بس کمرے میں آ جاؤ، پوزیشن بھی ملے گی اور نوکری بھی
آج کل ہمارے معاشرے میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے سرکاری دفاتر ہوں یا پھر غیر سرکاری ادارے یا پھر اسکول کالج اور یونیورسٹیاں، کہیں پر بھی حوا کی بیٹی محفوظ نہیں ہے۔ ملک کی بیشتر جامعات جنسی ہراسائی کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ مگر شہید بے نظیر آباد کی بےنظیر بھٹو کے نام پر بنی یونیورسٹی نے بھی اپنا نام جنسی ہراسائی کے الزامات کی لسٹ میں درج کروا لیا ہے۔ جہاں پر الزامات کے مطابق اساتذہ طالبات سے موبائیل نمبر مانگنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے کمروں میں بلانا اور میل جول بڑھانا کے مطالبات کر کے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔
شعبہ انگلش کی فائنل ایئر کی پوزیشن ہولڈر طالبہ فرزانہ جمالی نے شھید بے نظیر آباد (نواب شاہ) میں پریس کانفرنس کے الزام لگایا کہ انگلش ڈیپارٹمنٹ کے ایک پروفیسر نے اسے مسلسل ہراساں کر کے اپنے کمرے میں ملاقات کرنے کا کہا اور انکار پر اسے امتحان میں فیل کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ اور اذیت کا شکار ہو چکی ہے۔
فرزانہ کے مطابق تنگ آ کر اس نے یہ بات اپنے والد کو بتائی جس پر ان کے والد وائس چانسلر ارشد سلیم کے پاس شکایت کرنے پہنچے۔ مبینہ طور پر پہلے تو وائس چانسلز نے ملنے سے انکار کردیا اور بعد میں ان کے والد سے کہا کہ وہ اس معاملے کو یہیں پر دبا دیں کیونکہ اس سے یونیورسٹی کی بدنامی ہوگی، جب فرزانہ جمالی کے والد نے وائس چانسلر کی بات ماننے سے انکار کیا تو الٹا یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کٹوا کر انہیں تھانے میں بند کروا دیا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں شور شرابا کر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔
دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبہ کی شکایت پر 3 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ پولیس کے اعلی افسر نے بھی واقعہ کا نوٹس لے کر انکوائری کا حکم صادر کر دیا ہے۔
مگر ان تمام تر نوٹسز کے باوجود مبینہ طور پر مسلسل فرزانہ جمالی کے والدین کے اوپر علاقے کے با اثر لوگ، پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کو کچھ لے دے کر رفع دفع کریں ورنہ جان لیں کہ ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔
فرزانہ جمالی اپنے گاؤں کی وہ پہلی لڑکی ہے جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ بقول فرزانہ جمالی کہ، خاندان بھر کی شدید مخالفت کے باوجود بھی ان کے والد نے انہیں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے لیے بھیجا۔ اگر ملک کی جامعات میں اساتذہ کے بھیس میں ایسے بھیڑے فرزانہ جمالی جیسی ہونہار لڑکیوں کو اسی طرح سے جنسی طور پر ہراساں کرتے رہیں گے تو پھر کون سے والدین اپنی بچیوں کو تعلیم کے حصول کے لیے ان یونیورسٹوں میں بھیجیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے جنسی ہراسائی کے واقعات صوبہ سندھ میں یونیورسٹی آف کراچی، یونیورسٹی آف سندھ جام شورو اور شاہ عبدالطیف یونیورسٹی میں ہو چکے ہیں مگر آج تک نہ ان انکوائریوں کی رپورٹس منظر نامے پر آئیں نہ ہی کسی مجرم کو سزا ملی۔ ابھی بھی ملک کی بیشتر جامعات میں ہراسمنٹ سیل برائے نام ہی بنے ہوئے ہیں اور اگر کوئی خاتون ہمت کر کے جنسی ہراسائی کی رپورٹ کسی کی خلاف درج کرا بھی دے تو انصاف حاصل کرنا تو بڑی دور کی بات یہ ثابت کرنا ہی اس کے گلے پڑ جاتا ہے کہ اسے کس طرح ہراساں کیا گیا اور کہاں کہاں پر ہاتھ لگایا اور اس کے ساتھ کیا کیا ہوا۔ جس معاشرے میں ہراسائی صرف ہاتھ لگانے کو سمجھا جائے تو ایسے معاشرے میں کمرے میں بلانا میل جول رکھنا تو ایک عام سی ہی بات ہوگی۔



