لیجنڈ گیت کار شیلندر


آج ہندوستان کے ایسے گیت کار کی زندگی پر بات کرتے ہیں جن کے گیت آج بھی اس زمین پر لاکھوں انسانوں کے کانوں میں رس گھولتے نظر آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گانے، نغمے یا گیت امرت کی بوند کی طرح شاعر کی قلم کی نوک سے ٹپکتے ہیں، لیکن شیلندر ایسے گیت کار تھے جن کے نغمے بوند بوند نہیں بلکہ برسات کی طرح برستے رہے اور کئی برسوں تک گیتوں کے برستے کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ شیلندر کا اصل نام شنکر داس کیسری لال شیلندر تھا۔ سجن رے جھوٹ مت بولو، خدا کے پاس جانا ہے۔ سہانا سفر اور یہ موسم حسیں، کھویا کھویا چاند کھلا آسماں، سب کچھ سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہوشیاری، آج پھر جینے کی تمنا ہے آج پھر مرنے کا ارادہ ہے۔ شیلندر کے یہ وہ ہٹ، کامیاب، خوبصورت اور حسین گیت ہیں جنہیں آج بھی ہم سنتے ہیں، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس آرٹسٹ نے مسسلسل بیس سال تک ایسے ہٹ گانے دیے۔ شیلندر کی شاعری کا رشتہ میرا جی اور کبیر سے تھا، اس لئے ان کی زبان میں سادگی ہے، سہل سے سہل زبان میں وہ بڑی بات آسانی سے کہہ دیتے ہیں۔ اور یہی شیلندر صاحب کا سب سے بڑا آرٹ تھا۔

یہ میرا دیوانہ پن ہے یا محبت کا غرور، آج پھر مرنے کی تمنا ہے، آج پھر جینے کا اردہ ہے۔ کیسے کیسے گیت ان کی قلم سے نکلے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ شیلندر جی سادہ الفاظ میں بڑی بات کیسے کہہ دیتے تھے۔ شیلندر کا جنم 30 اگست 1923 کو راولپنڈی میں ہوا۔ راولپنڈی سے یہ خاندان ماتھورا آیا۔ گھر میں غریبی تھی، مجبوریاں اور پریشانیاں تھی، شیلندر کے سر سے ماں کا سایہ بچپن ہی سے اٹھ چکا تھا۔ اس لئے وہ اداس رہنے لگے، گھر میں ان کا دل نہیں لگتا تھا۔ سچ کہتے ہیں جن بچوں کی مائیں بچپن میں ہی انتقال کرجاتی ہیں ان کا پھر گھر میں دل نہیں لگتا، ایسی ہی کچھ کیفیت شیلندر کی تھی۔

شیلندر نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی شاعری میں فن کی گہرائی کا طوطی سر چڑھ کر بولتا تھا۔ اسکول کے زمانے میں شلندر نے شاعری کرنا شروع کردی تھی، ان کی شاعری اس وقت رسالوں وغیرہ میں چھپنے بھی لگی تھی۔ گھر میں غرب تھی، اس لئے 1947 میں روزگار کی تلاش میں شیلندر ممبئی چلے گئے۔ ممبئی میں وہ گیت کار بننے نہیں آئے تھے، نہ ہی شہرت کے خاطر انہوں نے ممبئی کا سفر طے کیا تھا۔ ممبئی میں وہ ویلڈر بننے آئے تھے۔ مشین پر کام کرتے تھے، آگ کی چنگاریوں سے کھیلتے تھے۔

کمال کی بات ہے نہ کہ شیلندر ویلڈر کا کام کررہا تھا۔ نغمہ نگاری کا بے پناہ ٹیلنٹ ان میں تھا، اور ٹیلنٹ تو پھر دریا جیسا ہوتا ہے، دریا جیسے پہاڑ کو چیڑتا ہوا نکلتا ہے، اسے راستے کا پتہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں طاقت اس قدر ہوتی ہے کہ وہ چٹانوں، میدانوں، ریگستانوں اور جنگلوں سے گزرتا ہوا سمندر تک جاپہنچتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ٹیلنٹ شیلندر میں تھا۔ وہ ایک زبردست اور طاقتور دریا جیسا تھا، جسے ہر صورت کامیابی کے سمندر تک پہنچنا تھا۔

وہ ویلڈر کا کام بھی کرتا رہا اور گیت بھی لکھتا رہا۔ اسی دوران انڈیا کی سب سے بڑی تھیٹر کمپنی اپٹا کے ساتھ شیلندر کا رشتہ جڑ گیا۔ اپٹا ایسا تھٹریکل گروپ تھا جس کے ساتھ بھارت کی تقریبا لیجنڈز شخصیات کا کسی نہ کسی حوالے سے تعلق رہا تھا۔ شبانہ اعظمی کی والدہ بھی اس وقت اپٹا کے ساتھ جڑی تھی، بطور اداکارہ وہ کام کررہی تی، شیلندر کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک خاموش گو اور شرمیلا لڑکا تھا، اکثر اس کی قمیض کے اوپر چنگاریوں کے نشان ہوتے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ شیلندر کی کیفی اعظمی اور شوکت جی دوستی ہوگئی۔ یہ سب پھر شیلندر کے گھر بھی جاتے تھے۔

شیلندر اس زمانے میں ممبئی میں ایک چھوٹی سے کھولی میں رہتے تھے، جس میں صرف ایک چھوٹے سے پلنگ کے علاوہ تھوڑی سی اور جگہ تھی۔ ان کی بیوی کھانا تیار کرتی تھی اور پھر چولہے کو ٹھنڈا کرکے پلنگ کے نیچے رکھ دیتی تھی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ کھولی اتنی چھوٹی سی تھی۔ اپٹا میں انہوں نے انقلابی گیت لکھے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ خیالات میں وہ لیفٹسٹ تھے۔ سیکولر اور ترقی پسند سوچ کے حامل تھے، اس لئے ان کے گیتوں میں بھی انقلابی رنگ تھا۔

اسی زمانے میں اپٹا کا ایک پروگرام ہوا، اس پروگرام میں پرتھوی راج کپور اور ان کے بیٹے راج کپور بھی شامل تھے۔ شیلندر نے اس شو میں ”جلتا ہے پنجاب“ نامی ایک نظم پڑھی، اس نظم میں تقسیم کا درد تھا۔ راج کپور کو شیلندر کی شاعری پسند آئی، اسی زمانے میں راج کپور اپنی پہلی فلم بنا رہے تھے جس کا نام برسات تھا۔ راج کپور نے شیلندر کو کہا کہ کیا آپ ان کی فلم کے گانے لکھنا پسند کریں گے، شیلندر نے واضح انکار کردیا اور کہا صاحب وہ ایک مزدور آدمی ہیں، نغمے نہیں لکھ سکتے، اس کی وجہ یہ کہ تھیٹر کے لئے گیت میں اپنی خوشی کے لئے لکھتا ہوں، اس میں سوفیصد میرا اپنا خیال اور نظریہ ہوتا ہے۔ اس لئے فلم کے لئے کیسے گیت لکھ سکتا ہوں۔ راج کپور جی نے کہا شیلندر جی ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی، لیکن کبھی فلم کے گیت لکھنے کو دل کرے تو ان کے دروازے کھلے ہیں بات آئی گئی ہوگئی، کئی مہینے گزر گئے۔

اسی دوران شیلندر کی بیوی بیمار ہو گئی۔ بیوی کو اسپتال منقل کیا گیا۔ اب بیماری کے علاج کے لئے پیسے نہ تھے۔ راج کپور یاد آئے، بھاگتے بھاگتے راج کپور کے پاس گئے اور کہا گیت تو وہ ان کے لئے اب بھی نہیں لکھیں گے، لیکن اس وقت انہیں پیسوں کی ضرورت ہے، بیوی کا علاج کرانا ہے، راج کپور نے شیلندر کو پانچ سو ادھا ر دیے، کچھ عرصے تک بیوی ٹھیک ہو گئی، شیلندر نے جیسے کیسے کرکے پیسے جمع کیے اور راج کپور کے پاس ادھار چکتا کرنے پہنچ گئے، راج کپور نے کہا صاحب پانچ سو تو وہ واپس نہیں لیں گے، پلیز ان کے لئے گیت لکھ دیں، اس سے انہیں بہت خوشی ہوگی، اب انکار کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی۔ اب انہوں نے فلم برسات کے لئے دو گیت لکھے۔

ایک گیت تھا، برسات میں تم سے ملے ہیں ہم دوسرا تھا، ترچھی نظر، برسات فلم انیس سو انچاس میں ریلیز ہوئی تھی اور یہاں سے شیلندر کی کامیابی کا سفر شروع ہوا۔ اس کے بعد شیلندر نے ایک کے بعد ایک سپر ہٹ گیت دیا، ہندوستان کے باہر بھی ان گیتوں کی دھوم تھی۔ میرا جوتا ہے جاپانی، آوارہ ہوں، شیلندر کے قلم کا جادو اب سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ان کی زبان کی مٹھاس، موسیقیت کے سب دیوانے ہوگئے۔ ان کے گیت شہد کی طرح رس گھولتے تھے۔ خیال کی گہرائی میں طاقت تھی، گہری بات آسان زبان میں کہہ دیتے تھے۔ رومینٹک گیتوں میں بھی گہرائی تھی۔ پیار ہوا اقرار ہوا پیار سے پھر کیوں ڈرتا ہے دل۔ یہ رات بھیگی۔ ایسے کمال کے رومینٹک گیت لکھے کہ ہندوستان ان کا دیوانہ ہوگیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2