بہاولپورکا عجائب گھر۔۔۔ جنوبی پنجاب کی ثقافتی اقدارکا امین
ہندو آرٹ:
ہندو آرٹ سے متعلق چیزوں کا تعلق ساتویں صدی عیسوی سے ہے جن میں قلعہ مروٹ کے جین مندر سے حاصل کردہ کالی ماتا کا پتھر سے بنا ہوا بُت جس کے سر پر ناچتی ہوئی مورتیاں بنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بہاولپور شہر میں قائم تقریباََ ایک صدی قدیم کلا دھاری مندر کے منقش دروازے اور کھڑکیاں جن پر دیوی ، دیوتاؤں اور مختلف پرندوں کی اشکال کندہ کی گئی ہیں۔ ان دروازوں پر ہندو مت کے وشنو فرقے سے متعلق چند اشکال اور مناظر بھی کندہ ہیں ۔ جبکہ گیلری کے وسط میں تاریخی نور محل کا خوبصورت اور دیدہ زیب ماڈل رکھا گیا ہے۔
سکہ جات گیلری:
عجائب گھر کے دوسرے مرحلے میں تیار ہونے والی یہ گیلری قدیم و جدید سکوں کی گیلری کے نام سے منسوب ہے۔ یہاں زمانہ قبل از مسیح تاجِ برطانیہ ، بُدھ مت تہذیب ، سکھ دور کے سکے ، برصغیر پاک و ہند ، اسلامی حکومتوں اور خاص طور پر مغل بادشاہوں اورنگزیب عالمگیر ، نصیر الدین ہمایوں، محمد شاہ رنگیلا اور شاہ جمال کے سونے چاندی کے سکے خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔ دیگر سکہ جات میں شہاب الدین غوری ، شیر شاہ سوری، نادر شاہ اور علاؤالدین خلجی کے علاوہ قا چار سلطنت کے ایرانی سکے ، ریاست بہاولپور اور پرتھوی راج کے سونا چاندی کے سکوں نے اس گیلری کو مزین کیا ہوا ہے۔اس کے علاوہ اس گیلری میں ریاست بہاولپور کے میڈلز اور یاد گاری تاریخی ٹکٹس موجود ہیں جبکہ جھنگ سے ملنے والا اٹھارویں صدی کا سہہ درہ بھی اس گیلری کا حصہ ہے۔
علاقائی تہذیب و تمدن گیلری:
بہاولپورعجائب گھر کی یہ گیلری صحرائے چولستان کی رنگین ثقافت، رعنائی اور خوبصورتی کو اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔یہ گیلری دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے، ایک حصہ میں بہاولپور کی قدیم و جدید اشیاء، احمد پور شرقیہ کے روغنی آرائشی برتن اور کھجور کے پتوں سے بنی گھریلو استعمال کی اشیاء علاقائی ثقافت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ صحرائے چولستان اور صحرائے جیسلمیرکے قدیم زیورات، چولستانی جانوروں کو پہنائے جانے والے زیورات ، کپڑوں کے نمونے ، چولستانی گھریلو استعمال کی اشیاء یہاں موجود ہیں ۔جام پور کا انتہائی نفاست سے بنا روغنی فرنیچر اٹھارویں صدی سے تعلق رکھنے والی آٹا وچاول پیسنے کی چکیاں اور چرخہ جبکہ گیلری کے وسط میں تاریخی قلعہ ڈیراور کا خوبصورت و دیدہ زیب ماڈل رکھا ہوا ہے حال ہی میں اس گیلری کے ایک شو کیس میں ریاست بہاولپور کے چیف جسٹس کے شاہی چغوں کومشتہر کیا گیا ہے۔ علاقائی تہذیب وتمدن کی اس گیلری کے دوسرے حصے میں پارچات کے نمونے ، چْنری ، چولستانی گندیاں، چولستانی دستکاریوں اور فنون کو شائقین کے لئے گیلری میں سجایا گیاہے۔
مخطوطات و خطاطی گیلری:
اس گیلری میں خط نستعلیق ، خط نسخ میں لکھے ہوئے قلمی نسخے نہایت ہی قرینے سے سجائے گئے ہیں ان نسخوں پر سونے اور چاندی کا کام انہتائی نفاست سے کیا گیا ہے۔ نسخہ سیف الملوک ، مثنوی مولانا روم آٹھویں صدی عیسویں میں بلبل نامہ کا نایاب نسخہ اور دیگر نایاب قلمی نسخے اس گیلری میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نواب آف بہاولپور کے عربی اور فارسی میں تحریر کئے گئے فرامین اور خطوط بھی اس گیلری کا حصہ ہیں۔ غلاف کعبہ کا ٹکڑا مبارک اﷲ تعالیٰ کے عظیم ناموں سے مزین ایک خوبصورت فریم میں آویزاں کیا گیا ہے۔ طباعتی قرآنِ پاک کا ایک نسخہ سرائیکی ترجمے کے ساتھ شوکیس کی زینت ہے۔
بہاولپور گیلری:
ریاست بہاولپور کے آخری نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے بہاولپور گیلری کے نام سے ایک گیلری قائم ہے جس میں تقریباً1727ء سے لے کر 1947ء تک ریاست بہاولپور میں حکمرانی کرنے والے بیس سے زائد نوابوں بالخصوص نواب بہاول خان عباسی چہارم اور سر صادق خان عباسی پنجم کے حالات و واقعات کو تصاویر کے زریعے ان کے جاہ جلال ، محلات کی آرائش اور دیگر ممالک کے سر کردہ افراد و اداروں سے تعلق کی تصویری کہانی دکھائی گئی ہے۔صادق گڑھ محل کی اندرونی آرائش اور پْر شکوہ عمارات کی فوٹو گراف بھی یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اہلِ بہاولپور کے لئے یہ گیلری خاص اہمیت کی حامل ہے۔ جس میں ریاست بہاول پور کو پورے جاہ وجلال کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
چولستان چلڈرن سیکشن:
عجائب گھر کی یہ دو گیلریز ایسی ہیں جن کی نظیرپورے پاکستان میں نہیں ملتی۔یہاں مستقل بنیادوں پر بچوں کے آرٹ ورک کو جگہ دی جاتی ہے۔عجائب گھر کی حدود میں ہر سال منعقدہ بہار فیسٹیول کے آرٹ کمپٹیشن میں حصہ لینے والے طلباء و طالبات کے فن پاروں کو یہاں محفوظ کیا گیاجبکہ گیلری کے دوسرے حصے میں چولستانی تہذیب کے مٹتے ہوئے آثار یہاں کی قدیم تاریخی عمارات و شاہی محلات ، مساجد اور مزارات کے ماڈلز مشتہر کئے گئے ہیں تاکہ بچوں کی مخفی صلاحیتوں کو ِجلا دی جائے اور ان کے درمیان مثبت مقابلہ سازی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دیاجائے۔ اس گیلری کے عین وسط میں شاہی خواتین کے زیر استعمال رہنے والی شاہی بگھی ہے جو نفاست ، پائیداری اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔اسکا شمار اہم ترین نوادرات میں ہوتا ہے۔
لائبریری:
لائبریری کسی بھی عجائب گھر کے لئے بہت ضروری ہے، ۔ عجائب گھر میں بھی ایک چھوٹی سی ریفرنس لائبریری قائم ہے۔ اس لائبریری میں تاریخ ، ثقافت اور آثار قدیمہ سے متعلق چودہ سو سے زائد نایاب کتب موجود ہیں۔
ڈائریکٹر عجائب گھر زبیر ربانی کا کہنا تھا کہ بہاولپورکا عجائب گھر جنوبی پنجاب بالخصوص چولستان و بہاولپور کی تہذیبی اقدار اور ثقافتی قدروں کا امین ہے اور ترقی یافتہ ملکوں کی طرح پاکستان کے عجائب گھروں کو بھی تعلیم تربیت اور تحقیق کا ایک لازمی حصہ قرار دیا جائے جس کے لئے ضروری ہے کہ طلبہ و طالبات کے دورہء عجائب گھر کو نصاب تعلیم کا حصہ بنائیں۔

