میک کین کے جنازے پر جارج بش اور مشل اوباما کے سویٹ مومنٹس


کون ہے جسے شہرت کی خواہش نہیں۔ شہرت سے بے زاری کا اظہار کرنے والے بھی مشہور ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ ایسی کافر لَت ہے کہ ایک بار لگ جائے تو پھر چھٹتی نہیں۔ مشہور شخصیات کی زندگی میں ان کا اپنا کوئی ایک پل بھی نہیں ہوتا۔ کیمرے ان کی نجی زندگی کو بھی پبلک کرنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ مداح جاننا چاہتے ہیں کہ ان مشہور لوگوں کی نشست و برخاست، طورواطوار، معاملات، گھریلو زندگی اور دیگرڈھنگ کیسے ہیں؟ یہ صبح سے شام کیسے کرتے ہیں؟ ان کے قریبی دوست، رشتے دار اور اولادیں کون کون ہیں؟ شب و روز کی مصروفیات کیا ہیں؟ یہاں تک کہ یہ مشہور لوگ مرتے کیسے ہیں؟ ان کی آخری رسومات پر بیوی بچے کتنے موٹے آنسو بہاتے ہیں؟ کون کون سی اہم شخصیات جنازے کو رونق بخشنے آتی ہیں؟

معلومات کی حد تک تو یہ سب جاننے میں کوئی قباحت نہیں لیکن موت سے تدفین تک کے ایک ایک منظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے اور دنیا کو دکھانے کا آخر مقصد کیا ہے؟ میں سمجھتی ہوں میڈیا کا مقصد سوائے اپنی دکان چمکانے کے سوا کچھ نہیں۔ چاہے کوئی المیہ ہی ہو، اسے ریٹنگ اور اشاعت بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کا گر میڈیا کو خوب آتا ہے۔ چناں چہ شخصیات کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی ہاتھوں ہاتھ بکنے والی ایک پروڈکٹ قرار پاتی ہے۔ کسی شخصیت کا آخری سفر دکھانا بے شک ایک خبری ضرورت ہے لیکن اس کو انٹرٹینمنٹ کے طور پر پیش کرنا صحافت اقدار کے منافی ہے۔ جان میک کین کا جنازہ میڈیا کی دکان پر موت کی فروخت کی و اضح مثال ہے۔

چھے بار امریکی سینیٹر منتخب ہونے والے جان میک کین کے جنازے کی پانچ دن تک رنگارنگ تقریبات منعقد ہوئیں۔ ان تقریبات میں میک کین کی بیوی بچوں سمیت تمام مہمانوں کی توجہ کا مرکز میک کین کی خدمات کے اعتراف سے زیادہ ذاتی سج دھج تھی۔ کیوں نہ ہوتی؟ میڈیا کے نمائندے ایک ایک لمحے کو یادگار بنانے کے لیے موجود جو تھے۔ آخر بڑے لمبے عرصے بعد کسی مشہور شخصیت نے فوت ہو کر اتنی بڑی تقریب کا موقع فراہم کیا تھا، جس میں ہر طبقے کے نام ور لوگوں کا نام مہمانوں کی فہرست میں موجود تھا۔ اگلا موقع جانے کب ملے، شاید اسی سوچ کے زیراثر میڈیا نے غیرمعمولی کوریج کی بدولت جنازے کو اتنا پر کشش بنادیا کہ لوگوں کادل چاہے کاش روز کوئی مشہور شخصیت دنیا سے رخصت ہو۔

میڈیا کے توسط سے بہت سی دل دہلا دینے والی چیزیں اب بے اثر ہوکر رہ گئی ہیں۔ ریپ، اغوا، خود کشی یا اور کسی حادثے کا جو اثر پہلے دل پر ہوتا تھا اب اس قدر نہیں ہوتا، بے حسی کی دولت میڈیا کی لائیو کوریج کی ہی دین ہے۔ موت کے لفظ میں پوشیدہ ہیبت بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ کچھ عرصے قبل فوت ہونے والی بھارتی اداکارہ سری دیوی کا جنازہ بھی ایک غم زدہ موقع کے بجائے پُرکشش تقریب کی طرح ہی دیکھا اور دکھایا گیا۔ نیٹ پر سرچ کر کر کے جنازے کی تقریب کا احوال دیکھا گیا۔ اداکاروں کی پورے تام جھام سے شرکت نے موت کے غم کو ’چار چاند‘ لگا دیے۔ لیکن امریکی سینیٹر جان میک کین کے جنازے کی تقریبات نے تو سری دیوی کا جنازہ ہی بھلا دیا۔

سینیٹر جان میک کین نے ساری زندگی امریکا کی خدمت کی۔ دو بار صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لیا لیکن قسمت نے یاوری نہ کی۔ ویت نام کی جنگ میں وہ فائٹر پائلٹ رہے اور قیدی بنا لیے گئے۔ پانچ سال ویت نام کی جیلوں میں بدترین تشدد جھیلا۔ زندگی بھر امریکا کا دفاع کرنے والے میک کین کی آخری خواہش تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرنے دی جائے ان کی اس وصیت سے مجھے یقین ہوچلاکہ بلاشبہہ انہوں نے مرتے دم تک صرف امریکا کے ہی مفاد کا سوچا۔ لیکن مرنے کے بعد ان کے جنازے کو میڈیا کے کاندھوں پر سوار کر کے امریکیوں نے بڑی زیادتی کردی۔ اَسّی کی دہائی سے مستقل امریکا کی نمائندگی کرنے والے میک کین کا جنازہ سیلیبریٹیز کی باہمی ملاقاتوں کے ایک نادر موقع سے زیادہ کچھ نہ ثابت ہوا۔

کیمرے کے سامنے ہر ایک زبان نے مسکرا کر ان کی خدمات کا اعتراف ضرور کیا لیکن کوئی آنکھ میک اپ کی خرابی اور چہرے کے بگڑتے زاویوں کے ڈر سے ان کے لیے رو نہ سکی۔ جنازے کی ’شوٹنگ‘ پوری دنیا میں دکھائی جانی تھی، لہذا بیوی اور بچوں کو بھی اجازت نہ تھی کہ وہ جنازے کے سامنے کھل کر رونا تو درکنار چند سیکنڈ سے زیادہ ٹھہر بھی سکیں۔ کیمرے کی فلش لائٹوں کی چکاچوند میں تابوت کے اندر ابدی نیند سوتے جان میک کین کی پروا کس کو تھی۔ سب مسکراتے چہروں کے ساتھ ایک دوسرے کو خوش آمدید کہتے رہے۔ ہیلری کلنٹن کی مشہور امریکی اداکاراؤں کے ساتھ خوش گپیاں اگر میڈیا فوکس کرتا رہا تو جارج ڈبلیو بش کا لارا بش سے چاکلیٹ لے کر مشل اوباما کو نیچے ہاتھ کر کے رازداری سے دینا بھی میڈیا سے نہ چھپ سکا۔

افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس‘ چاکلیٹی ویڈیو‘ کے ساتھ فوکس نیوز نے انسٹا پر ’سویٹ مومنٹس‘ کا ٹیگ لگایا اور بار بار دکھایا۔ گویا میک کین کی زندگی سے کسی نے کوئی سبق سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو ان کے جنازے سے دنیا نے فوتگی کی رسومات کے نئے ٹرینڈ ضرور سیکھ لیے۔ سوشل میڈیا پر امریکیوں کا ایک طبقہ سراپا احتجاج ہے۔ ان کا اگر یہ کہنا ہے کہ میک کین کے جنازے میں کم از کم ان کے خاندان کی پرائیویسی کا میڈیا کو ضرورخیال کرنا چاہیے تھا، تو میرے نزدیک وہ غلط نہیں۔ کیمروں کی زد میں لواحقین رونا تو دور کی بات آنکھوں کے گوشے بھی نہ بھگو سکے۔

میں میڈیا کے طفیل زندگی کے خاتمے پر ہونے والا یہ تماشا دیکھ کر سوچتی رہی کہ شہرت صرف ذاتی زندگی کا ہی مزہ کرکرا نہیں کرتی بلکہ موت کا درد بھی نچوڑ لیتی ہے۔ ہنستے مسکراتے چہروں کے درمیان سوگوار پڑے مشہور لوگوں کے تابوت میرے تصور میں چلا چلا کر گویا کہہ رہے ہیں کہ عام فرد کی طرح جی تو ہم خود نہ سکے اور مرنے تم سب نے نہ دیا۔ کیا شہرت کی یہی قیمت ہے؟ زندگی بھر شہرت کی گٹھری سر پر دھرے سر پٹ بھاگنے والے مرنے کے بعد‘ ہوئے مر کے ہم جو رسوا‘ کی تصویر بن جاتے ہیں۔

میک کین کا جنازہ میرے لیے سوچنے کی بہت ساری کھڑکیاں کھول گیا ہے۔ میں کئی دن سے سوچ رہی ہوں کہ اندھی تقلید میں رسومات اپنانے کی عالمی وبا ان مشہور لوگوں سے جب ہم عام لوگوں کا رخ کرے گی تو کیا ہمارے جنازے بھی تابوت میں لپٹے گھر کے کسی کونے میں اپنوں کے لمس کے منتظر پڑے رہ جائیں گے؟ روح دور کھڑی منتظر ہوگی کہ کب ہمارے بچے ماتھا چوم کر اور روکر ہمیں محبت سے رخصت کریں گے۔ لیکن ہمارے اپنے کہاں ہوں گے؟ وہ ہماری موت کے ایونٹ کو یادگار بنانے کے لیے، ہم سے بہت دور کھڑے دوستوں کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہوں گے۔

Facebook Comments HS