شرجیل میمن کے کمرے پر چھاپے کی اندرونی کہانی


چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج کلفٹن میں واقع ضیاء الدین اسپتال پہنچے تو شرجیل میمن لگژری کمرے میں سو رہے تھے۔ چیف جسٹس نے وہاں موجود ملازمین کو حکم دیا کہ لائٹیں آن کرو اور شرجیل میمن کو اٹھائو۔ اس پر  شرجیل میمن بغیر لاٹھی کے سہارے کمرے سے باہر نکلے۔ انہیں دیکھ کر چیف جسٹس نے کہا کہ شرجیل میمن میں چیف جسٹس آف پاکستان آپ کی خیریت معلوم کرنے آیا ہوں۔ یہ ہے آپ کی سب جیل، سب جیل اسے کہتے ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ تومکمل صحت مند لگ رہے ہیں۔ انہیں یہاں سے فوری طور پر کراچی سینٹرل جیل منتقل کریں۔

چیف جسٹس نے شراب کی بوتلیں دیکھیں تو شرجیل میمن سے استفسارکیا کہ یہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ یہ میری نہیں ہیں۔ شرجیل میمن کے کمرے میں دو بوتلیں ڈبے میں اور ایک شراب کی خالی بوتل ڈبے کے اوپر رکھی ہوئی تھی تاہم چیف جسٹس کے ساتھ موجود سپریم کورٹ کے عملے نے ایک بوتل کو سونگھ کر چیک کیا اور بتایا کہ اس میں سے تو شراب کی بو آ رہی ہے۔

اس سے قبل صبح سویرے آئی جی جیل نے وی آئی پی قیدیوں کے اسپتال میں داخلے پر چیف جسٹس کو بریفنگ دی تھی۔ آئی جی جیل خانہ جات کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ شرجیل میمن ضیا الدین، انور مجید این آئی سی وی ڈی اور عبدالغنی مجید جناح اسپتال میں داخل ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے آئی جی جیل خانہ جات سے استفسارکیا تھا کہ کیا واقعی یہ ملزمان ان ہی اسپتالوں میں موجود ہیں؟

اس پر آئی جی جیل نے چیف جسٹس کو بتایا کہ جی بالکل، یہ ملزمان ان ہی اسپتالوں میں ہیں جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ گاڑی تیار کرو اور شرجیل میمن سے ملنے اسپتال پہنچے۔

Facebook Comments HS