عاطف میاں کا دنیائے معاشیات میں مقام و مرتبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

جس طرح امریکی معیشت کا پوری دنیا کی معیشت پر بہت زیادہ اثر ہے ویسے ہی امریکی اکنامکس پوری دنیا میں اپنا مرکزی اثر رکھتی ہے۔ اگر آپ دنیا کی تمام بڑی یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا پروفائل چیک کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ ان میں سے اکثریت امریکہ اور یو کے کی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل اساتذہ پر مشتمل ہے۔

گزشتہ صدی میں، چار واقعات ایسے ہیں جنہوں نے جدید اکنامکس کو نئی سمتیں دیں۔

اول، امریکی معیشت پر گریٹ ڈپریشن یعنی عظیم بحران کا اثر بہت زیادہ ہے۔ یہ بحران 24 اکتوبر 1929 کو سٹاک مارکیٹ کے کریش ہونے پر شروع ہوا اور پھر بڑھتا ہی چلا گیا۔ اس نے امریکہ اور دیگر اقوام مغرب میں نہ صرف معاشی بحران پیدا کیا بلکہ اکثر اکنامکس کے مؤرخین کے نزدیک اس وقت کے سیاسی پاپولزم اور فاشزم (ہٹلر و مسولینی) کا سبب بھی یہ عالمی بحران تھا کیونکہ یہ سیاسی طوفان تباہ حال معیشتوں میں آئے اور ہٹلر و مسولینی جیسے آمروں کا پہلا نعرہ ہی یہی تھا کہ ہم معیشت کو ٹھیک کریں گے۔ امریکہ میں روزویلٹ اس لئے الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوا تھا کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔

مشہور معیشت دان جان کینز نے اس بحران کو انگلیڈ میں مشاہدہ کیا۔ اس بحران کے اسباب اور اس کا حل پیش کرتے ہوئے اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے General Theory of Employment , Interest and Money ۔ اس کتاب میں اس نے اس بحران کا سبب یہ بتایا کہ جب سٹاک ایکسچینج 24 اکتوبر 1929 کو کریش کر گئی تو اس کے ردعمل میں لوگوں کا مارکیٹ پر اعتماد کم ہوا جس کے سبب صارفین نے خرچ اور سرمایہ کاروں نے سرمایہ لگانا کم کر دیا یوں بحران مزید گہرا ہوتا گیا۔ کینز کے نزدیک اس وقت مارکیٹ میں سپلائی موجود تھی مگر ڈیمانڈ نہ ہونے کے سبب مارکیٹ تباہ ہوئی۔

کینز نے بحران کا حل یہ بتایا کہ حکومت ایسی صورتحال میں جب عام پبلک مارکیٹ میں نقصان کے ڈر کے سبب خرچ نہ کر رہی ہو اور نہ ہی سرمایہ کار مارکیٹ میں سرمایہ لگا رہے ہوں تو حکومت خود ہی خرچ کرنا اور سرمایہ لگانا شروع کر دے۔ یوں جب مارکیٹ کا پہیہ چلے گا تو لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہو گا اور مارکیٹ بھی آہستہ آہستہ راہ راست پر آ جائے گی ۔ اسی تصور نے آگے جا کر مغرب میں ویلفئیر اسٹیٹ کا تصور بھی قائم کیا کہ جب حکومت بے روزگار لوگوں کو پیسے دے گی تو وہ مارکیٹ میں ان پیسوں کو خرچ کریں گے تو مارکیٹ کی مجموعی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو گا اور اس کا مجموعی طور پر بہت زیادہ مثبت اثر ہو گا ۔

کینزین تصور کو ڈیمانڈ سائیڈ اکنامکس بھی کہتے ہیں جو ہر معاشی مسئلہ کا حل ڈیمانڈ اور خرچ بڑھانا قرار دیتی ہے اور خسارے کی بجٹ پالیسی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔ گریٹ ڈپریشن کے 1939 میں خاتمے کے بعد اس تصور کو بہت زیادہ پذیرائی ملی اور اہل مغرب نے اسے مکمل طور پر قبول کر لیا ۔

دوسرا بڑا واقعہ ستر کی دہائی میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں بے حد اضافہ تھا جس نے امریکی معیشت میں بحران برپا کر دیا تھا اور اس بحران کے خاتمے میں کینزین فارمولے ناکام رہ گئے- اس بحران کو گریٹ انفلیشن (عظیم مہنگائی) بھی کہا جاتا ہے۔ کینزین تصور کو 1963 میں ملٹن فریڈمین نے اپنی کتاب A Monetary History of the United States, 1867۔1960 میں چیلنج کیا اور گریٹ ڈپریشن کے اسباب پر کینز سے شدید اختلاف کیا ۔

فریڈمین کے نزدیک 1929 کا سٹاک مارکیٹ بحران ایک عام سا بحران تھا جسے آسانی سے سنبھالا جا سکتا تھا مگر امریکی مرکزی بنک (فیڈرل ریزرو ) کی غلطیوں کے سبب یہ بحران پھیلتا چلا گیا۔ ان غلطیوں میں فریڈمین کے نزدیک بڑی غلطی منی سپلائی (مارکیٹ میں کرنسی کی سپلائی ) کو بہت ہی کم کر دینا تھا ۔ ملٹن کے نزدیک بحران کی صورتحال میں لازم ہے کہ کرنسی کی رسد بڑھائی جاتی تاکہ شرح سود کم ہوتی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا۔

یہ کتاب جنرل پبلک اور پالیسی سازوں کی فوری طور پر توجہ تو حاصل نہ کر سکی مگر ستر کی دہائی میں جب گریٹ انفلیشن (عظیم مہنگائی ) نامی بحران آیا اور کینزین فارمولا ناکام ہوا تو ملٹن فریڈمین کے فارمولے کو ہی کام میں لایا گیا جو کامیاب ہوا ۔ یوں دنیا بھر کی مرکزی بنکوں نے اپنی بنیادی پالیسیوں کو بدل کر Monetarism کو اپنی پالیسیز کا مرکزی تصور بنا لیا ۔

 اسی طرح عالمی معیشت اور عالمی اکنامکس کے لئے تیسرا بڑا واقعہ دیوار برلن اور سوویت یونین کے انہدام کا تھا جس کے بعد فری مارکیٹ کے نظام کو پزیرائی ملی اور پوری دنیا میں اکنامک لبرلائزیشن کا آغاز ہوا ۔ اس واقعہ سے بھی ملٹن فریڈمین اور اس کے ہم خیال معیشت دان فلسفی فریڈرک ہائیک کے تصور کو مزید پزیرائی ملی جو ایک عرصے سے مسلسل کہتے چلے آ رہے تھے کہ سوشلزم اور کمیونزم بطور نظام آخرکار اپنے اندرونی تضادات کے سبب منہدم ہو جائیں گے۔

عالمی معیشت میں چوتھا بڑا واقعہ عالمی مالیاتی بحران ہے جب پہلے 2007 میں ایک انویسٹمنٹ بنک Lehman Brothers بحران کی نذر ہوئی اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے دوسرے انویسٹمنٹ بنک، انشورنس کمپنیاں اور دیگر فنانشل ادارے بشمول سٹاک ایکسچینج ڈوبتے چلے گئے۔ یہ ایسا زوردار بحران تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ سارا عالمی مالیاتی نظام چند گھنٹوں میں ہی بکھر جائے گا۔ بعض معیشت دانوں کے نزدیک اس بحران کے نتیجے میں ہی مغرب کے سیاسی نظام میں پاپولزم نے گریٹ ڈپریشن کے بعد دوبارہ سراٹھایا ہے ۔ اس بحران کو بڑی حد تک Monetarism کی اکنامکس نے ہی حل کیا جس میں سستے قرض اور مالیاتی آسانی (Monetary easing ) کی پالیسیوں کا کردار سب سے اہم ہے ۔

اگرچہ اس وقت امریکی معیشت عروج ( Boom ) پر ہے مگر معیشت دان اب تک اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ آخر یہ بحران کیوں آیا اور اس کا سب سے بہتر حل کیا تھا ؟ اس سوال کے جواب کی عاطف میاں اور عامر صوفی نے جستجو کی اور اس پر ایک کتاب لکھی House of Debt جس میں یہ بحث کیا گیا کہ آخر 1929 میں گریٹ ڈپریشن اور 2008 میں عالمی مالیاتی بحران کیوں آئے اور ہم انہیں دوبارہ برپا ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں ۔

اس کتاب نے پوری دنیا کے معیشت دانوں کو حیران کر دیا ہے اور ان دونوں معیشت دانوں کو عالمی سطح پر بہت پزیرائی ملی ہے ۔ اس مضمون کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ لکھنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ہم سمجھ سکیں کہ وہ موضوع جس پر ان دونوں معیشت دانوں نے کام کیا ہے اس کی دنیا بھر کی اکنامکس میں کتنی اہمیت ہے۔ عاطف میاں پرنسٹن یونیورسٹی میں اکنامکس پڑھاتے ہیں جبکہ عامر صوفی یونیورسٹی آف شکاگو میں فنانس کے استاد ہیں ۔ دونوں ادارے امریکہ میں ٹاپ کے ادارے ہیں ۔

دونوں نوجوان معیشت دانوں کے نزدیک ملٹن فریڈمین کا نکتہ نظر درست تھا کہ گریٹ ڈپریشن ایک عام سا بحران تھا جسے آسانی سے حل کیا جا سکتا تھا مگر فیڈرل ریزرو کی ناکام پالیسیوں کے سبب یہ پھیلتا چلا گیا ۔ مگر یہ دونوں گریٹ ڈپریشن اور 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے اسباب اور اس کے حل پر کینز اور فریڈمین سے اتفاق نہیں کرتے ۔

ان کے نزدیک ان دونوں بحرانوں کا اول سبب ایک چھوٹا سا عام سطح کا معاشی بحران تھا (جو میری رائے میں بزنس سائیکل کے تحت مارکیٹ میں عمومی طور پر آتے رہتے ہیں ) جس کے سبب اول کم درجے کی بے روزگاری پیدا ہوئی، اس بے روزگاری کے سبب کچھ لوگ اپنے قرض پر لئے گئے گھروں کی قسطیں واپس نہ کر سکے (یہ ایک عام سی بات ہے کہ امریکہ میں گھر اور دیگر قیمتی اخراجات کے لئے بنکوں سے قرض لینے اور قسطوں کی صورت میں واپسی کا رجحان بہت ہی زیادہ ہے ) اور نئے گھروں کی خریداری کے رجحان میں بھی کمی آئی جس سے گھروں کی قیمتوں کی مارکیٹ پر منفی اثر پڑا، بنکوں نے قسطوں کی وصولی میں مشکلات کے سبب مزید قرض دینے کی پالیسی کو سخت کیا جس سے ہاؤسنگ مارکیٹ پر مزید منفی اثر پڑا اور گھروں کی فنانشل ویلیو (Equity ) کم ہوتی گئی، اس مجموعی صورتحال کا لوگوں کے اخراجات (Consumption ) پر منفی اثر پڑا جس نے مارکیٹ میں مجموعی ڈیمانڈ (Aggregate Demand ) کم کر دی، کم ڈیمانڈ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا، اور بے روزگاری سے ہاؤسنگ مارکیٹ کو مزید نقصان ہوا …..

یوں پوری معیشت ہی بے روزگاری، قسطوں کی ادائیگی میں ناکامی یعنی دیوالیہ پن، ہاؤسنگ مارکیٹ اور گھروں کی فنانشل ویلیو (Equity ) میں کمی، اخراجات اور مجموعی ڈیمانڈ میں کمی، اس کا بے روزگاری پر مزید منفی اثر کے تباہ کن گرداب میں پھنس کر رہ گئی۔ اس صورتحال میں عاطف میاں اور عامر صوفی کے مطابق حکومت کو پرائیویٹ مالیاتی اداروں کے بجائے ان بے روزگار شہریوں کی فوری مالی مدد کرنی چاہئے تھی جن کے گھر کی فنانشل ویلیو (Equity ) میں کمی کے سبب ان کی قوت خرید کم ہوئی اور وہ مارکیٹ کو اپنے اخراجات کی مد میں سپورٹ نہ کر سکے ۔

عاطف میاں اور عامر صوفی دونوں تجزیاتی (Empirical ) اکنامکس کے بہت بڑے ماہر ہیں ۔ اپنے مقدمے کے ثبوت میں انہوں نے بہت سارا ڈیٹا پیش کیا ہے جسے مختلف طریقہ کار سے بار بار ٹیسٹ کیا گیا ۔ ڈیٹا اور تجزیاتی طریقہ کار کا کام اتنا مضبوط اور مکمل ہے کہ اس پر کوئی مضبوط تنقید اب تک سامنے نہیں آئی ۔ 2015 میں یہ کتاب سامنے آئی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی پزیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عاطف میاں کا مستقبل میں کیا مقام بننے جا رہا ہے جو کہ پہلے ہی دنیا کے بیس نوجوان معیشت دانوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ قوی امکانات ہیں کہ عاطف میاں اکنامکس کے ڈاکٹر عبدالسلام (یا اس سے بھی بڑھ کر ہیں) اور ان کا کام مستقبل کی معاشی منصوبہ بندیوں میں بہت زیادہ کارآمد ثابت ہو گا ۔ عاطف میاں کے لئے پاکستان کی اکنامک ایڈوائزری کونسل میں شمولیت کوئی بڑا عہدہ نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں یہ مقام دے کر ہم پاکستانی اپنا سر اونچا کر رہے ہیں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 152 posts and counting.See all posts by zeeshan