انڈا بڑا ہے


ننھیال میں جہاں زمین تھی گھر بھی وہیں تھا۔ بھائی سویرے اٹھ کر نکل جاتا درختوں کی ٹنڈ کرتا کبھی کپاس کے پودے کی خشک جھاڑیاں اکٹھی کرتا۔ کسی کھالے کے کنارے اپنا اک گھر بناتا۔ روز ہی ٹیوب ویل چلتا تھا۔ اکثر جہاں گھر بنایا ہوتا اسی کھالے میں پانی آ جاتا۔

دو گھر تڑوا کر پانی میں بہا کر فیصلہ کیا کہ بھائی بھی تو اک پرندہ ہے۔ اب درخت پر اپنا گھونسلہ بنائے گا۔ ورنہ یہ دنیا جینے نہیں دے گی۔ جو ٹاہلی کا درخت منتخب کیا وہ کھیت کے درمیان اور ڈیرے (دنیا) سے کافی دور تھا۔ کسی کھالے کے پانی سے اسے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ کھیت میں تازہ ہل چلا ہوا تھا۔

درخت پہ چڑھ گیا اس کی شاخوں کا جائزہ لیتا رہا۔ کئی بار اترا کئی بار چڑھا، سمجھ نہ آوے کہ کسی شاخ پر گھر بنے گا اور کیسے۔ ٹارزن یاد آ گیا۔ کلہاڑی سائیڈ پر رکھی۔ ایک شاخ کے ساتھ لٹک کر جھولنا شروع کر دیا۔ دو اک جھولے لے کر سمجھ آئی کہ یہ کام مشکل ہے۔

دوبارہ ہمت کر کے اوپر شاخ پر چڑھ کر بیٹھنا چاہا تو پتہ لگا کہ یہ کام بھی مشکل ہے، نہیں ہونے کا۔ نیچے دیکھا تو زمین بھی کافی دور تھی۔ ابھی غور فکر کرنا تھا کہ شاخ سمیت سیدھا نیچے آ کر گرا۔ پہلے لینڈنگ ہوئی۔ پھر گھٹنے منہ کو لگے۔ پھر گرا اوپر وہ شاخ گری جس کے ساتھ لٹکا وا تھا۔

اب کلہاڑی اوپر رہ گئی تھی۔ وہ اتاری یہ اتنا سارا جھاڑ کھینچتا ہوا گھر گیا۔ دھول اڑ اڑ کر مٹی سے بھر گیا۔ گھر پہنچا تو وہ ماما جو دن میں چھتیس گھنٹے گرم رہتا تھا اس سے سامنا ہوا۔ کافی ٹکا کر بزتی کرائی اپنیاسی مامے سے۔ وہ پوچھتا رہا کہ پیچھے سارے مٹی سے بھرے ہو۔ منہ ( ویسے بوتھا بولا تھا ) کس سے بھنوایا ہے وہ بھی اس ڈیزائن سے۔ دونوں گالوں پر گوڈے جو لگے تھے تو نشان بھی پڑ گئے تھے۔

نانی نے آ کر چھڑایا ٹیوب ویل پر بھیج کر دھلوایا۔ انڈا بنوا کر دعوت سی کی۔ کھانا کھاتے رونے آئے۔ کلہاڑی کا دستہ مضبوط پکڑا کہ نہ یہ ماما چھوڑنا ہے نہ ٹاہلی۔ بہت بعد میں پشاور اک تایا نے اپنا قصہ سنایا ایسا سا ہی۔ جس کے آخر میں بزتی والی خواری کے بعد انہیں بھی کھانے کو انڈا ملتا ہے۔ روٹی کھاتے وہ رونے لگتے ہیں۔

ان کی نانی پوچھتی بیٹا کیوں رو رہے ہو تو بیٹا یعنی تایا کہتے ہیں کہ بی بی اے آنڈا وڈا وا۔ یہ انڈا بڑا ہے۔ درخت کاٹنے کا بھی شوق ہو محبت کلہاڑی سے بھی ہو تو بھی درخت اتنے ضرور لگائیں کہ پھر کاٹنے کو چڑھنے کو چڑھ کر گرنے کو مل جائیں۔

جب الٹ پلٹ کر بیٹھیں سب کچھ۔ کوئی گلے سے لگا دھو دھلا کر روٹی کھلا دے۔ تو رونا بھی پھر لازمی آتا ہے۔ تب جب رونا آئے تو رو لیں بھلے یہی کہنا پڑے کہ بی بی آنڈا وڈا وا۔


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi