توہین آمیز کارٹونز اور اسوہ حسنہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انبیاء و رسل کا تمسخر اڑانا تاریخ میں اتنا ہی قدیم ہے کہ جتنا انبیاء و رسل کی آمد کا سلسلہ۔ قران میں اس تمسخر کی تاریخ کا ذکر کچھ یوں ہے کہ:

‘اے محمد، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں ۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔’ (الحجر 10-11، ترجمہ از مودودی صاحب)

‘اے محمد، تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخرکار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔’ (الانعام 10 ، ترجمہ از مودودی صاحب)

قران جب انبیاء کے مخالفین کا ذکر کرتا ہے تو ساتھ ساتھ ان کی طرف سے کی گئی توہین و تنقیص کو بھی بعض اوقات مورد بحث بناتا ہے۔ اس سب کے ہوتے ہوئے پورے قران میں ان توہین کرنے والے مخالفین کو قتل کرنے کا کہیں پر بھی ذکر نہیں ہے۔ قران میں ہی حکم ہے کہ:

‘اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔’ (النساء 40، ترجمہ از مودودی صاحب)

توہین رسالت پر کعب بن اشرف اور ابن خطل کے قتل کا بہت ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے۔ شبلی نعمانی کی سیرت النبی کی پہلی جلد میں دونوں کی تفصیل ملاحظہ کرلیں کہ دونوں کے قتل کے کیا اسباب تھے۔ یہ چھوٹا سا مضمون تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر قسم کا تضحیکانہ اور تمسخرانہ رویہ روا رکھا گیا۔ ان کی راہ میں کانٹے بچھانا، نماز پڑھنے کے دوران جسم پر نجاست ڈال دینا، چہرے پر خاک ڈال دینا، ایک دفعہ آپ حرم میں نماز پڑھ رہے تھے تو عقبہ بن ابی معیط نے آپ کے گلے میں چادر ڈال کر کھینچ لی کہ آپ گر گئے، بائیکاٹ کر کے شعب ابی طالب میں محصور کر دینا ، طائف میں عمیر کے خاندان کے تین بھائیوں کے آپ کی تبلیغ پر تمسخر سے بھرپور جوابات اور طائف کے بازاروں میں اوباشوں کی بدتمیزیاں، گالیاں اور پتھر مارنا وغیرہ ہم سب نے پڑھ رکھا ہے، مگر اس سب ظلم کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا طریقہ کار رہا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شان کریمی کا اظہار کرتے ہوئے اس سب توہین تنقیص، سب و شتم اورہجو گوئی کو درگزر کر دیا۔ یہی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور اسی سنت کی پیروی ہم نے کرنی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس دنیا میں موجود ہوں تو وہ اس طرح کے توہین آمیز کارٹونز پر کیا رویہ اختیار کرتے؟ کیا وہ مسلمانوں کو ان سب توہین کرنے والوں کو مار دینے کا حکم دے دیتے، یا وہ ہولوکاسٹ میں مرنے والے معصوم عورتوں اوربچوں کی دل کاٹ دینے والی تصاویر وائرل کرنے کا کہتے، یا وہ اپنے ہی ملک میں سڑکیں بند کر کے اپنے ہی شہریوں کو تنگ کرنے کا حکم دیتے، یا پھر وہ معافی کا اعلان کر کے صبر اور دعا کا کہتے؟ مجھے تو یقین واثق ہے کہ وہ صبر اور دعا کا کہتے کہ یہی اللہ کا حکم ہے:

‘اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔’
‘ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ کی ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے انہیں خوشخبری دے دو ۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی ، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔’ (البقرہ 153, 156-157، ترجمہ از مودودی صاحب)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی ہم پر نہایت بڑی ذمہ داری ڈالتا ہے۔ اسی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس طرح کی گھٹیا تحاریک پر وہی اسوہ دکھائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں بار بار دکھایا۔ اپنے پیاروں کے بارے میں ایسی بازاری باتیں پڑھ سن کر دل ضرور دکھتا ہے مگر خالی خولی جذباتی اور غیر عملی باتیں کر کے اپنا مذاق اڑوانے سے بہتر ہے کہ ہم اس تحریک کے مقابلے میں آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی اعلی اور پاک سیرت کا نمونہ نہ صرف اپنائیں بلکہ اپنی اخلاقی برتری ثابت کر کے مخالفین کو دکھا دیں کہ وہ اس طرح کی ناپاک حرکتیں کر کے ہمارے دلوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ختم نہیں کر سکتا بلکہ اپنی کمتری اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت دے رہا ہے۔

ان سب باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ جائز قسم کے احتجاج نہ کئے جائیں۔ ہالینڈ کے سفیر کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کرانا، اقوام متحدہ اور او آئی سی کے پلیٹ فارم پر احتجاج ریکارڈ کرانا نہ صرف ہماری حکومت کا فرض ہے بلکہ ہمیں بھی یہ مطالبات حکومت کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔ مگر اپنی سڑکیں ہی بلاک کر کے اپنے شہریوں کو ہی تنگ کرنا کون سا احتجاج ہے؟ ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے ورنہ ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ہم آپ کی خاطر مر تو سکتے ہیں مگر آپ کی خاطر جی نہیں سکتے۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی خاطر اس طریقہ کار پر چلنا ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ساری عمر چلتے رہے جو کہ لا تثریب علیکم الیوم یغفراللہ لکم کی عملی تفسیر تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں