” کُتّا بچّہ ” فراہم کردیا گیا ہے؛ جیو کے اینکر کا مذاق کیوں اڑایا گیا؟


”برطانوی فوجیوں کو خود کشی کی روک تھام کیلئے رہنما

پاکستان کے نیوز چینلز کا اکثر مواد براہ راست نشر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے غلطیوں کا احتمال رہتا ہے ، بعض اوقات اینکرز ایسے ایسے بلنڈر کرجاتے ہیں جو لوگوں کیلئے بھرپور تفریح کا باعث بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ جیو نیوز کے اینکر علی انیق سید کے ساتھ بھی ہوا جو کِتابچہ کو ’کُتّابچّہ‘ پڑھ گئے جس کے باعث سوشل میڈیا پر ان کا خوب مذاق اڑایا جارہا ہے۔

خبر برطانوی فوجیوں کو خود کشی کی روک تھام سے روکنے کے لیے فراہم کیے گئے کتابچے سے متعلق تھی۔ اینکر علی انیق سید نے جب اس خبر کا اوسی (آن کیمرہ) پڑھا تو کتابچہ کو کُتابچّہ پڑھ گئے۔ ’برطانوی فوجیوں کو خود کشی کی روک تھام کیلئے رہنما ’کُتا بچّہ‘ فراہم کردیا گیا ہے‘۔ ایک بار کی غلطی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن موصوف جب وائس اوور پڑھ رہے تھے تو اس دوران بھی انہوں نے اسے کُتّابچّہ ہی پڑھا جس کے باعث سوشل میڈیا پرہنسی کا طوفان آیا ہوا ہے۔

اینکر پرسن اجمل جامی نے اینکر کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ علی انیق سید ان کا ہم جماعت ہے جس سے غیر ارادی غلطی ہوگئی ہے، نائٹ شفٹ میں ایسے لطیفے ہوتے رہتے ہیں۔

اداکار عدیل ہاشمی (تین بٹا تین کے لُوسی) نے علی انیق سید کی حوصلہ افزائی کی اور کہا ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، یہ منفرد لفظ تھا جو ہم عمومی طور پر استعمال نہیں کرتے ، اس لیے پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔

شادی کے بعد صحافت سے کنارہ کش ہونے والی خاتون اینکر عائشہ خالد نے کہا کہ اس طرح کی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اس لیے ہمیں اپنے کام پر دھیان دینا چاہیے اور جو ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم ایسی غلطیوں کا لطف اٹھائیں اور آئندہ محتاط رہیں۔ عائشہ خالد نے مزید لکھا کہ بعض اوقات کتابچہ، کُتابچّہ، گھُٹنہ، گھَنٹہ اور مُبِینہ ٹاﺅن ، مُبَیّنہ ٹاﺅن پڑھا جاتا ہے۔

اینکر پرسن جمیل فاروقی نے مطالبہ کیا کہ علی انیق سید کو کتابچہ یعنی Booklet اور کتابچہ یعنی کتے کا بچہ کا فرق ختم کرکے ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے اس لیے اسے پاک و ہند کے بہترین نیوز اینکر کا خطاب ملنا چاہیے۔

آج نیوز کے اینکر حافظ اویس نے اس سنگین غلطی کا ذمہ دار نائٹ شفٹ کو قرار دیا اور کہا کہ انسان سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن جنگ اور جیو سے بغض کے باعث ایک محنتی انسان کا کیریئر خراب کیا جارہا ہے۔

اردو شاعر نعیم ضرار نے وفاقی وزیر اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ نئے پاکستان میں قومی زبان کا یہ حال نہیں ہونا چاہیے۔

تیمور شاہ نے عمران خان اور نعیم الحق کی لیجنڈ تصویر کا سہارا لیتے ہوئے کُتابچہ کے قُضیے کو بیان کیا۔

ندیم اعوان نے لکھا ” بہت ہوگئی بیچارے کی ، اب اس کے سامنے کُتّابچّہ بھی آگیا تو اسے کِتابچَہ ہی پڑھے گا“۔

Facebook Comments HS