گلاب پاش یا صندل کا پیڑ: زمانہ حال کی ایک نایاب کتاب

ادب میں نایاب کتاب اس کتاب کو سمجھا جاتا ہے جو یا تو انتہائی قدیم ہو اور بہت کم افراد کے کتب خانے کی زینت ہو یا پھر عرصے سے دوبارہ شائع نہ ہوئی ہو اور شائقین علم کی دسترس سے باہر ہو۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسی کتاب شائع ہوئی ہے جو نہ تو مندرجہ بالا پہلی شرط پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی دوسری پر۔ لیکن میں اس کتاب کو پھر بھی نایاب کتاب کا درجہ

Read more

معروف داستان گو دانش حسین سے خصوصی مکالمہ

س۔ آپ نے بھارت سے اردو ادب کی ایک ناپید صنف داستان گوئی کو زندہ کیا اور اب دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں داستان گوئی کا استعارہ بن گئے تو اس کا آغاز کب اور کیسے کیا؟ ج۔ اچھا مجھے بہت خوشی ہے کہ میں جب یہاں پاکستان آتا ہوں اور جب آپ لوگ مجھے متعارف کراتے ہیں تو آپ لوگ بھارت کہہ کر متعارف کراتے ہیں کیونکہ ہندوستان میں تو مجھے لفظ

Read more

شوبھا ڈے: سوفٹ پورن ادیبہ یا سنجیدہ صحافی ؟

وہ شام کچھ عجیب سی تھی۔ کمرے کے باہر بارش کی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ ہر سو ماحول نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔ کھڑکی کا شیشہ، نمی کے باعث دھندلا سا گیا تھا۔ لیکن کمرے کا ماحول بہت خواب ناک تھا۔ معلوم نہیں کہ یہ آتش دان میں دھیمی دھیمی چٹخنے والی لکڑیوں کی آواز کا اثر تھا یا ہندوستان کی معروف کالم نگار اور ناول نگار شوبھا ڈے کی موجودگی کا، جن کے ساتھ ہم تقریباً ایک گھنٹے سے محو گفتگو تھے۔ جی ہاں! وہی شوبھا ڈے، جن کو بھارت کی ”جیکی کولینز“ بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے ہندوستان کی فلمی صحافت کو اپنی تحریروں کے ذریعے ایک نیا رنگ اور انداز دیا۔ شوبھا ڈے کا جنم بر صغیر کی تقسیم کے تقریباً پانچ ماہ بعد 7 جنوری 1948ء میں ہوا۔ ان کا اصل نام شوبھا راجا دھکشہ ہے لیکن ادبی و صحافتی حلقوں میں وہ شوبھا ڈے کے نام سے مقبول ہوئیں۔ انہوں نے گریجوئیشن کے بعد ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔ لیکن ہندوستانی فلمی دنیا میں ان کا نام اس وقت جانا مانا گیا جب 70ء کی دہائی میں معروف فلمی جریدے ”اسٹار ڈسٹ“ سے بطور پہلی خاتون ایڈیٹر منسلک ہوئیں۔

Read more

ڈاکٹر آصف فرخّی کا ریڈیو پاکستان کے لئے انٹرویو

ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ انہیں ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جہاں بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، وہیں پاکستان کے مقامی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ستمبر 1959 ء میں کراچی میں آنکھ کھولی۔ وہ معروف معلم اور ادیب ڈاکٹر اسلم فرخی کے صاحب زادے ہیں۔ کم سنی

Read more

آج کافی گائیکی کی ملکہ زاہدہ پروین کی برسی ہے

کلاسیکی گلوکارہ زاہدہ پروین کی وجہ شہرت کافی گائیکی کو کلاسیکی موسیقی کے انگ سے ہم آہنگ کرنا ٹھہرا۔ زاہدہ پروین 1925ء میں امرتسر میں پیدا ہوئیں۔ زاہدہ پروین نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم بابا تاج کپورتھلہ والے سارنگی نواز سے حاصل کی بعد ازاں وہ تقریباً سات برس تک استاد حسین بخش خاں امرتسر والے سارنگی نواز سے گائیکی کے اسرار و رموز سیکھتی رہیں۔ ان دونوں استادوں کے بعد وہ استاد عاشق علی خان پٹیالہ والے کی شاگرد

Read more

فہمیدہ ریاض کا ریڈیو پاکستان سے آخری انٹرویو (2)

  س۔ آپ نے سات سال کا طویل عرصہ ہندوستان میں جلا وطنی میں گذارا اور پھر بینظیر بھٹو کی شادی کے دن پاکستان واپس لوٹ کر آئیں تو واپسی پر کیسا ماحول پایا؟ ج۔ جب واپس آئی تو پھر ایک بہت لمبی کہانی ہے۔ بالکل ایک بڑا جوش تھا بڑا جذبہ تھا۔ ہمیں لگتا تھاکہ طویل جدوجہد کامیاب ہوئی ہے اور اب ملک میں ایک جمہوری دور شروع ہو رہا ہے اس زمانے میں نیشنل بک فاﺅنڈیشن ایک ادارہ

Read more

(فہمیدہ ریاض کا ریڈیو پاکستان سے آخری انٹرویو (نومبر 2016

فہمیدہ ریاض کا جنم 28 جولائی 1945ء کو ہندوستان کی تاریخی فوجی چھاؤنی میرٹھ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوا۔ ان کے والد ریاض الدین احمد ماہر تعلیم تھے۔ یہ ذکر قیام پاکستان سے کوئی 17 سال قبل کا ہے جب سندھ کے معروف ماہر تعلیم نور محمد نے حیدر آباد میں ایک اسکول قائم کیا تو اپنے اسکول کے لئے انہوں نے ایک مسلمان استاد کے لئے علی گڑھ یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست کی اور یوں

Read more

1965ء کی جنگ، ریڈیو پاکستان اور شکیل احمد کی خبریں

1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے جب بھی مورخ تاریخ لکھے گا تو ریڈیو پاکستان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ خصوصاَ ریڈیو پاکستان کا شعبہ خبر جس سے منسلک معروف نیوز ریڈر شکیل احمد نے زمانہ جنگ کے دوران جس انداز میں خبریں پڑھیں وہ آج بھی نو آموز براڈ کاسٹرز اور نیوز ریڈرز کے لیئے مشعل راہ ہیں۔ شکیل احمد کا اصل نام وکیل احمد تھا ۔ 1908ء میں بھارت کے

Read more

بہاولپورکا عجائب گھر۔۔۔ جنوبی پنجاب کی ثقافتی اقدارکا امین

ترقی یافتہ معاشروں میں عجائب گھرکی اہمیت مسلمہ ہے۔عجائب گھرکا قیام متمدن قوموں کی پہچان اوران کے ورثے وثقافت کی بقاء و ارتقاء کی ضمانت ہوتے ہیں۔ متمدن قومیں نسلِ نو میں ثقافت کے تحفظ ان کے فروغ کے بارے میں شعور وآگاہی پیدا کرنے کے لئے عجائب گھر وں کا قیام عمل میں لاتی ہیں۔عجائب گھرایک ایسا ادارہ ہے جہاں تاریخی،سائنسی،سماجی وثقافتی اہمیت کی حامل اشیاء عوام اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کو معلومات وتفریح فراہم کرنے

Read more