مبشر علی زیدی کی ایک ٹویٹ کے جواب میں۔۔۔۔ کیا احمدی آئین پاکستان کے باغی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمدی کا موضوع پاکستان میں وہ شجر ممنوعہ ہے جس پر بات کرنے کےلئے آپ کو صرف اس صورت میں آزادی ہے اگر آپ ان کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں یا انہیں گالیاں دے رہے ہیں۔ اگر آپ احمدی نہیں ہیں اور غیر جانبدار رہتے ہوئے بھی احمدیوں کے بارے میں کوئی بات کرنا چاہیں تو آپ کو بار بار اس بات کا اظہار کرنا پڑ سکتا ہے کہ آپ احمدی نہیں ہیں۔ وگرنہ آپ پر سب سے پہلے احمدی ہونے کا الزام لگایا جائے گا اور پھر کوئی اور بات کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر تو احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈہ کرنے اور انہیں گالیاں دینے کی کھلی آزادی ہے۔ آپ جو چاہیں بنا ثبوت احمدیوں کے خلاف کہہ سکتے ہیں۔ کوئی بھی نیا شوشہ بغیر کسی بنیاد کے ان کے خلاف چھوڑ سکتے ہیں۔ کوئی آپ سے ثبوت نہیں مانگے گا۔ کوئی آپ سے دلیل نہیں مانگے گا۔ لوگ آنکھیں بند کرکے یقین بھی کرلیں گے اور کسی بھی سازشی نظریے کو چاہے وہ عقل اور حقائق سے کوسوں دور ہو، تسلیم کرلیں گے۔

اسی قسم کا ایک یکطرفہ پراپیگنڈہ جو مسلسل احمدیوں کے خلاف ایک عرصے سے کیا جا رہا ہے کہ احمدی آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے اور خود ہی الزام دے کر خود ہی اس کا نتیجہ بھی یہ نکال لیا جاتا ہے کہ یہ آئین پاکستان کے باغی ہیں۔ پس اگر انکے خلاف دیگر اقلیتوں سے ہٹ کر کچھ زیادہ مذہبی تفریق برتی جاتی ہے تو وہ انکے آئین سے باغی ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ اگر احمدی آئین کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا غیر مسلم ہونا تسلیم کرلیں تو ان کو وہ تمام شہری حقوق دیے جا سکتے ہیں جو کسی بھی اقلیت کو پاکستان میں حاصل ہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جسکی نشر و اشاعت احمدیت کے مخالفین کی طرف سے دن رات سوشل میڈیا پر کی جاتی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس قسم کی انتہا پسندی پھیلانے والے زیادہ موثر نہیں ہیں۔ ان کے اس پراپیگنڈے کی اہمیت اس لئے بھی نہیں کہ ہر ذی شعور اور غیر متعصب انسان ذرا سی تحقیق اور عقل کے استعمال سے اس پراپیگنڈے کی حقیقت کو جان سکتا ہے۔ لیکن آج اس موضوع پر خامہ فرسائی کا موجب ایک نہایت ہی قابل اور معروف صحافی جناب مبشر علی زیدی صاحب کی ایک ٹویٹ ہوئی۔ جی وہی زیدی صاحب جن کی سو لفظوں کی کہانی لطافت، استعارہ اور اختصار میں اپنی مثال آپ ہے۔ اور ہم روزنامے میں جناب وجاہت مسعود صاحب کی تحریر چھوڑ سکتے ہیں، یاسر پیرزادہ کی تحریر کو بھی نظر انداز کرسکتے ہیں ۔ مگر سو لفظوں کی کہانی سے اغماض برتنا مشکل ہوتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں

 ’’ مجھے اس پر حیرت نہیں ہے کہ حکومت پاکستان نے ایک احمدی کو اہم عہدہ دیا۔ یہ ملک تمام پاکستانیوں کا ہے۔ جمہوریت میں تمام شہری برابر ہوتے ہیں۔ حیرت اس پر ہوگی کہ احمدی خود کو علی الاعلان غیر مسلم تسلیم کرتے ہوئے عہدہ قبول کرے گا۔ ‘‘

گویا اس پایے کا پڑھا لکھا انسان بھی اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اگر کوئی احمدی اپنے ملک پاکستان کی کسی رنگ میں خدمت کرتا ہے تو گویا علی الاعلان اپنے تئیں غیر مسلم تسلیم کرتا ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور معروف صحافی خاتون محترمہ فرحین رضوی صاحبہ نے بھی زیدی صاحب کے اس استنباط کو نہ صرف درست قرار دیا ہے بلکہ اسے بہت درست موقف قرار دیتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ایسا کرنے سے جناب عاطف میاں صاحب اپنی احمدیہ کمیونٹی کے خلاف قدم اٹھارہے ہیں۔ یہ باتیں اگر کوئی عام احمدیت مخالف کرتا تو سمجھا جا سدکتا تھا کہ سوشل میڈیا پر تو یہ سب معمول ہے ۔ مگر جب تعلیم یافتہ اور عالم لوگ بھی اس قسم کی دلیل دیں تو کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

جہاں تک اس موقف کا سوال ہے کہ کیا احمدی اگر پاکستان کی کوئی خدمت کرتے ہیں تو اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں یا احمدیہ کمیونٹی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ایک سادہ سا سوال ہے ابھی کچھ عرصہ قبل ایک ہائیکورٹ کے جسٹس صاحب نے احمدی سرکاری ملازمین بالخصوص کلیدی عہدوں پر فائز احمدیوں کی فہرستیں تیار کروائی تھیں۔ اس سے اور جو ظلم کرنا مقصود تھا وہ تو علیحدہ رہا مگر یہ تو ظاہر ہونا چاہئے کہ احمدی سرکاری ملازمتوں پر فائز ہیں۔ افسر شاہی میں بھی ہیں، عدلیہ میں بھی ہیں، افواج پاکستان میں بھی ہیں، تعلیم کے شعبے غرض زندگی کے ہر شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تو پوچھنا یہ تھا کہ کیا وہ سب یہ کام کرکے اپنے غیر مسلم ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں؟ جو ایک عاطف میاں کے کسی ملکی خدمت پر مامور ہونے سے اب کوئی انہونی ہوگئی ہے؟

دوسرا احمدیہ کمیونٹی نے کب کسی احمدی کو کہا ہے کہ ملک کی خدمت نہ کرو۔ بلکہ احمدیہ کمیونٹی تو خود ہمیشہ سے ملکی خدمات میں پیش پیش رہی ہے۔ اور اگر آپ کا خیال ہے کہ 1974 کے بعد سے احمدی خود ان خدمات سے روگردانی کر گئے ہیں تو بھی آپ کم علمی کا شکار ہیں۔ یہ ہمیشہ سے ریاست اور ریاستی اداروں ہی نے ایسی قانون سازیاں کی ہیں اور ایسے ضابطے بنائے ہیں کہ احمدیوں کو ملک کی خدمت کرنے سے روکا جائے۔  احمدی کبھی خود سے ملکی خدمات سے پیچھے نہیں ہٹے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •