پرنسپل صاحب کو ڈی ایچ کیو کے ایم ایس نے سلام کیا: بھوٹانی میڈیا
بھوٹان میں میڈیکل کالج کا سربراہ عمومی طور پر پرنسپل ہوتا ہے۔ اگرچہ روایتی طور پر بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین عہدے میں پرنسپل سے بھی فائق ہوتا ہے۔ لیکن یہ محض ایک رسمی عہدہ ہوتا ہے۔ اصل اختیارات پرنسپل کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ میڈیکل کالج کے زیر انتظام آنے والے ٹیچنگ ہسپتال کے ایم ایس کی تقرری بھی پرنسپل ہی کرتا ہے۔ بھوٹان کے ایک بڑے میڈیا چینل، جس کا تعلق انجمن زرگران سے ہے، کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے ایم ایس اور پرنسپل صاحب کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے تھے۔ ہسپتال کی نرسوں کا معاملہ ہو یا وارڈ بوائز کے ڈسپلن کا۔ سابقہ پرنسپل صاحب کسی صورت میں ایم ایس صاحب کی ماننے کو تیار نہیں تھے۔
سابق پرنسپل نے اسی بالا دستی کے چکر میں کئی ایم ایس فارغ کیے۔ اور ہر مرتبہ اپنے تئیں ان صاحبان کو ایم ایس مقرر کیا جو ان کے ساتھ اختیار کی جنگ نا چھیڑیں۔ بھوٹان میں قائم دنیا کے سب سے بڑے چینل کے بڑے بول کے مطابق سابق پرنسپل کئی مرتبہ ڈی ایچ کیو (جسے ہمارے ہاں سول ہسپتال کہا جاتا ہے) کے دورے پر گئے لیکن کسی ایم ایس نے انہیں گھاس تک نہیں ڈالی۔ حتی کہ وارڈ میں موجود سینئر ڈاکٹرز سے لے کر وارڈ بوائز تک کسی نے بھی گزشتہ پرنسپل کو حفظ مراتب میں ایم ایس پر فوقیت نہیں دی۔ سابقہ پرنسپل کو تجربے کی بنیاد پر بارہا مواقع دیے گئے۔ لیکن ہمیشہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر انہیں ڈسپلنری کمیٹی کے ہاتھوں فارغ ہونا پڑا۔ بلکہ ایک مرتبہ تو انہیں جبراً ’ایکس بھوٹان لیو‘ پر بھی روانہ کیا گیا۔ مگر ان کے رویے میں کوئی خاص بہتری محسوس نہیں کی گئی۔ انضباطی کارروائی میں انہیں ایک مرتبہ پھر مجرم قرار دیا گیا۔ آخری اطلاعات آنے تک سابقہ پرنسپل امارت کی سزا اسارت کے طور پہ کاٹ رہے ہیں۔
بھوٹان جیسا ملک جو عموماً بیرونی دنیا میں کسی توجہ کا مرکز نہیں بنتا، گزشتہ روز اس وقت عالمی سطح پر شہ سرخیوں میں آیا جب بھوٹان کے نیشنل میڈیکل کالج کے نئے پرنسپل نے ڈی ایچ کیو کا دورہ کیا۔ بھوٹان کے محب وطن میڈیا کے مطابق اس موقع پر پرنسپل صاحب کے ہمراہ ان کے لائق پروفیسر صاحبان بھی موجود تھے۔ یاد رہے کہ کالج کی بہتری کی خاطر اکثر فیکلٹی ممبران بھاری معاوضے اور مراعات کے عوض دیگر سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں سے لیے گئے ہیں۔ جب کہ کالجِ ہٰذا میں سالہا سال سے تدریسی و طبی خدمات پر مامور ’اہلِ صفا ’ پروفیسر صاحبان کی اکثریت نئے سیٹ اپ میں ’مردودِ حرم‘ قرار پائی ہے۔ تاہم بھوٹانی میڈیا کے مطابق سٹوڈنٹس اور مریض اس پر مطمئن ہیں۔ اور نئے پرنسپل کے تمام اقدامات کی تائید و توثیق پورے جوش و جذبے سے کرتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق نئے پرنسپل نے سب سے بڑے شعبہ سرجری کا ہیڈ، ہسپتال کے نوجوان مالی کو مقرر کیا ہے کیوں کہ اس کا اپنا ایک گردہ نہیں ہے۔ پرنسپل صاحب کے ویژن کے مطابق اس کو مریض کی تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہو گا۔ ہسپتال کے مرکزی اور شعبہ جاتی ترجمانوں کے فرائض سویپرز کو سونپ دیے گئے ہیں تاکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہسپتال کی صفائی بہترین طریقے سے پیش کی جا سکے۔ مگرایک ترجمان کی جانب سے پرنسپل کی سرکاری آمد و رفت کے اخراجات، جبکہ دوسرے ترجمان کی شگفتہ گوئی سے کالج انتظامیہ کے خفت اٹھانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
موقر ذرایع کے مطابق موجودہ پرنسپل کے پاس ایک چپراسی کی سی وی بھی موجود تھی۔ جسے انہوں نے اپنی دریا دلی کے باعث اپنا نائب مقرر کیا ہے۔ وائس پرنسپل بنتے ہی چپراسی کے امیدوار نے تنگ گلیوں سے موٹر سائیکلوں کی پارکنگ ہٹوانے کا حکم صادر کیا جس سے ہسپتال کے مریضوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
وائس پرنسپل کے ساتھ انہی کے وارڈ کے سینئر عملے کی تو تکار بھی ہوئی۔ بدتہذیب عملے نے سابقہ وائس پرنسپل کی مبینہ بد عنوانی کو بے نقاب کرنے میں پس و پیش کی۔ جس پر موصوف نے ان کی موقع پر گوشمالی کی۔ اس تادیب اور پیار بھری سرزنش پر پرانے عملے نے نئے وائس پرنسپل کے ساتھ کم ازکم دوسال تک کام کرنے سے انکار کر دیا۔
تاہم جنرلی (یعنی عمومی طور پر) بھوٹان میں مذکورہ میڈیکل کالج اور ہسپتال میں اس وقت قابل رشک حد تک خوشگوار ماحول ہے۔ قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، کہ موجودہ پرنسپل صاحب، ایم ایس صاحب کے ساتھ ساتھ ڈی ایم ایس صاحبان کی بھی پسند ہیں۔ اسی وجہ سے گزشتہ روز انہیں ڈی ایچ کیو کے دورے پر ایم ایس صاحب نے خود ریسیو کیا۔ اور ڈی ایم ایس صاحبان نے ان کے ساتھ آنے والے فیکلٹی ممبران کا بھی بھرپور استقبال کیا۔ اس موقع پر انتظامی معاملات پر ایک بھرپور پریزنٹیشن بھی دی گئی۔ جس کو پرنسپل صاحب نے بھوٹان کی تاریخ میں پہلی بار اکیلے بڑی کرسی پر بیٹھ کر سنا۔
بھوٹانی ’زرگروں‘، ’برگروں‘ اور ’گھی‘ کے کنستروں کے مطابق ’پبلک‘ اس سارے عمل سے بہت خوش ہے۔ ہسپتال اور کالج کے معاملات سے وابستہ افراد بھی ڈی ایچ کیو کے اس تاریخی وزٹ پر ’جشنِ دس روزہ‘ منانے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں مزید اطلاعات تا دمِ تحریر موصول نہیں ہو سکیں۔ تاہم اس خوش آئند صورتحال کے عالمی سطح پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اور ہسپتال کی قیامت انگیز قیادت کو ہر فورم پر خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
عرضِ مولف۔ ادارہ ’ہم سب‘ کے قارئین سے التماس ہے کہ اس رپورٹ کو محض بھوٹان کے مشہور میڈیکل کالج کے تناظر میں ہی پڑھا جائے۔


