جدید معاشرے میں اقلیت کا تصور اور پاکستان

پاکستان میں گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے جہاں ریاستی امور میں مذہبیت کو داخل کرنے کی سعی جاری ہے وہاں تاریخ اور نصاب میں من چاہی تبدیلیاں کرکے بہت سے تصورات اور ان کی اصطلاحوں کی شکل مسخ کرکے اسے وہ معنی پہنانے کی کوشش کی گئی ہے جن سے باہر کی دنیا نہ صرف لاعلم ہے بلکہ جو ممالک یا معاشرے ان تصورات اور ا اصطلاحوں کے بانی سمجھے جاتے ہیں ان کو بھی ان معنوں کی خبر نہیں جو پاکستان میں ایک اکثریت کو سمجھا دیے گئے ہیں۔

اور ان سب کے نتیجے میں بیانیے ترویج دیے گئے ہیں ان کا مقصد چند ایک طبقات کے گروہی مفادات کو مضبوط کرنا نظر آتا ہے۔ ابھی گزشتہ مضمون میں راقم الحروف نے سیکولرازم کے حوالے سے چند گزارشات کی تھیں کہ سیکولرازم کیا ہے اور پاکستان میں اسے کیا بنا دیا گیا ہے۔ آج اقلیت کے موضوع پر چند معروضات سپرد قلم کرنے کی ایک سعی ہے۔

Read more

مغرب اور پاکستان میں ریاست اور مذہب کا تعلق

آج مکرم خورشید ندیم صاحب نے اپنی تازہ تحریر میں ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق جیسے ایک پیچیدہ مضمون پر قلم اٹھایا ہے۔ اس ضمن میں سوچا کہ طالبعلم بھی کچھ گزارشات اس موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے پیش کرے۔ یہ معاملہ اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے مگر اس کو ہمارے مذہبی طبقے اور…

Read more

مبشر علی زیدی کی ایک ٹویٹ کے جواب میں۔۔۔۔ کیا احمدی آئین پاکستان کے باغی ہیں؟

احمدی کا موضوع پاکستان میں وہ شجر ممنوعہ ہے جس پر بات کرنے کےلئے آپ کو صرف اس صورت میں آزادی ہے اگر آپ ان کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں یا انہیں گالیاں دے رہے ہیں۔ اگر آپ احمدی نہیں ہیں اور غیر جانبدار رہتے ہوئے بھی احمدیوں کے بارے میں کوئی بات کرنا…

Read more