ڈی سی کا چیف جسٹس کو خط، تحریک انصاف کا ممبر اسمبلی اپنی مرضی کے پٹواری چاہتا ہے
ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد نے سرکاری معاملات میں تحریک انصاف کے چکوال این اے 64 سے ایم این اے سردار ذوالفقار علی خان کی سیاسی مداخلت پر مداخلت پر چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان اور چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے خط میں کہا گیا ہے کہ سردار ذوالفقار علی خان نے انہیں 31 اگست کو ایک سربند لفافہ بھیجا جس میں انہوں نے محکمہ مال کے 17 پٹواریوں، گرداوروں اور ریڈرز کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے متعلق کہا تھا۔ لسٹ پر ممبر اسمبلی کے دستخط بھی تھے۔
یکم ستمبر کو ممبر اسمبلی خود ان کے دفتر آئے اور ان تقرریوں اور تبادلوں پر اصرار کرنے لگے۔ تین ستمبر کو صبح انہوں نے فون کیا اور ایک پٹواری کے تبادلے کو منسوخ کرنے کا کہا۔
ڈپٹی کمشنر چکوال نے ایک معاملے کی بیک گراؤنڈ بتاتے ہوئے لکھا کہ اسسٹنٹ کمشنر چوا سیدن شاہ کی درخواست پر کہ ان کے علاقے میں محکمہ مال کے فیلڈ سٹاف کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے کار سرکار متاثر ہو رہا ہے، انہوں نے پانچ پٹواری تحصیل چکوال اور کلر کہار سے تحصیل چوا سیدن شاہ ٹرانسفر کر دیے تھے تاکہ عوام کو مشکل پیش نہ آئے۔
آج صبح سردار ذوالفقار علی نے مجھے فون کیا اور کہا کہ میں اپنے آرڈر کینسل کر دوں کیونکہ یہ ان کی خواہش کے خلاف ہیں۔ میں نے ان کو نہایت احترام سے بتایا کہ یہ تقرر و تبادلہ کرنا بطور ڈسٹرکٹ کولیکٹر میرا اختیار ہے اور عزت مآب ایم این اے کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اس لئے میں ان کی ریکمنڈیشن پر تقرریاں اور تبادلے نہیں کروں گا۔
اس پر انہوں نے مجھے دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور کہا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق تقرریاں اور تبادلے کروا لیں گے اور دیکھیں گے کہ جیت کس کی ہوتی ہے۔
انتظامی معاملات میں متعلقہ ممبر اسمبلی کی سیاسی مداخلت بلاوجہ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔
اسی لئے میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ متعلقہ ممبر اسمبلی کے خلاف بار بار انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت کرنے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔



