گھنٹہ تبدیلی آئی ہے


ہمارے نئے پاکستان کی کابینہ کے پہلے اجلاس کے ایجنڈے پر ہی یہ سوال ڈال دیا گیا کہ کیا ہفتے کی چھٹی ختم کر دی جائے؟ کابینہ کی سمری میں لکھا گیا کہ 2011 میں وزارت پانی و بجلی نے یہ تجویر دی تھِی کہ اگر کام کرنے کے دنوں کو چھے کی بجائے پانچ کر دیا جائے تو بجلی بچے گی۔ معاشی رابطہ کونسل نے تجویز منظور کر لی اور وفاقی محکموں میں بجلی بچانے کے لئے ہفتے میں پانچ دن کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن غالباً کسی حکمت کی وجہ سے صوبائی دفاتر میں بجلی بچانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

بہرحال کابینہ کو بتایا گیا کہ نہایت پرانے پاکستان میں دفاتر ہفتے میں چھے دن اور کل چالیس گھنٹے کام کیا کرتے تھے، پیر سے جمعرات تک صبح آٹھ سے سہ پہر تین تک اور جمعے کو آٹھ سے ایک بجے تک۔ اگر ہفتے کی چھٹی ختم کر دی جائے تو دفاتر پانچ دن صبح آٹھ سے سہ پہر چار بجے تک کل چالیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔

کابینہ کی مزید راہنمائی کی گئی کہ ویسے تو ہمارے پاس کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں اور اس معاملے کی کوئی سٹڈی نہیں کی گئی لیکن ادھر ادھر سے سننے میں آیا ہے کہ خواہ پانچ دن کام کیا جائے یا چھے، کارکردگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ویسے ہفتے میں کم مدت کام کرنے سے کارکردگی میں اضافے کی بات کی جائے تو ہمیں سنی سنائی بات پر اعتبار کرنے کی بجائے فرنگیوں کی اس موضوع پر ریسرچ دیکھ لینی چاہیے تھی۔ ممکن ہے کہ ہمارے برخلاف وہ ایسے فیصلے سوچ سمجھ کر کسی ڈیٹا کی بنیاد پر کرتے ہوں۔

کابینہ نے پیش کیے گئے شواہد کی روشنی میں عمیق غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ہفتے کی چھٹی برقرار رکھی جائے گی لیکن اب دفتر آٹھ سے چار کی بجائے نو سے پانچ بجے تک لگا کریں گے۔

سب سے پہلے تو ہم نئے پاکستان کی نئی کابینہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہفتے کی چھٹی ختم نہیں کی۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ اس چھٹی کے فیوض و برکات سے صوبائی ملازمین کو کیوں محفوظ رکھا جا رہا ہے۔

اس کے بعد ہمیں یہ خیال آتا ہے کہ گورے ٹھنڈے ملکوں میں رہ کر بھی اپنا گھنٹہ سردی گرمی میں آگے پیچھے کر دیتے ہیں تاکہ سورج کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ کام کر لیں۔ ہمارے ملک میں گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کا تجربہ ناکام رہا تھا۔ وقت بدلنے کے بعد جب تک لوگوں کو نئے وقت کی سمجھ آتی تھی اس وقت تک وقت دوبارہ بدل دیا جاتا تھا۔

یادش بخیر جب ہندوستان پر گوروں کا راج تھا تو وہ گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کی بجائے دفاتر اور سکولز کی ٹائمنگ آگے پیچھے کر دیا کرتے تھے تاکہ دن کی روشنی میں کام نمٹا لیا کریں۔ گرمی میں صبح جلدی کام شروع کیا جاتا تھا تاکہ سورج کی تپش سے بچ جائیں اور سردی میں کچھ دیر سے تاکہ جم کر ککڑ (مرغا) نہ بن جائیں۔ گرمی کا سکول صبح سات بجے لگتا تھا اور سردی کا آٹھ۔ دفاتر کی ٹائمنگ بھی ایسے ہی بدلتی تھیں۔ اس کا مقصد مناسب درجہ حرارت اور سورج کی روشنی میں کام نمٹا لینا ہوتا تھا۔

جہاں تک بجلی بچانے کا تعلق ہے ہماری گزشتہ کرپٹ حکومتیں بھی چیختی رہی تھیں کہ سارے دفاتر بلکہ بازار بھی دن کے دن کام نمٹا کر بند ہو جائیں تو بجلی کی بہت بچت ہو گی۔ لیکن کیونکہ وہ نا اہل حکومتیں تھیں تو ان کی کسی نے نہیں سنی۔

اب یہ جو سردیوں میں بھی دفتر پانچ بجے تک کھلیں گے تو اس وقت تو اندھیرا ہو جاتا ہے اور دفتروں میں بتیاں جلانے کے علاوہ ہیٹر بھی جلیں گے۔ اور گرمیوں میں جو فل گرمی کا وقت ہوتا ہے یعنی تین سے پانچ، وہ بھی سرکاری ائیر کنڈیشنر تیز چلا کر گزارنا ہو گا۔ پرانے وقت کے مطابق اگر اس وقت افسران کو تپتی سڑکیں ناپنے پر لگا دیا جاتا تو یہ خرچہ بچ جاتا۔

بہرحال تبدیلی ضروری ہے کیونکہ اس سے حوصلے بلند رہتے ہیں۔ آپ نے اس فوجی دستے کا قصہ سن رکھا ہو گا جو اگلے محاذ پر بھیج دیا گیا تھا جہاں فوجی ایک ہی جوڑا جراب ایک ہفتے تک پہننے کے بعد اس کی بدبو سونگھ سونگھ کر حوصلہ کھو بیٹھے تھے۔ آٹھویں دن کپتان صاحب نے سب فوجیوں کو حاضر کیا اور بولے ”جوانو، میرے پاس تمہارے لئے ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری۔ اچھی خبر یہ ہے کہ تمہیں جرابیں بدلنے کا موقعہ دیا جا رہا ہے“۔ جوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کا حوصلہ آسمانوں کو چھونے لگا۔ کپتان صاحب نے بات جاری رکھی ”بری خبر یہ ہے کہ تم یہ جرابیں ایک دوسرے سے بدلو گے۔ سب اپنی اپنی جرابیں اتار کر اپنی بائیں طرف کھڑے جوان کو دے دیں اور دائیں والے سے اس کی جرابیں لے لیں“۔

تو صاحبو، جرابیں بدلنے سے جیسے فوجیوں کے مورال پر بہت اچھا اثر پڑا تھا امید ہے کہ دفاتر کا وقت آٹھ بجے سے نو بجے کرنے کی اس گھنٹہ تبدیلی سے ویسا ہی اثر قوم پر پڑے گا۔ ہم جی جان سے تبدیلی کے ساتھ ہیں۔ خواہ یہ گھنٹہ تبدیلی ہو۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar