پھولوں کا جزیرہ اور صوفیہ کا ساتھ
گھر واپس پہنچتے ہی ہم سب آتش دان کے قریب بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد صوفیہ نے اپنا ناول پکڑا اور اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں موپساں کے افسانے پڑھنے میں مشغول ہوگیا۔ باقی لوگ کمبل اوڑھے اور سامنے چپس کے پیکٹ رکھے دوبارہ فلم دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔
اگلے دن 11 بجے کے قریب ہم سبھی جزیرے کے مشرقی حصے میں پہنچ چکے تھے۔ اس حصے میں ایک چھوٹی سے بندرگاہ ہے جہاں پر مچھیروں کی کشتیاں کھڑی رہتی ہیں۔ ان میں سے چند کشتیاں چند یوروز کے عوض سیاحوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہیں اور وہ بھی ماہی گیری میں حصہ لے سکتے ہیں۔
ہم ابھی بندرگاہ کی طرف پیدل جا رہے تھے کہ صوفیہ ایک دکان میں داخل ہوگئی۔ ‘یہ لو اونی ٹوپی، یہ تمہارے لیے ہے۔ یہ میں نے رات والا بدلہ چکا دیا تمہارا! لیکن اسے گفٹ مت سمجھ لینا، اس کے پیسے لے لوں گی کسی دن تم سے’۔
اصل میں یہاں کا موسم ہماری توقع سے زیادہ ٹھنڈا ہوچکا تھا اور میں بس ایک کوٹ اور گلے کے گرد لپیٹنے والا مفلر ساتھ لے کر آیا ہوا تھا۔ بحری جہاز کے ڈیک پر کھڑے ہوکر واقعی مجھے لگا کہ اگر یہ ٹوپی اور گلے میں اونی مفلر نہ ہوتا تو یہاں پر ایک منٹ بھی کھڑا رہنا مشکل تھا۔ یہاں ہوا بہت تیز چلتی ہے، اسی لیے کئی سیاح بادبانی کشتیاں چلانے یا سرفنگ کرنے کے لیے بھی اس جگہ کا رُخ کرتے ہیں۔
ہم جس بحری جہاز پر سوار ہوئے اس پر فلم ‘پائریٹس آف دا کیریبئن’ کی طرح قذاقوں والا جھنڈا لہرا رہا تھا لیکن یہ جہاز کیپٹن جیک اسپیرو کا نہیں بلکہ مچھلیاں پکڑنے والوں کا تھا۔ ہمارے ساتھ لمبے چوڑے قد کاٹھ والے مقامی ڈچ سیاح بھی موجود تھے۔ دنیا میں سب سے طویل القامت ڈچ مرد ہی ہیں اور اس حوالے سے خواتین دوسرے نمبر پر آتی ہیں۔
نارتھ سی میں اس طرح کسی جہاز پر مچھیروں کے ساتھ ماہی گیری کرنا ایک لائف ٹائم تجربہ ہے۔ پکڑے گئے جھینگوں کو جہاز پر ہی بوائل کیا جاتا ہے اور تمام سیاحوں کو کھانے کے لیے پیش کردیا جاتا ہے۔
ہالینڈ آنے والے زیادہ تر سیاح اس کے مرکزی شہروں تک ہی محدود رہتے ہیں لیکن اس جزیرے پر گزارے ہوئے چند دن اور روایتی پن چکیاں آپ کو زندگی کے ایک نئے روپ سے متعارف کرواتی ہیں۔ ہالینڈ میں ایک ہزار سے زائد پن چکیاں ابھی تک موجود ہیں اور ان میں سے درجنوں کو یونیسکو کا عالمی ادارہ عالمی ورثہ قرار دے چکا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر 17ویں صدی میں تعمیر کی گئی تھیں۔ روایتی طور پر انہیں آبپاشی اور اناج پیسنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب ان میں سے چند ایک ہی کام کرتی ہیں۔
چند ماہ پہلے تک میں بھی اس جزیرے سے ناواقف تھا لیکن ایک دن میری دفتری ساتھی ویدی نے مشورہ دیا تھا کہ ٹیکسل جزیرے پر کبھی ضرور جانا، تم ہمیشہ یاد رکھو گے۔ ویدی انڈونیشین ہے لیکن ہالینڈ کا وکی پیڈیا ہے۔ اُسی نے ہی مجھے بتایا تھا کہ 20ویں صدی میں ہالینڈ کا ایک مکمل صوبہ سمندر سے نکلا ہے۔ فلیوولینڈ نامی اس علاقے کو 1986ء میں باقاعدہ طور پر ایک نئے صوبے کا درجہ دے دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ آپ نے گاجروں کی ایک نئی قسم دیکھی ہوگی جو نارنجی کلر کی ہوتی ہیں۔ اس رنگ والی گاجریں پہلی مرتبہ ہالینڈ نے ہی دنیا میں متعارف کروائی تھیں۔ ہالینڈ کا 60 فیصد حصہ زراعت اور باغبانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود زرعی اجناس کی برآمد میں یہ دنیا کی بڑی معیشتوں چین، امریکا اور جرمنی کا مقابلہ کرتا ہے۔ یہ بیجوں، درختوں، پودوں اور پھولوں کا دنیا میں سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔
دنیا کی معیشت کا تعلق بھی کسی نہ کسی لحاظ سے اس ملک سے جڑتا ہے۔ 1602ء میں اسٹاک سامنے لانے والی ڈچ ایسٹ انڈیا کپمنی کو دنیا کی پہلی ملٹی نیشنل کمپنی قرار دیا جاتا ہے۔ اسی کمپنی نے 1602ء میں ہی ایمسٹرڈم اسٹاک ایکسچینج کی بنیاد رکھی تھی، جسے دنیا کی ‘قدیم ترین ماڈرن ایکسچیج’ بھی کہا جاتا ہے۔
اس جزیرے کے چاروں اطراف ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں اور درمیان میں کئی کلومیٹر کا علاقہ جھیل کے پانی کی طرح بالکل ہموار ہے اور اپریل کے مہینے میں رنگ برنگے پھول اسے اپنی نرم گداز آغوش میں لے لیتے ہیں۔ جو کھیت باقی بچتے ہیں وہاں آپ کو بھیڑیں ہی بھیڑیں نظر آتی ہیں۔ جزیرے کے وسط میں ایک چھوٹا سا بازار ہے، جہاں ریسٹورینٹ سمیت کھانے کی ہر چیز دستیاب ہے۔
اس سے اگلے دن شام کو میں اور صوفیہ دوبارہ سائیکل لے کر ساحل کے ساتھ ساتھ ریت کے ٹیلوں کے درمیان بل کھاتے راستوں پر نکل گئے۔ یہ اونچے نیچے ٹیلے گھاس اور سرکنڈوں کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں اور جہاں ختم ہوتے ہیں وہاں درختوں کے جھنڈ ہی جھنڈ ہیں۔ راستوں میں ہر ایک دو میل کے بعد بینچ رکھے ہوئے ہیں اور ایک گالف کا میدان بھی ہے، جو دور ہی سے نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ جزیرہ مختلف النوع اور رنگ برنگے پرندوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔
ہم راستے میں ایک بینچ پر بیٹھ کر وہاں گھوم رہی 4 یا 5 مرغابیوں اور ان کے بچوں کو دیکھ رہے تھے کہ صوفیہ نے اچانک صبح بھیڑوں کو ایک جگہ جمع کرنے والے کتے کی بات چھیڑ دی۔ اس دن صبح سویرے ہم جزیرے پر موجود اسکائی ڈائیونگ کے مرکز چلے گئے تھے لیکن اسکائی ڈائیونگ کے لیے کئی دن پہلے سے اپوائنٹ منٹ لینی پڑتی ہے۔ وہاں سے مایوس ہوئے تو ہم جزیرے پر واقعے ایک چرواہے کے کھیتوں میں چلے گئے، جہاں ایک کتا مالک کی سیٹی کی آواز سنتے ہی 300 سے 400 بھیڑوں کو ایک باڑے میں جمع کردیتا تھا۔
اس کی جھیل سی گہری آنکھیں ابھی تک ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتے ہوئے مرغابیوں کے بچوں کا پیچھا کر رہی تھیں۔ وہ میری طرف دیکھے بغیر بولی، ‘امتیاز تمہیں پتا ہے کہ یہ صرف خوف ہے! ورنہ کتا کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ بعض مرتبہ ہم ساری زندگی یونہی خوفزدہ ہوکر ایک عمل کرتے رہتے ہیں، اپنی آزادی دوسروں کے خوف کے عوض گروی رکھ دیتے ہیں۔ اگر ہمت کی جائے تو ہوتا کچھ بھی نہیں’۔
وہاں بیٹھے بیٹھے بات یہاں سے شروع ہوئی اور اس مختصر سی زندگی میں روشن خوابوں کے ریزہ ریزہ ہونے کے ڈر اور خوف تک چلتی گئی، زندگی مختصر ہے یا طویل؟ انسان 200 سال زندہ رہتا تو اسے دنیا اتنی ہی حسین لگتی؟ ایک نہ ختم ہونے والی بے معنی سی بحث جاری تھی کہ وہاں ڈوبتے ہوئے سورج نے دستک دے کر ہمیں یاد دلایا کہ تم دونوں گھر سے کئی کلومیٹر دور ہو۔
مغرب سے کچھ دیر پہلے ہم سائیکلوں کی اسپیڈ تیز کرچکے تھے۔ ہم اترائی سے نیچے کی طرف جا رہے تھے کہ پیچھے سے صوفیہ سائیکل بھگاتے ہوئے میرے قریب آئی اور آہستہ کرو، آہستہ کرو! آگے نالی پر جنگلا نہیں ہے، کا شور مچانے لگی۔ میں نے تو وقت پر بریک لگا لی مگر رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اس وقت تک نیچے گرچکی تھی۔
میں نے فوری طور پر اسے اٹھایا تو اس کے ایک ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کی پسندیدہ جینز گھٹنوں سے پھٹ چکی تھی۔ اس کی موٹی موٹی اور مخمور آنکھوں میں درد نمایاں تھا لیکن وہ پھر بھی کہہ رہی تھی ‘کچھ بھی نہیں ہوا، بس چھوٹی سی چوٹ ہی ہے’، ابھی خون بہنا بند ہوجائے گا۔ اس نے اپنی شال کو اپنے ہاتھ پر لپیٹا اور میں راستہ بھر یہی کہتا رہا کہ مجھے نظر آ رہا تھا، تمہیں سائیکل تیز کرتے ہوئے میرے پاس آنے کی کیا ضرورت تھی؟
گھر پہنچ کر اس کے ہاتھ پر پٹی تو لگا دی گئی لیکن وہ پھر ساری شام چپ چاپ اپنا ناول ہی پڑھتی رہی۔ صبح واپسی کے راستے پر میں نے پوچھا کہ ‘اداس کیوں ہو، ابھی تک درد ہو رہا ہے؟’
اس کی سحر زدہ کردینے والی نگاہیں کھڑکی سے باہر کچھ دیکھ رہی تھیں، نہیں میں اس چوٹ کی وجہ سے پریشان نہیں ہوں۔
‘تو؟’ میں نے پوچھا۔
‘ولیم نے لوئزا سے شادی نہیں کی بلکہ وہ سوئٹزرلینڈ چلا جاتا ہے، جہاں اسے ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا دیتے ہیں۔ اس کو لوئزا سے شادی کرلینی چاہیے تھی ویسے، وہ اچھی لڑکی تھی، اس سے محبت کرتی تھی’۔
اس نے اپنا دھیان کھڑکی کی طرف ہی رکھا، ‘تمہیں پتا ہے وہ اپنے آخری خط میں لوئزا کے نام بہت سی دولت بھی کرجاتا ہے اور آخری لائن میں لکھا ہے، ‘اچھی زندگی گزارنا۔’
وہ بولتی جا رہی تھی!
‘اب یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ صرف دولت سے تو اچھی زندگی نہیں گزرتی! پتا نہیں ایسے بکواس اور اداس کر دینے والے ناول بیسٹ سیلر کیسے بن جاتے ہیں؟





























