ہالینڈ کے رکن پارلمینٹ گیرٹ وائلڈرز نے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کر دیا


ہالینڈ میں انتہائی دائیں بازو کے رن پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈرز نے پیغمبر اسلام کے خاکوں ( نعوذبااللہ) کا مقابلہ منسوخ کر دیا ہے۔

گیرٹ وائلڈرز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موت کی دھمکیوں اور دہشت گردی کے خطرات سے صرف ان کی ذات نہیں بلکہ پورے ہالینڈ کو نشانہ بنایا جارہا تھا چنانچہ انہوں نے جان و مال کے نقصان کو روکنے کے لئے خاکے بنانے کا مقابلہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گیرٹ وائلڈرز نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ میں نے مسلم دہشت گردی کے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لئے اپنا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔

گیرٹ وائلڈرز گزشتہ کئی برس سے مسلم انتہا پسندوں کے ہاتھوں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ ان کی سیکورٹی سخت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ دوسروں کی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔

گستاخانہ خاکوں کے اس مجوزہ مقابلے پر احتجاج کرتے ہوئے ایک 26 سالہ پاکستانی کو جمعرات کے روز ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر یہ شخص دہشت گرد حملہ کرنا چاہتا تھا۔

جمعرات کے روز ہالینڈ کے ایک جج نے مبینہ دہشت گرد پاکستانی کی نظر بندی میں دو ہفتے کی توسیع کر دی تھی۔

ہالینڈ حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے اس مقابلے میں غیرجانبدار رہنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہالینڈ کے وزیر اعظم نے ایک بیان میں پوچھا ہے کہ گیرٹ وائلڈرز اس مقابلے سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا مقصد کوئی علمی مباحثہ نہیں بلکہ اشتعال انگیزی ہے۔ تاہم ہالینڈ کے وزیر اعظم نے آزادی اظہار کے حق کی پوری حمایت کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت اس مقابلے کو زبردستی منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

Facebook Comments HS