جائیں اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں لیکن آپ انہیں ان کی پیشہ وارانہ زندگی سے بدظن کرکے کیا حاصل کر رہے ہیں؟۔ سب اگر دنیا داری کے نام پر اپنی نوکریاں چھوڑ دیں، دکانیں اور کاروبار بند کر دیں اور یونیورسٹیوں کالجوں سے نام کٹوا لیں تو ایسی صورت میں تبلیغ پر جانے والوں کی بڑی تعداد تو دستیاب ہوگی لیکن ان سب کی معاشیات کا کیا بنے گا؟۔ مسلمانوں کے سماجی نظام میں ان کا گھر بار اور چولہا چکی بھی بہرحال ایک حقیقت ہے اس کو نظر انداز کیونکر کیا جا سکتا ہے؟۔
جدید سائنسی علوم وغیرہ کو مسترد کرنے والی بات پر مجھے مدارس کے ذمہ داروں کے ساتھ اپنی بحث یاد آتی ہے۔جب کبھی میں مدارس کے طلبہ کو جدید علوم سے متعارف کرانے کی بات کرتا ہوں تو مدرسہ والے یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام سائنسی علوم کی ایجاد مسلمانوں نے ہی کی تھی اور وہ سب مذہبی علمائ بھی تھے۔ اب اگر اس بیان کو مان لیا جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں مسلمانوں کے جید علمائ خود سائنس اور جدید علوم سیکھ اور سکھا رہے تھے تو آج یہ چیزیں مسلمانوں سے غیر متعلق کیسے ہو سکتی ہیں؟۔ ان بزرگوں کو مذہب کی یقینا ہم سے زیادہ سمجھ تھی اس لئے کہ انہوں نے تابعین اور طبع تابعین کا عہد پایا تھا۔ اب اگر یہ علوم مسلمانوں کے لئے غیر ضروری تھے تو یقینا اس وقت اعتراض ہونا چاہئے تھا کہ تم کن جھنجٹ میں پڑے ہو ان کا تو اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ لیکن ہوا اس کے برعکس نہ صرف یہ کہ کسی نے ان علوم کی نشر و اشاعت پر اعتراض نہیں کیا بلکہ امام ابوحنفیہ کے ہی ہم درس ایک صاحب نے علم کیمیائ کے اصول وضع کئے اور یہ کام امام ابوحنیفہ اور اپنے مشترکہ استاد امام جعفر صادق کی رہنمائی میں کیا۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی مسلمان یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ہم نوکری اور روزگار کے لئے تھوڑی پیدا ہوئے ہیں ہمارا کام تو بس عبادت ہے۔ صحابہ کرام کی زندگی پر نظر ڈالئے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام سے دینی تربیت بھی پائی اور اپنی معاشی ذمہ داریاں بھی اٹھاتے رہے مثلا حضرت ابوبکر کپڑا بیچا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت رکا جب انہیں خلیفہ چن لیا گیا اور اگلے روز کسی نے دیکھا کہ وہ سر پر گٹھری اٹھائے کپڑا بیچنے نکلے۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں تو خلیفہ وقت نے فرمایا کہ میں اپنے گھر والوں کو کیا کھلاؤں گا؟۔ اس جملہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی یہ روایت کبھی نہیں رہی کہ وہ روزی روزگار کی طرف سے بے خبر ہوکر گوشہ نشین ہوکر رہ جائیں۔زید کو جو کچھ سمجھایا گیا ہے اس کا لب و لباب بس اتنا ہے کہ ایک آئیڈیل مسلمان کو نہ تو اعلیٰ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے، نہ اونچی نوکریاں حاصل کرنے کی ضرورت ہے، نہ سائنس اور تکنیک کے شعبہ میں انہیں آگے بڑھنا ضروری ہے، نہ انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے والی ایجادات میں انہیں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے، نہ انہیں تجارت میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہے، نہ ان کے پاس فون ہونا چاہئے، نہ ٹی وی، نہ انٹرنیٹ وغیرہ وغیرہ۔اچھا مسلمان اس دنیا سے کنارہ کرکے بس گوشہ نشینی اور عبادت میں اپنی عمر کاٹ دے اور دنیا کے ہر مسلمان کو ایسا ہی آئیڈیل مسلمان بننا چاہئے۔

ذرا دیر کو تصور کیجئے کہ اگر یہی پیغام عام ہو جائے تو مسلمانوں کی انفرادی اور سماجی زندگی کی کیا صورت بنے گی؟۔ باقی سب چھوڑ دیجئے کہ اگر جدید علوم اور معاشیات کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو مسلمانوں کی مذہبی زندگی کی ہی کیا صورت رہ جائے گی اس پر کبھی غور کیجئے۔مسلمانوں پر نماز فرض ہے، اب مصلیٰ کہاں سے تیار ہوگا؟، مسجدیں کہاں سے بنیں گی؟، اذان کا لاؤڈسپیکر کہاں سے آئے گا؟، روزہ رکھئے تو وقت کا تعین کرنے والی گھڑی کیسے دستیاب ہوگی؟، حج کے لئے سفر کے وسائل کہاں سے آئیں گے؟، یہ جو مسجد حرام کی وسیع و عریض عمارت ہے یہ کیسے تعمیر ہوگی؟، حرم میں لائٹیں، ایئرکنڈیشن، لاؤڈسپیکر، آب زم زم کا پلانٹ، حاجیوں کے رہنے کی ہوٹلیں، وضو کے لئے پانی کی سپلائی، مسجد حرام میں بچھا قالین، مکہ مدینے کے درمیان چلنے والی ریل اور بسیں یہ سب کہاں سے آئیں گی؟۔قرآن جس کی تلاوت ہر صبح نماز کے بعد ہونی ہے وہ کہاں سے چھپے گا؟، انٹرنیٹ پر بیانات کیسے اپلوڈ ہوں گے؟، یہ تبلیغی سفر کے لئے جن گاڑیوں کو ذریعہ بنایا جاتا ہے وہ کیسے آئیں گی؟، تبلیغی افراد کے جسم پر موجود لباس سے لیکر اس مسجد تک جس میں انہوں نے قیام کیا کون سی ایسی چیز یا سہولت ہے جس کا تعلق ان علوم سے نہ ہو جنہیں ہم دنیاداری اور دین کے لئے غیر ضروری کہتے نہیں تھکتے۔

چیزوں کو دیکھنے کا یہ نظریہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان تمام جدید علوم، ایجادات اور تکنیک نے اسلام کی ترویج اور تبلیغ کا کام آسان کر دیا۔ آج دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود کسی فرد کو دین سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اسے کہیں جانے کی ضرورت نہیں انٹرنیٹ اس کی رہنمائی کر دیتا ہے۔ علمائ کے ایمان افروز خطابات ہر ہر ہاتھ تک جا پہنچے، رسول اسلام کی سیرت سے لیکر قرآن مجید کی تفسیر تک کون سی ایسی چیز ہے جو انہیں جدید علوم نے ہر ایک دسترس میں نہ دے دی ہوں۔صرف غور کرنے کی بات ہے کہ تبلیغ پر جانے والوں کا مقصد یہی تو ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جن کے پاس دینی معلومات نہیں ہے دین کی باتیں بتائی جائیں۔ اب بتائیے کہ جدید ذرائع ابلاغ کیا بالکل یہی کام نہیں کر رہے؟۔ہزاروں مبلغ ملکر کیا دین کو اتنے بڑے پیمانے تک پھیلا سکتے تھے جتنا ان جدید ذرائع نے پھیلا دیا؟۔ کون سی دین کی ایسی کتاب ہے جو ہر گھر تک ان جدید سائنسی علوم نے نہیں پہنچائی، کون سے عالم کا تبلیغی بیان انہیں جدید ذرائع ابلاغ نے سب تک نہیں پہنچایا؟، نماز سے لیکر حج کے طریقے تک، رسول اسلام کے اسوہ حسنہ سے لیکر بزرگان دین کی تعلیمات تک یہ سب انہیں جدید ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ، یوٹیوب، اسلامی چینلوں، اسمارٹ فون نے ان تک پہنچا دیا جنہیں دین کی بنیادی باتیں بھی نہیں معلوم تھیں۔ دست ادب جوڑ کر عرض کروں تو میری نظر میں یہ جدید ذرائع ابلاغ دین کی تبلیغ کے حوالے سے سب سے بڑی اور کامیاب جماعت ہیں۔ اب ہونا یہ چاہئے کہ آپ لوگوں کو ان جدید سائنسی علوم، ایجادات، معاشیات، نوکری، روزگار سے بدظن کرنے کے بجائے ان میں شوق پیدا کریں کہ وہ جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلی دین کی بے پناہ معلومات سے فیض حاصل کریں۔

Facebook Comments HS

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter