پھولوں کا جزیرہ اور صوفیہ کا ساتھ


میں نے پہلی مرتبہ اتنے زیادہ پھولوں کے کھیت فلم ‘پریم روگ’ میں دیکھے تھے۔ گاؤں میں کرایے کا وی سی آر اور اس فلم کی ویڈیو کیسٹ لائی گئی تھی۔ محلے کے تمام شوقین مزاج لڑکے، بڑے اور بزرگ جمع تھے۔ اس میں ایک گانا تھا ‘بھنورے نے کھلایا پھول، پھول کو لے گیا راج کمار’۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس فلم میں پھولوں کے کھیت دیکھ کر وہاں بیٹھا ہر کوئی حیران رہ گیا تھا۔ ابراہیم مستری نے دھوتی کو اپنے مخصوص انداز میں ٹھیک کرنے کے بعد حقے کی گُڑگُڑ کرتے ہوئے کہا تھا، ‘انگریزنیاں وانگوں ایناں دیاں پہلئیاں وی سوہنیاں نیں’ (انگریزنیوں کی طرح ان کے کھیت بھی سوہنے ہیں۔)

گاؤں میں اس وقت کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ پھولوں کے یہ کھیت ہالینڈ میں ہیں۔ تب تو میرے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ایک دن اسی فلمی سین کی طرح میں بھی کبھی ان کھیتوں میں جرمن بولنے اور جینز کے اوپر ٹی شرٹ پہننے والی لڑکی کے ساتھ سائیکل تیز بھگانے کی شرط لگاؤں گا اور ہار جاؤں گا۔ شاید میں جیتنا بھی نہیں چاہتا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ ہارے اور اس دلنشیں اور مختصر رفاقت کا چائے کے آخری اور ٹھنڈے گھونٹ کی طرح مزہ کم ہوجائے۔

ہم اس دن کافی دیر بے معنی باتیں کرتے رہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان بے معنی باتوں میں سے بھی کوئی نہ کوئی مزید بات نکل آتی تھی۔ جب 6 گھنٹے سائیکل پر آوارہ گردی کرکے ہم واپس گھر پہنچے تو تھکاوٹ سے ہمارا بُرا حال ہوچکا تھا، پاؤں کی چھوٹی چھوٹی رگیں ڈھولکی کی کھال کی طرح ارتعاش کرتی محسوس ہو رہی تھیں۔

ہم چند دوست گزشتہ 3 برسوں سے سال میں ایک سفر مل کر کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ہم ہالینڈ، بیلجیم کے ساحلی علاقے ڈیپان، سوئٹزرلینڈ اور فرانس کا ایک ایک سفر مل کر چکے ہیں لیکن اس جزیرے میں کچھ الگ ہی کشش تھی۔ جرمنی پہنچ کر اس گروپ میں سب سے پہلی دوستی فلوریان سے ہوئی تھی اور پھر باقی ہم مزاج دوست بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔

شام کے کھانے کے بعد ہم سبھی مل کر فلم دیکھ رہے تھے لیکن صوفیہ ہم سب سے بے نیاز ہوکر آتش دان کے قریب بیٹھی جوجو موئس کا بیسٹ سیلر رومانوی ناول ‘می بیفور یُو’ کا جرمن ترجمہ انہماک سے پڑھنے میں مصروف تھی۔ یہ ناول ایک ایسے امیر اور خوبصورت نوجوان کے گرد گھومتا ہے، جو ایک حادثے میں اپاہج ہوجاتا ہے اور قانونی خودکشی کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک 26 سالہ غریب لڑکی لوئزا کلارک کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ لوئزا ناول کے اپاہج ہیرو ولیم کے بال تراشنے سے لے کر داڑھی سنوارنے تک کا کام سر انجام دیتی ہے۔ آہستہ آہستہ لوئزا اپاہج ولیم کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے، دونوں ایک دوسرے کے انتہائی قریب آجاتے ہیں لیکن ولیم خودکشی کا ارادہ ترک نہیں کرتا۔

ایک کونے میں بیٹھی صوفیہ ایک دم سے چلائی، ‘ایسا بھلا کون کرتا ہے؟ اگر اسے ایک اچھی لڑکی مل ہی گئی ہے اور دل سے اس کی دیکھ بھال بھی کرتی ہے تو پھر وہ کیوں مرنا چاہتا ہے؟ اسے زندگی سے اس قدر نفرت کیوں ہے؟’

صوفیہ نے کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور ہوا کے ساتھ کروٹیں بدلتے ہوئے بادلوں جیسی انگڑائی لیتے ہوئے ایک نعرہ بلند کیا، ‘ساحل پر کون کون چلے گا؟ ساحل پر ایک لائٹ ہاؤس ہے کون کون دیکھے گا؟’

رات کے 10 بج چکے تھے اور ہر کوئی گرم کمبل میں بیٹھا ہوا تھا پہلی آواز میں کسی نے بھی ہاں نہ کی۔

صوفیہ پھر بولی، ‘تم میں سے کسی نے پہلے لائٹ ہاؤس دیکھا ہے اور وہ بھی ایک جزیرے پر اور وہ بھی اتنی رات گئے؟ ایسی بکواس فلمیں تو گھر پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ چلو اٹھو سبھی!’ صوفیہ نے ایک دم سے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی مِینو کا کمبل کھینچا۔

کچھ ہی دیر بعد ہم سبھی ساحل پر کھڑے تھے۔ ٹھنڈی ہوا گرم کپڑوں کا سینہ چیرتے ہوئے اندر تک اپنی ٹھنڈک کا احساس دلا رہی تھی۔ میں نے جلدی سے اپنے اونی مفلر سے گلے کے ساتھ ساتھ اپنے کانوں کو بھی لپیٹ لیا۔ سردی سے ہاتھ کوٹ کی جیبوں سے باہر نکالنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ لائٹ ہاؤس کی بتیوں سے نکلنے والی تیز روشنی پیڈسٹل پنکھے کی طرح دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں جانب مڑنے کا ناختم ہونے والا سفر جاری رکھے ہوئے تھی۔

دسمبر جیسی برفیلی تیز ہوا کی سرسراہٹ، گھپ اندھیرا اور شور مچاتی ہوئی لہریں ماحول کو انتہائی پُراسرار بنا رہی تھیں۔ وہاں رات کو اس وقت ہمارے قہقہوں اور سمندری بگلوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا۔ ساحل پر تیز ہوا کے ٹھنڈے تھپیڑے تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

چند ہی منٹوں بعد نارتھ سی کی جما دینے والی ہواؤں کی وجہ سے آنکھوں سے ہلکا ہلکا پانی نکلنا شروع ہوا تو ہم سب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وسط دسمبر کی کسی ٹھنڈی اور سنسنان رات میں آپ کو ساحل پر کھڑا کردیا جائے اور اوپر سے تیز آندھی کی طرح بے لگام ہوائیں چل رہی ہوں تو آپ ٹھٹھرتے ہوئے جسم کے ساتھ بھلا کتنی دیر وہاں قیام کرسکتے ہیں؟

سب نے مل کر ایک مرتبہ صوفیہ کی کلاس لینے کی کوشش کی کہ اسی کا مشورہ تھا لیکن وہ ڈٹی رہی کہ اتنی ٹھنڈ ہے نہیں جتنا آپ سب نے شور ڈالا ہوا ہے۔ ہمارا کاٹیج نما گھر ساحل سے تقریباﹰ ایک کلومیٹر دور تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد صوفیہ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے کوٹ کی جیب میں ڈال دیا۔ اس کے ہاتھ شاید ہم سب سے زیادہ بلکہ برف کی طرح ٹھنڈے تھے۔ میں نے خاموشی اس کی مخروطی انگلیوں کو اپنی نیم گرم مُٹھی میں دبا لیا۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے یوں لگا کہ جیسے اس جزیرے کے سب رنگ سِمٹ کر میری مٹھی میں آگئے ہوں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3