اول گردن، دوجے سینہ، تیجے پُٹھ، نہیں تو اُٹھ
خانیوال میں 1980 کے عشرے میں ایک قصاب ضیا الدین کی دکان ہوتی تھی۔ اور قسائی بھی ہوتے ہوں گے لیکن میں ہمیشہ ضیا الدین کی دکان پر جاتا تھا۔ ان کی دکان پہلے بلاک نمبر دس میں اس گلی میں تھی جس کے اختتام پر ڈاکٹر امین کا کلینک تھا۔ بعد میں وہ دکان بلاک نمبر چھ میں منتقل ہوگئی۔ اس دکان سے کچھ آگے پرانی سبزی منڈی شروع ہوجاتی تھی۔
میں دس گیارہ سال کا تھا جب وہاں جانا شروع کیا۔ امی سمجھا کر بھیجتی تھیں، شاخ کا گوشت، ہڈی والا، تین پاؤ۔ یہ بچھیا کی پنڈلی کا گوشت ہوتا ہے۔ اسے بونگ بھی کہتے ہیں۔ اس کی ہڈی میں مینگ ہوتی ہے۔ قیمہ منگوانا ہوتا تو امی کہتیں، روکھا قیمہ، بغیر ہڈی کا، تین پاؤ۔ لیکن ایک چھوٹی سی ہڈی الگ سے رکھوا لینا۔ امی نے خدا جانے کس سے سنا تھا کہ بغیر ہڈی کا گوشت مکروہ ہوتا ہے۔
بابا نے اک بار بتایا تھا کہ انھوں نے کسی قسائی سے پوچھا کہ تم خود کون سا گوشت کھاتے ہو؟ اس نے جواب دیا، گردن کا۔ پھر مشورہ دیا، اول گردن، دوجے سینہ، تیجے پُٹھ، نہیں تو اُٹھ۔ یعنی ان تینوں میں سے کسی قسم کا گوشت نہ ملے تو اس دن سبزی کھا لو۔
ضیا الدین صاحب ایک تخت طاؤس پر بیٹھتے تھے۔ اونچے پایوں والا نہیں بلکہ فرش سے لگا ہوا تخت۔ ایک طرف گلے کے پاس وہ خود بیٹھے رہتے تھے اور ان کے برابر میں ایک بڑے میاں۔ گوشت ضیا الدین تول کر اور آرام آرام سے صاف کرکے دیتے تھے جبکہ بڑے میاں ہاتھ کا قیمہ بناتے تھے۔ میرے سامنے ان کے پاس قیمہ بنانے کی مشین آئی لیکن کئی گاہک ہاتھ کے قیمے کی فرمائش کرتے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ ان دنوں پلاسٹک کی تھیلیاں یعنی شاپرز عام نہیں ہوئے تھے۔ سبزی گوشت لینے کے لیے گھر سے کپڑے کا تھیلا یا پلاسٹک کی کنڈی لے جانا پڑتی تھی۔ سبزی فروش آلو پیاز تول کر کنڈی میں الٹ دیتا تھا۔ قصاب گوشت صاف کرکے اخبار میں لپیٹ کر دیتا تھا۔
ضیا الدین چوڑی ہڈی کے آدمی تھے۔ سفید کرتا اور چوخانہ تہمد پہنتے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ چھوٹے قد کے تھے یا لمبے کیونکہ میں نے انھیں بیٹھے ہی دیکھا۔ خوش مزاج تھے اور اچھی زبان بولتے تھے۔ میں نے کبھی ان کے منہ سے گالی نہیں سنی، نہ کبھی انھوں نے گھٹیا جملہ بولا۔
تخت کے سامنے دو صوفے پڑے رہتے تھے۔ فوم کے صوفے نہیں بلکہ لکڑی کی ایسی بینچیں جن کے بازو ہوتے ہیں۔ ان پر ہمیشہ کچھ لوگ بیٹھے ملتے تھے کیونکہ نئے آنے والے کا نمبر آنے میں آدھا پون گھنٹا لگ جاتا تھا۔ مجھے اس آدھ پون گھنٹے میں ضیا الدین اور ان کے گاہکوں کی دلچسپ گفتگو سننے کو ملتی تھی۔
ضیا الحق کا دور تھا۔ ٹی وی پر ٹاک شوز نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ گوشت کی اس دکان پر روزانہ کیپٹل ٹاک ہوتا تھا۔ جہاد افغانستان، ایران عرق جنگ، مسائل ہائے کشمیر و فلسطین اور عالمی رہنماؤں کے بارے میں ابتدائی معلومات مجھے اسی مقام پر ملی۔
ایک بار پڑوس میں کیسٹوں کی دکان پر فل والیوم میں لتا کا گانا چل رہا تھا، جب ہم جواں ہوں گے، جانے کہاں ہوں گے۔ بڑے میاں نے حیران ہوکر پوچھا، یہ لڑکی کیا کہہ رہی ہے؟ ضیا الدین نے جواب دیا، یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ میری منگنی پردیس میں طے ہوگئی ہے۔ جوان ہونے کے بعد میں وہاں چلی جاؤں گی۔ لیکن جہاں بھی جاؤں گی، تمھیں یاد کروں گی۔ بڑے میاں قیمہ بنانا بھول گئے۔ کافی دیر سوچ میں ڈوبے رہے۔ ضیا الدین کو انھیں ٹہوکا دے کر حقیقت کی دنیا میں لانا پڑا۔


