نیا پاکستان کچھ لوگوں پر ذہنی تشدد کر رہا ہے
استاد جی جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے ہم نے یک زبان ہو کر ان کو سلام کیا، جس کا جواب انھوں نے خلافِ معمول بہت مسکرا کر دیا۔ برابر میں بیٹھے علی نے مجھے زور سے ٹہوکا دیا اور کہا کہ لگتا ہے، آج صبح استاد جی کو ان کے بیوی سے ڈانٹ نہیں پڑی۔ یہ سن کر میری اور علی کی ہنسی چھوٹ گئی اور حیران ہونے والی بات سب سے بڑی یہ تھی کہ استاد جی نے بالکل برا نہیں مانا اور بدستور مسکراتے رہے۔ آج کے دن میں ہمارے لیے یہ دوسرا بڑا جھٹکا تھا۔
پھر ہمارا پہلا پیریڈ شروع ہوگیا اور معمول کے مطابق ہم نے پھر سے زور زور سے ہل ہل کر پڑھنا شروع کر دیا۔ آج بھی روز کی طرح سبق سنا گیا۔ اسی طرح سبق دیا گیا لیکن آج غلطی کرنے پر کسی کو مار نہیں پڑی نا ہی کسی کو استاد جی نے جھڑکا۔ میں اور علی تو بار بار اپنی ٹوپی درست کرتے اور بار بار آنکھیں ملتے کہ کہیں یہ کوئی خواب تو نہیں۔ پورا دن اسی کش مکش میں گزر گیا اور ہماری چھٹی کا وقت ہوگیا۔
جانے سے پہلے استاد جی نے مجھے کہا کہ عثمان میری چھڑی لے کر آؤ! میری تو مانو سانس حلق میں اٹک گئی کہ لو عثمان آج سارا غصہ تجھ پہ ہی اترے گا۔ میں من ہی من بڑبڑایا اور استاد جی کی وہ ٹیپ میں لپٹی موٹی چھڑی کانپتے ہاتھوں سے انھیں تھمائی اور فوراً ہی خوف سے دو قدم پیچھے بھی ہوا۔ سب کی نظروں میں لمحوں میں چھٹی کی خوشی کی جگہ مار کے خوف نے لے لی تھی۔ ہر سو سناٹا چھا گیا کہ ہمیں ایک دوسرے کی سانسوں کی تیز روانی ا ور ہمارے اندر چلنے والے جھکڑ تک سنائی دے رہے تھے۔
پھر استاد جی نے دو قدم آگے بڑھائے اور چھڑی کے دونوں کونے تھام کر اسے بیچ میں سے توڑ ڈالا اور ہمارے منہ اور آنکھیں کچھ اس طرح سے پھٹیں، کہ استاد جی بھی تھوڑی دیر کے لیے جز بز ہو گئے، لیکن پھر انھوں نے کہا کہ آج سے ہم جو بھی کچھ پڑھیں گے، محبت اور دوستانہ ماحول میں پڑھیں گے۔ یہ بات سن کر اور استاد جی کے حرکات و سکنات سے مجھ سمیت سارے ہی بچوں کو ان کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا، لیکن ہم سب بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر اس وقت گھر کی طرف چل دیے۔
میں اور علی ایک ہی محلے کے رہنے والے تھےاور ایک اچھے پڑوسی بھی، ہماری دوستی بچپن ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی تھی، اور وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔ مدرسے سے واپسی پر ہم دونوں ہی پریشان تھے کہ آخر استاد جی کو ہوا کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی یاد داشت چلی گئی ہو۔ لیکن یہ سب مفروضے تھے اور پھر میں نے اور علی نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اصل وجہ معلوم کرنا پڑے گی۔ اگلی صبح وہی روز جیسا ماحول تھا لیکن بس وہی ایک بات مجھے اور علی کو پریشان کیے جا رہی تھی کہ آخر استاد جی کو ہوا کیا ہے؟ اور اسی خیال میں آج سبق سنانے میں میری دو اٹک آئی لیکن استاد جی نے گھور کر دیکھا اور مسکرا کر پیار سے گال تھپتھپاپا اور میرے تو مانو ہوش ہی اڑ گئے، کہ ان کا اٹھا ہاتھ آخر اتنے ضبط کے ساتھ واپس کیسے پلٹ گیا۔
روز دن گزرتے گئے اور معمول بھی، ویسا ہی چلتا گیا۔ استاد جی کے چہرے پر مسکراہٹ تو ہوتی تھی لیکن آنکھوں میں نفرت پہلے جیسی تھی۔ ان کے لب اور آنکھیں دونوں الگ الگ داستان سناتی تھیں۔ دن بہ دن ہمارے اضطراب میں اضافہ ہوتا چلا گیا، ہم سب کی سبق پڑھنے کی رفتار وہی تھی لیکن اب ذہن ہر وقت اسی بات پر اٹکا رہتا کہ کہیں ایسا نہ ہو یہ خاموشی ایک بڑے طوفان کا اشارہ ہو۔
ایک دن میں اور علی مدرسے سے نکلے تو کچھ دیر مدرسے کی گلی ہی میں کرکٹ کھیلتے بچوں کو دیکھنے کے لیے رک گئے۔ مغرب کا وقت قریب ہونے لگا تو ہم نے گھر کی جانب دوڑ لگائی لیکن مدرسے کے در وازے پر استاد جی کو کھڑا دیکھ کر رک گئے اور دیکھا کہ وہ غصے میں بڑبڑا رہے ہیں اور اپنے ہاتھ دیوار سے رگڑ رہے ہیں۔ ہم نے ان کی یہ عجیب حرکت دیکھی تو ہمت کر کے ان سے وجہ پوچھی۔ وہ غرائے، میں اور علی دونوں ہی دو قدم پیچھے ہٹ گئے اور انھیں دیکھنے لگے کہ تھوڑی دیر پہلے وہ جن استاد جی سے سبق لے کے نکلے تھے، یہ تو وہ ہیں ہی نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ خوف ناک ہو گئے ہیں۔
ہم پر دوبارہ دھاڑے تو میں اور علی الٹے پیر بھاگے لیکن ان کا یہ جملہ میرے کانوں میں پڑا، ”اس نئے پاکستان نے مجھے ذہنی اذیت کا شکار کر دیا‘‘۔ گھر پہنچنے پر پتا چلا کہ نئے پاکستان میں تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد پر پابندی ہوگی اور تب مجھے سمجھ آیا کہ استاد جی پر اب ذہنی تشدد ہو رہا ہے، اور ان کی آنکھیں اور لبوں کی مسکراہٹ آخر میل کیوں نہیں کھاتی! کہ ہم تو ویسے ہی ظاہری چمک کہ غلام ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ذہنی تشدد آخر کب تک جسمانی تشدد پر حاوی رہتا ہے۔


