مبشر علی زیدی کی ایک ٹویٹ کے جواب میں۔۔۔۔ کیا احمدی آئین پاکستان کے باغی ہیں؟


جہاں تک یہ خیال ہے کہ احمدی آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے یہ بھی حقائق اور سچائی کے منافی ہے۔ اس ملک میں اگر کوئی کمیونٹی احمدیوں سے بڑھ کر قانون کی پابند ہے تو دکھا دیں۔ کیا احمدیہ کمیونٹی کو آپ نے کبھی بھی ملکی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ کو کرپشن، اقربا پروری، رشوت ستانی ملکی وسائل کی بربادی، انتہا پسندی، دہشت گردی ، قتل و غارت ، ملک سے غداری اور ایٹمی رازوں کی دیگر ممالک کو خفیہ ترسیل، منی لانڈرنگ ، ٹیکس چوری اور اس ملک کے دیگر جرائم میں احمدیہ کمیونٹی ملوث نظر آتی ہے۔

چلیں کمیونٹی کو چھوڑیں ان جرائم میں ملوث کتنے لوگ آج تک آپ کو احمدی نظر آئے ہیں؟ کیا کبھی احمدیوں نے اپنے جائز اور بنیادی حقوق بھی نہ ملنے پر بلکہ یکطرفہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ظلم پر بھی کبھی سڑکیں بلاک کی ہیں؟ کبھی دھرنے دیے ہیں؟ کبھی ریاست کو بلیک میل کیا ہے؟ کبھی احتجاج کے نام پر ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہے؟ اگر یہ سب کچھ آپ کو آج تک نظر نہیں آیا اور پھر بھی آپ اسے آئین کو نہ ماننا اور آئین سے بغاوت کہتے ہیں تو جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔

جہاں تک اس معاملے کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا تعلق ہے تو اس بارےمیں بھی یہ عرض ہے کہ آئین پاکستان میں کہاں لکھا ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم تو قرار دے دیا گیا ہے اب احمدی اپنے دل میں بھی اپنے آپ کو غیر مسلم سمجھیں؟ دلوں پر آئین کی حکومت نہیں ہوا کرتی اور نہ ہی کوئی قانون میرے دل کی سوچ پر میری گرفت کرسکتا ہے۔ ہاں اس آئینی ترمیم کا مقصد یہ تھا کہ ریاست پاکستان میں چند اہم آئینی عہدوں پر صرف ان مسلمانوں کو فائز کیا جائے گا جنہیں آئین پاکستان میں دی گئی تعریف کے مطابق مسلمان کہا گیا ہے۔ اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ ان عہدوں کے لئے جو مسلمان قرار پاتے ہیں احمدی ان میں شامل نہیں ہیں۔ اور اس آئینی بندوبست کی رو سے احمدی غیر مسلم سمجھے جائیں گے۔ اسی لئے جب سے یہ آئین بنا ہے۔ اس دن سے کسی احمدی نے اس نیت سے الیکشن نہیں لڑا کہ وہ ان عہدوں پر فائز ہونا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں 1974 میں جب دوسری ترمیم کے لئے پارلیمنٹ میں احمدی وفد کے ساتھ بحث جاری تھی تو پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار نے واضح الفاظ میں جماعت احمدیہ کے امام کو بتا دیا تھا کہ آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا مقصد صرف ایک رسمی کارروائی ہے جو آپ کی روز مرہ زندگی پر کسی طرح بھی اثر انداز نہیں ہوگی۔

دوسرا پہلو اس معاملے کا یہ ہے کہ آئین پاکستان کی کسی بھی شق سے بحیثیت شہری مجھے اختلاف ہوسکتا ہے۔ کسی قانون سے بھی مجھے اختلاف ہوسکتا ہے۔ اور اپنی ایک آزاد رائے رکھنا میرا بنیادی انسانی حق ہے۔ تو کیا اس صورت میں مجھے آئین یا ریاست کا باغی تصور کیا جائے گا؟ میں جناب مبشر زیدی صاحب سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کی نظر میں احترام رمضان آرڈیننس درست قانون ہے؟ اگر نہیں تو کیا آپ کو ریاست پاکستان کا باغی سمجھا جائے یا اگر آپ نے پاکستان کی شہریت لی ہے اور اپنا شناختی کارڈ بنوا لیا اور پاسپورٹ بھی بنوا لیا ہے تو کیا آپ نے یہ کام کر کے اس طرح کے قانون کا درست ہونا علی الاعلان تسلیم کرلیا ہے؟ آئین کی شق 6 میں جس بغاوت یا آئین شکنی کا ذکر ہے وہ آئین کے ساتھ وہ کھلواڑ ہے جو ضیاء الحق نے کیا تھا۔ اور ضیاء الحق کے بنائے ہوئے قوانین کو اگر آپ درست تسلیم نہیں کرتے تو آپ باغی نہیں کہلا سکتے۔ اور آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے جو تبدیلیاں حال ہی میں کی گئی ہیں وہ اسی لئے کی گئی ہیں کہ آئین میں کچھ غلطیاں تھیں۔ کچھ کمیاں تھیں۔ ان غلطیوں کی نشاندہی کرنے سے ہی تبدیلی اور بہتری آتی ہے۔ انہیں غلطی کہنا بغاوت نہیں ہوتی۔ آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔ اس میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ترمیم کیی جا سکتی ہے۔

تاہم کچھ ایسے امور ضرور ہیں جہاں احمدی خود اس مسئلے پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ امور ہیں جہاں احمدیوں کو اس بات کا حلف نامہ داخل کرنا پڑتا ہے کہ وہ اس امر کو خود تسلیم کریں کہ وہ غیر مسلم ہیں اور انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح کا سلوک احمدیوں سے ووٹ کے معاملے پر بھی کیا جاتا ہے۔ اور ایسے تمام عہدے اور خدمات جن سے احمدیوں کو دور رکھنا مقصود ہوتا ہے وہاں ایسے بیان حلفی کی شرط عائد کی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ ہر وہ خدمت جہاں احمدیوں کو انکے عقیدے سے بیزاری کے حلف نامے سے مشروط نہیں کیا جاتا وہ احمدی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اگر آپ احمدیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں تو یہ آپ کا حق ہے مگر احمدی بھی اپنے آپ کو وہی سمجھیں جو آپ انہیں سمجھتے ہیں، یہ آپ کا حق نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ احمدیوں کا فرض ہے۔ اور اگر پاکستان کا آئین احمدیوں کو غیر مسلم کہتا ہے تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا کہ احمدی اگر اس ملک کی کسی رنگ میں خدمت کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اپنے عمل سے غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2